MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تیرا ساتھ ستاروں جیسا

Tera Satrh Sitaroo Jaisa غزل تیرا ساتھ ستاروں جیسا پھولوں کی مہکاروں جیسا تیری دوری کا ہر لمحہ ہر لمحہ انگاروں جیسا تیری یاد فضاؤں جیسی تیرا قرب بہاروں جیسا تیرا لہجہ سندر سندر دریاؤں کے دھاروں جیسا زرغونے میں سچ کہتی ہوں تیرا عشق خماروں جیسا زرغونہ خالد Zarghoona Khalid

تیرا ساتھ ستاروں جیسا Read More »

دھرتی کو گلزار بنانے والی ہوں

Dharti ko Gulzaar Banany wali hoon غزل دھرتی کو گلزار بنانے والی ہوں ہر جانب میں پھول اگانے والی ہوں دنیا چاہے لاکھ رکاوٹ بھی ڈالے کشتی کو میں پار لگانے والی ہوں مجھ سے ملنا سوچ سمجھ کے تم ملنا میں آنکھوں سے نیند چرانے والی ہوں پھولوں کو بھی خوشبو دان کروں ہوں

دھرتی کو گلزار بنانے والی ہوں Read More »

ایسے حالات میں کب کوئی سہارا ہوتا

Aysay Halaat Main Kab koi Sahara Hota غزل ایسے حالات میں کب کوئی سہارا ہوتا ہم جو اپنے نہ ہوئے کون ہمارا ہوتا ڈوبتی ناو نہ اپنی کبھی منجدھار کے بیچ فالتو بوجھ اگر پہلے اتارا ہوتا جاں بھی دے دیتے بہت پہلے تمہاری خاطر تم نے دل سے جو کبھی ہم کو پکارا ہوتا

ایسے حالات میں کب کوئی سہارا ہوتا Read More »

ہم جب اک بار تیرے رخ کی جھلک دیکھتے ہیں

Ham jab Ik baar Teray Rukh ki jhalak dekhty Hain غزل ہم جب اک بار تیرے رخ کی جھلک دیکھتے ہیں دیر تک لوگ ان آنکھوں کی چمک دیکھتے ہیں اب خزاؤں کے تسلط میں یہ مرجھائے ہوئے لوگ آپ کے ساتھ بہاروں کی کمک دیکھتے ہیں ڈوب جاتے ہیں سب آواز کی شیرینی میں

ہم جب اک بار تیرے رخ کی جھلک دیکھتے ہیں Read More »

دل میں یوں جھانکنے کا شکریہ

Dil Main youn Jhanknay Ka Shukria غزل دل میں یوں جھانکنے کا شکریہ ٹوٹ کر ،چاہنے کا ،شکریہ یہ زمانہ گرا رہا تھا ہمیں آ کے خود تھامنے کا شکریہ دل کو دل میں بسانے کی خاطر دل سے دل مانگنے کا شکریہ سچ کے معیار پر ہمیں پل پل پرکھنے ،جانچنے، کا شکریہ آج

دل میں یوں جھانکنے کا شکریہ Read More »

دور دل کا ملال کرتے ہیں

Door Dil Ka Malal Karty Hain غزل دور دل کا ملال کرتے ہیں سلسلے سب بحال کرتے ہیں دل کو پھر پائمال کرتے ہیں خود کو یوں لازوال کرتے ہیں نیت وصل باندھ لیتے ہیں آرزوئے وصال کرتے ہیں راستے میں بچھے رہیں کب تک نین میرے سوال کرتے ہیں اور کوئی بھی کر نہیں

دور دل کا ملال کرتے ہیں Read More »

درد ہو یا غم عطا ہو کچھ تو ہو

Dard Ho Ya Gham Atta ho kuch to ho غزل درد ہو یا غم عطا ہو کچھ تو ہو یا خوشی کی انتہا ہو کچھ تو ہو گھٹ رہا ہے دم دریچہ کھول دو تھوڑی سی تازہ ہوا ہو کچھ تو ہو پھر وہی لطف و کرم درکار ہے عارضی یا دیر پا ہو کچھ

درد ہو یا غم عطا ہو کچھ تو ہو Read More »

جب میرے قبیلے کے تمہیں لوگ ملیں گے

Jab Meray Qabeelay kay tumhain Log milain Gay غزل جب میرے قبیلے کے تمہیں لوگ ملیں گے آنکھوں میں بسیں گے تو کبھی دل میں رہیں گے آؤ تو ذرا دیکھو وفا زادوں کی بستی ہر کوچے میں یاں لوگ وفادار ملیں گے اک پریم کی دیوی تھی جو کہلاتی تھی سسی اس نام سے

جب میرے قبیلے کے تمہیں لوگ ملیں گے Read More »

دیارِ درد کے صحرا کو پار کر لوں گر

دیارِ درد کے صحرا کو پار کر لوں گر ملے گا کیا جو ترا اعتبار کر لوں گر ہوا چراغ بجھانے کے پھر سے درپے ہے میں ہاتھ جوڑ کے ان کو حصار کر لوں گر عجب ہے حال مرا اس کے وار سہہ سہہ کر میں مرتے مرتے بھی اک بار پیار کر لوں

دیارِ درد کے صحرا کو پار کر لوں گر Read More »

اس کو کیسے سمجھوں یارو کتنا وہ پیچیدہ ہے

اس کو کیسے سمجھوں یارو کتنا وہ پیچیدہ ہے میں دیکھوں تو ہنس دیتا ہے ویسے وہ سنجیدہ ہے میری آنکھوں میں وہ چھپ کر سب سے ہی چھپ جاتا ہے دل میں میرے رہتا ہے اور لوگوں سے پوشیدہ ہے نیند سے جاگی سوئی آنکھیں مجھ کو پاگل کرتی ہیں جاگتے دیکھوں اس کا

اس کو کیسے سمجھوں یارو کتنا وہ پیچیدہ ہے Read More »