MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دل سے دنیا ہے عزیز آج بھی انسانوں کو

دل سے دنیا ہے عزیز آج بھی انسانوں کوبھینٹ رسموں کی چڑھا دیتے ہیں ارمانوں کو گھر سے باہر نہ کبھی راز نکالا گھر کالب پہ آنے نہ دیا درد کے افسانوں کو فرقہ وارانہ تعصب کی عملداری میںقتل کرتے ہیں مسلمان، مسلمانوں کو ان کے دم سے ہی تو قائم ہے فراست کا بھرمشک […]

دل سے دنیا ہے عزیز آج بھی انسانوں کو Read More »

پھیر لیں یاروں نے آنکھیں بخت ڈھل جانے کے بعد

پھیر لیں یاروں نے آنکھیں بخت ڈھل جانے کے بعدتتلیاں آتیں نہیں پھولوں پہ، مرجھانے کے بعد باعثِ مرگِ اَنا میری یہی پستی بنیخود کو قاتل لگ رہا ہوں ہاتھ پھیلانے کے بعد باغ میں ٹھمکے لگاتی پھرتی ہے فصلِ بہارسرخ جھمکے نوجواں شاخوں کو پہنانے کے بعد کر دیا دل لے کے اس نے

پھیر لیں یاروں نے آنکھیں بخت ڈھل جانے کے بعد Read More »

تمام شہرِ ستمگر مری تلاش میں ہے

تمام شہرِ ستمگر مری تلاش میں ہےہر ایک ہاتھ کا پتھر مری تلاش میں ہے گناہِ زندگی کر کے میں چھپتا پھرتا ہوںقضا ازل سے برابر مری تلاش میں ہے غمِ حبیب خدارا پناہ دے مجھ کوغمِ حیات کا لشکر مری تلاش میں ہے میں بھاگتا پھرا پیچھے یونہی مقدر کےخبر نہ تھی کہ مقدر

تمام شہرِ ستمگر مری تلاش میں ہے Read More »

بے بساں بے چاریاں دے دستگیراں نوں سلام

بے بساں بے چاریاں دے دستگیراں نوں سلامآدمیت دی ریاست دے امیراں نوں سلام سر کٹا کے سر بلندی دے گئے نیں دین نوںسَین زینب تیرے غیرتمند ویراں نوں سلام تیریاں ہوٹھاں تے جمیاں ہوئیاں چُپاں تے درودتیریاں اکھاں چوں کردے ہوئے نیراں نوں سلام جگمگایا دین دا جھگا بہتر غازیاںنکے وڈے غازیاں روشن ضمیراں

بے بساں بے چاریاں دے دستگیراں نوں سلام Read More »

آہٹ ٹورانٹوی کی کتاب” چھپکلیوں کا جلوس” پر تبصرہ

آہٹ ٹورانٹوی کی کتاب” چھپکلیوں کا جلوس” پر تبصرہ سید اعجاز شاہین اس عہد کے اکثر نا آموز شعرا کی طرح آہٹؔ ٹورانٹوی کو بھی جدید لب و لہجہ کا تازہ کار شاعر تسلیم کر لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔کیونکہ اس ملامتی گروہ میں ہر ایک یہی دعویٰ کرتا ہے۔ آہٹؔ پہلے اپنا

آہٹ ٹورانٹوی کی کتاب” چھپکلیوں کا جلوس” پر تبصرہ Read More »

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی –

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھیدل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کیچاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھی سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتاایک دفعہ تو رک گئی گردش

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی – Read More »

”پروین شاکر کی مُردہ انگلیاں“…

”پروین شاکر کی مُردہ انگلیاں“…. مستنصر حسین تارڑ پروین شاکر سے میری دوستی یا قربت نہ تھی۔ کبھی کسی ادبی محفل یا دعوت میں آمنا سامنا ھو جاتا تو وہ ماتھے پر ھاتھ رکھ کر سلام میں پہل کرتی ، کیا لکھ رھے ھیں ، کیا پڑھ رھے ھیں اور کبھی کبھار ادب کے حوالے

”پروین شاکر کی مُردہ انگلیاں“… Read More »

بھٹک رہا ہوں کہ بھٹکایا جا رہا ہے مجھے

بھٹک رہا ہوں کہ بھٹکایا جا رہا ہے مجھےیہ راز کیوں نہیں بتلایا جا رہا ہے مجھے کہ ریزہ ریزہ بھی ہو جاؤں اور پتا نہ چلےنظر کے آرے سے کٹوایا جا رہا ہے مجھے اگر میں واقعی پتھر ہوں دوستوں کے بقولتو نوچ نوچ کے کیوں کھایا جا رہا ہے مجھے ہجوم شہر میں

بھٹک رہا ہوں کہ بھٹکایا جا رہا ہے مجھے Read More »

روزنِ تقدیر قسط نمبر 26

#قسط_نمبر_26 #از_قلم_شیخزادی#روزن_تقدیر #episode_26 #rozan_e_taqdeer نیچے آکر آمنہ ماہشان کے پاس بیٹھ گئماہشان بس خالی آنکھیں لۓ اسے دیکھتی رہی اس کی آنکھوں میں نہ کوئی سوال تھا نہ ہی ملال بس وہ آمنہ کو دیکھ رہی تھیتم جانتی ہو میں ابھی کہاں تھی آمنہ اپنے ہاتھوں پر نظریں جماۓ ماہشان سے بات کر رہی تھیماہشان

روزنِ تقدیر قسط نمبر 26 Read More »

روزنِ تقدیر قسط 25

قسط_نمبر_25 #از_قلم_شیخزادی #روزن_تقدیر#episode_25 #rozan_e_taqdeer **************** سنبل طبیعت کا بہانہ کر کے آج اپنے کمرے سے ہی نہیں نکلی تھی اس کے دل میں آگ لگی تھی وہ یوں ماہشان کو عیان کو ہوتا نہیں دیکھ پا رہی تھی سنبل کی لالچ اسے بےجین کۓ ہوۓ تھیعیان اللّٰہ خان یہ تم نے ٹھیک نہیں کیا ۔۔۔۔

روزنِ تقدیر قسط 25 Read More »