MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

نوائے کشش

کشش ہے کس بلا کی دیکھنا ، اس ملک میں یاروجسے دیکھو ، وہ کہتا ہے میں امریکہ جاتا ہوںاُدھر اک دلبرانہ شان سے امریکہ کہتا ہےکہ صاحب آپ کیوں زحمت کریں ، میں خود ہی آتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سخاوت میں بھلا امریکیوں کا کون ثانی ہےجو بوٹی مانگئیے تو مرغ سالم بھیج دیتے ہیںپھر اپنے ملک […]

نوائے کشش Read More »

ورغلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

ورغلانے کی اجازت نہیں دی جائے گیشامیانے کی اجازت نہیں دی جائے گی لان میں تین گدھے اور یہ نوٹس دیکھاگھاس کھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ایک رقاص نے گا گا کے یہ خبر سنائیناچ گانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس سے اندیشۂ فردا کی جوئیں جھڑتی ہیںسر کھجانے کی اجازت

ورغلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی Read More »

K-Electric اور اقبال

K-Electric اور اقبالپروفیسر عنایت علی خان کی نظم​ جب واپڈا والوں سے کہا جا کے کسی نےیہ کس نے کہا ہے ہمیں راتوں کو سزا دوبولے ہمیں اقبال کا پیغام ملا تھااُٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دواور اُٹھتے ہوئے بَاس نے یہ اور کہا تھاکاخِ اُمراء کے در و دیوار سجا دوکاخِ امرا

K-Electric اور اقبال Read More »

تم اک گورکھ دھندا ہو

نصرت فتح علی خان کا گایا ہوا شاہکار کلام   کبھی یہاں تمہیں ڈھونڈا کبھی وہاں پہنچاتمہاری دید کی خاطر کہاں کہاں پہنچاغریب مٹ گئے ، پامال ہو گئے لیکنکسی تلک نہ تیرا آج تک نشاں پہنچاہو بھی نہیں اور ہر جا ہوتم اک گورکھ دھندہ ہوتم اک گورکھ دھندہ ہو ہر ذرے میں کس

تم اک گورکھ دھندا ہو Read More »

جنونِ عشق یہ احسان کر گیا ہے میاں

جنونِ عشق یہ احسان کر گیا ہے میاںکہ مجھ کو صاحبِ عرفان کر گیا ہے میاں وہ اپنا درد مجھے دان کر گیا ہے میاںبڑا سخی ، بڑا احسان کر گیا ہے میاں کبھی کبھی تو سمجھ بھی نہیں سکا اس کوکبھی کبھی تو وہ حیران کر گیا ہے میاں کمالِ حسن سے ، حسنِ

جنونِ عشق یہ احسان کر گیا ہے میاں Read More »

کہنے سننے کا سلیقہ ہے جسے جب آ جائے

کہنے سننے کا سلیقہ ہے جسے جب آ جائےمیں صدا بندے کو دوں سامنے رب آ جائے اِک قیامت ہے ملاقات کو آنا اُس کامیں قیامت کا یقیں کر لوں اگر اب آ جائے واعظِ شہر کو آتا ہے بہت کچھ لیکنکاش انسان کا تھوڑا سا ادب آ جائے برسرِ دار پہنچ جاتے ہیں اکثر

کہنے سننے کا سلیقہ ہے جسے جب آ جائے Read More »

کرتے تو ہو اس کو نظر انداز عزیزو

کرتے تو ہو اس کو نظر انداز عزیزویاد آئے گا اِک روز تمہیں نازؔ عزیزو دبتی ہے کہاں عشق کی آواز عزیزوسولی پہ بھی ہے نغمہ سرا نازؔ عزیزو کیا چیز تھی وہ چشمِ فسوں ساز عزیزوآیا کبھی اپنے میں نہ پھر نازؔ عزیزو دیوارِ خموشی میں کوئی در تو کُھلا ہےجیسی بھی ہے گونجی

کرتے تو ہو اس کو نظر انداز عزیزو Read More »

بلا سے رنگ اپنا بام و در تبدیل کر لیتے

بلا سے رنگ اپنا بام و در تبدیل کر لیتےمگر بزدل تھے ہم کوئی کہ گھر تبدیل کر لیتے یہاں ہر صاف گو شاعر کھٹکتا ہے رذیلوں کوبس اتنی بات پر طرزِ ہُنر تبدیل کر لیتے نہیں تھی عار کوئی جب تمہیں چہرہ بدلنے میںنہ پھر کیوں ہم بھی اندازِ نظر تبدیل کر لیتے سرِ

بلا سے رنگ اپنا بام و در تبدیل کر لیتے Read More »

محنت سے مرے ہاتھ پہ چھالے ہی رہے ہیں

محنت سے مرے ہاتھ پہ چھالے ہی رہے ہیںقسمت میں مگر خشک نوالے ہی رہے ہیں اِک آدھ مکاں روز یہاں جلتا رہا ہےاس شہر کی گلیوں میں اجالے ہی رہے ہیں مخلص کوئی ایسا ہے، نہ مفلس کو اتناہر رنگ میں ہم سب سے نرالے ہی رہے ہیں کیا بات ہے ہر دور میں

محنت سے مرے ہاتھ پہ چھالے ہی رہے ہیں Read More »

صبح کی پہلی کرن سپنے سہانے لے گئی

صبح کی پہلی کرن سپنے سہانے لے گئیایک ساعت ساتھ اپنے ،سو زمانے لے گئی محفلِ غم سے ابھی میں لوٹ کر آیا ہی تھایاد تیری کر کے پھر حیلے بہانے لے گئی آ لیا رستے میں پہلے تیز آندھی نے مجھےاور پھر بارش بہا کر شامیانے لے گئی گردشِ دوراں مرے آنگن میں آئی

صبح کی پہلی کرن سپنے سہانے لے گئی Read More »