MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

حسن ِ صبحِ جمال مٹی میں

حسن ِ صبحِ جمال مٹی میں جانِ غزل ِ غزال مٹی میں دیکھ لینا عروج کا معنی پھر دبانا زوال مٹی میں اس کی سب مرضیوں پہ چلتے ہیں میرا اک اک خیال مٹی میں اگ رہا روشنی کا انگارا کس نے بویا جلال مٹی میں آسماں تُو تو اک طرف ہو جا عرش کے […]

حسن ِ صبحِ جمال مٹی میں Read More »

رکھتا نہیں ہوں ساتھ میں اپنے خراب دوست

رکھتا نہیں ہوں ساتھ میں اپنے خراب دوست سب کو وگرنہ چاہیئے مجرا شباب دوست اک وقت تھا کہ میرے تعاقب میں چل دیئے مستی بھری حسین کہانی شراب دوست سب پوچھتے رہے کہ ترا کون ہے یہاں میں نے کہا کہ کوئی نہیں بس جواب دوست آتے نہیں کام ۔ مصیبت میں بھی کبھی

رکھتا نہیں ہوں ساتھ میں اپنے خراب دوست Read More »

اس کی تمثیل کہاں اس کا تو ثانی بھی نہیں

اس کی تمثیل کہاں اس کا تو ثانی بھی نہیں یعنی بےربط رہے ربطِ زمانی بھی نہیں میرے اقرار میں شامل وہ صحیفے جیسا اور انکار میں وہ شخص زبانی بھی نہیں زرد چہرے سے ہی اندازہ لگا حالت کا اس کی گٹھڑی میں کوئی شام سہانی بھی نہیں درد انجام تلک لے کے تو

اس کی تمثیل کہاں اس کا تو ثانی بھی نہیں Read More »

اسے کہنا محبت کے خسارے کچھ نہیں کہتے

اسے کہنا محبت کے خسارے کچھ نہیں کہتے اشاروں میں کرو باتیں اشارے کچھ نہیں کہتے سنو بوڑھے درختوں کی حفاظت بھی ضروری ہے وہ اپنی عمرِ آخر میں ہیں سارے کچھ نہیں کہتے طلب جن کی محبت ہو جنھیں ملنا۔کسی سے ہو انہیں پھر راہ میں بکھرے شرارے کچھ نہیں کہتے سمندر کا یقیں

اسے کہنا محبت کے خسارے کچھ نہیں کہتے Read More »

برونِ ذات کثافت ہزار شیشہ بدن

برونِ ذات کثافت ہزار شیشہ بدن نظر نظر سے نا خود کو گزار شیشہ بدن یہ اعتراف کا منظر تو خواہشوں سے بھرا نہ اپنی زلف کو ایسے سنوار شیشہ بدن یہ حسن رنگ جوانی نہیں رہے باقی گھڑی دو پل کی ہے باقی بہار شیشہ بدن پرائی آگ میں جلتا ہوا رہے جیون نہ

برونِ ذات کثافت ہزار شیشہ بدن Read More »

دو چار دنوں سے یونہی بےکار پڑے ہیں

دو چار دنوں سے یونہی بےکار پڑے ہیں یوں ساکت و جامد ہیں کہ کہسار پڑے ہیں آنا ہے تو آجاؤ مجھے دید ملے گی اس دید کی خاطر ہی تو بیمار پڑے ہیں کیا نام تمہارا ہو یہاں راہِ سخن میں اک ایک سے بڑھ کر یہاں فنکار پڑے ہیں اس قوم کا رب

دو چار دنوں سے یونہی بےکار پڑے ہیں Read More »

پہلے پہل تو سر پہ اٹھاتے ہیں لوگ بس

پہلے پہل تو سر پہ اٹھاتے ہیں لوگ بس پھر آنسوؤں کے ساتھ رلاتے ہیں لوگ بس دکھ سن کے کب کسی کے انہیں دکھ ذرا بھی ہو دکھ درد اپنے سب کو سناتے ہیں لوگ بس شامِ غمِ فراق سے جلتا رہے بدن اس دردِ لا دو ا کو بڑھاتے ہیں لوگ بس خوشبو

پہلے پہل تو سر پہ اٹھاتے ہیں لوگ بس Read More »

سوا غیر کے تیرا چارہ نہ تھا

سوا غیر کے تیرا چارہ نہ تھا مرا بھی ترے بن گزارہ نہ تھا ترا شوق تھا صرف شہرت تری مری آبرو کو گوارہ نہ تھا ذرا یاد ہو ہاتھ تھا ماتھا ترا مگر تم سے مانگا سہارا نہ تھا سفر پر تھے ہم ایک جیسے مگر تجھے زندگی نے پکارا نہ تھا میں مہ

سوا غیر کے تیرا چارہ نہ تھا Read More »

غمِ زندگانی سے دامن چھڑا کر

غمِ زندگانی سے دامن چھڑا کرچلا کوٸی اپنی جوانی بِتا کر جوانی سے بھَرپُور ہیں آجکل وہزمانے سے رکھنا ہے اُن کو بچا کر ہمٸیں رازِ ہستی سے واقف تھے لیکنکسی نے نہ دیکھا ہَمیں آزما کر تواتُر سے خوابوں میں آنے لگے ہیںقرار آیا نہ اُن کو ہم کو بھلا کر گِرا منہ کے

غمِ زندگانی سے دامن چھڑا کر Read More »

وہ دفعتاََ کہیں سے سرِ شام آ گیا

وہ دفعتاََ کہیں سے سرِ شام آ گیاپُونم کا چاند جیسے لبِ بام آگیا اُترے خلا نورد جو نہی ماہ تاب پرتسخیرِ کاٸنات کا پیغام آ گیا چاہا تھا ایک جُرعہءِ مے دستیاب ہوساقی اُٹھا کے ہاتھ میں دو جام آگیا رسواٸی کا سبب تو کوٸی اور لوگ تھےھم پر تو خواہ مخواہ کا الزام

وہ دفعتاََ کہیں سے سرِ شام آ گیا Read More »