MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

درد میں جب کمی سی ہوتی ہے

درد میں جب کمی سی ہوتی ہےدل تڑپتا ہے آنکھ روتی ہے وصل کی رات رات ہوتی ہےقلب بیدار آنکھ سوتی ہے سامنے ان کے لب نہیں کھلتےبند گویا زبان ہوتی ہے ایک قطرہ ہے ان کی مژگاں پریا کوئی لا جواب موتی ہے بحر الفت میں کشتئ دل کوموج امید ہی ڈبوتی ہے آنکھ […]

درد میں جب کمی سی ہوتی ہے Read More »

اس قدر پائمال ہیں ہم لوگ

اس قدر پائمال ہیں ہم لوگآپ اپنی مثال ہیں ہم لوگ بے نیاز ملال ہیں ہم لوگلاکھ صید زوال ہیں ہم لوگ اپنے عصیاں کی شرمساری سےپیکر انفعال ہیں ہم لوگ اک فسانہ ہے شوکت ماضیدیکھ لو خستہ حال ہیں ہم لوگ بت کدے میں اذاں نہ دیں تو سہییادگاری بلال ہیں ہم لوگ کیوں

اس قدر پائمال ہیں ہم لوگ Read More »

مرے دل پہ تیرا قبضہ مرا اختیار تو ہے

مرے دل پہ تیرا قبضہ مرا اختیار تو ہےمری زندگی کا حاصل مرا انتظار تو ہے ترا کس سے واسطہ ہے تجھے کس کی ہے تمناجو ہلاک جلوۂ غم دل بے قرار تو ہے مری مشکلوں میں اکثر مرے کام آنے والےمرا مونس و نگہباں مرا غم گسار تو ہے تجھے میری جستجو ہے مجھے

مرے دل پہ تیرا قبضہ مرا اختیار تو ہے Read More »

پلٹ کے دور زماں صبح و شام پیدا کر

پلٹ کے دور زماں صبح و شام پیدا کرنئے طریق سے دنیا میں نام پیدا کر ترا مذاق اڑاتے ہیں دیکھنے والےاگر نظام غلط ہو نظام پیدا کر نظر کو طور بنا دل کو مرکز اسرارغم الست سے عیش دوام پیدا کر سکون موت کی تمہید ہے زمانے میںلہو میں حرکت و سوز تمام پیدا

پلٹ کے دور زماں صبح و شام پیدا کر Read More »

شدت درد جگر ہو یہ ضروری تو نہیں

شدت درد جگر ہو یہ ضروری تو نہیںاور پھر آنکھ بھی تر ہو یہ ضروری تو نہیں بے خودی باعث کلفت بھی تو ہو سکتی ہےہر نفس کیف اثر ہو یہ ضروری تو نہیں خود کو پامال ہی کرنا ہے تو اے جوش جنوںوہ تری راہگزر ہو یہ ضروری تو نہیں نشۂ خواب چرا لائے

شدت درد جگر ہو یہ ضروری تو نہیں Read More »

واللہ کیا زباں ہے اردو زباں ہماری

واللہ کیا زباں ہے اردو زباں ہماریفطرت کی ترجماں ہے اردو زباں ہماری آبا کی داستاں ہے اردو زباں ہماریمظلوم کی فغاں ہے اردو زباں ہماری ہندو بھی بولتے ہیں مسلم بھی بولتے ہیںدو جسم ایک جاں ہے اردو زباں ہماری تعمیر کی ہے اس کی خود کو مٹا مٹا کراسلاف کا نشاں ہے اردو

واللہ کیا زباں ہے اردو زباں ہماری Read More »

یہ دست ناز میں خط ترجمان کس کا ہے

یہ دست ناز میں خط ترجمان کس کا ہےاگر نہیں ہے تمہارا بیان کس کا ہے بساط ارض بسیط آسمان کس کا ہےہمارے دل میں نہاں یہ جہان کس کا ہے یہ پھوٹ پھوٹ کے روتے ہیں کیوں در و دیوارمکین کون تھا اس میں مکان کس کا ہے جہاں تمہارے نشان قدم نہیں ملتےمرا

یہ دست ناز میں خط ترجمان کس کا ہے Read More »

یہ رات کتنی بھیانک ہے بام و در کے لئے

یہ رات کتنی بھیانک ہے بام و در کے لئےکہاں سے لاؤں سراج منیر گھر کے لئے طلب کی راہ سلامت مقام شوق بہتتکلفات ضروری نہیں سفر کے لئے جمال یار سزاوار جہت خاص نہیںعجیب مرحلہ در پیش ہے نظر کے لئے غریب شہر تمنا اسیر دام فراقتڑپ رہا ہے سر جادہ ہم سفر کے

یہ رات کتنی بھیانک ہے بام و در کے لئے Read More »

دل کی جو سر زمین لگتی ہے

دل کی جو سر زمین لگتی ہے تیرے زیر نگین لگتی ہے دیکھ تیرا خیال آتے ہی زندگانی حسین لگتی ہے آج خود پر بھی پیار آیا ہے چاند جیسی جبین لگتی ہے جس جگہ تو کبھی نظر آئے وہ بہشتِ یقین لگتی ہے اپنی قسمت جہان بھر میں ہمیں بہتر و بہتریں لگتی ہے

دل کی جو سر زمین لگتی ہے Read More »

جب اس کی سمت میں اپنا دھیان کر لوں گی

جب اس کی سمت میں اپنا دھیان کر لوں گی پھر اس کے دل کو بہت مہربان کو لوں گی کبھی جو اس نے مجھے پیار سے پکار لیا میں اس کے نام کو ورد زباں کر لوں گی جو ہو سکے تو مجھے لے چلو افق سے پرے میں تیرے ساتھ یہ اونچی اڑان

جب اس کی سمت میں اپنا دھیان کر لوں گی Read More »