MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دل کے بھولے ہوئے افسانے بہت یاد آئے

دل کے بھولے ہوئے افسانے بہت یاد آئےزندگی تیرے صنم خانے بہت یاد آئے کوزۂ دل کی طرح پہلے انہیں توڑ دیااب وہ ٹوٹے ہوئے پیمانے بہت یاد آئے وہ جو غیروں کی صلیبوں کو اٹھا لائے تھےخود مسیحا کو وہ دیوانے بہت یاد آئے جسم و جاں کے یہ صنم زاد الٰہی توبہدل کے […]

دل کے بھولے ہوئے افسانے بہت یاد آئے Read More »

فشار حسن سے آغوش تنگ مہکے ہے

فشار حسن سے آغوش تنگ مہکے ہےصبا کے لمس سے پھولوں کا رنگ مہکے ہے ادائے نیم نگاہی بھی کیا قیامت ہےکہ بن کے پھول وہ زخم خدنگ مہکے ہے یہ وحشتیں بھی مری خوشبوؤں کا حصہ ہیںکہ مرے خون سے دامان سنگ مہکے ہے ادائے ناز بھی ہے حسن و اہتزاز کی باتکہ تار

فشار حسن سے آغوش تنگ مہکے ہے Read More »

خواب تو خواب ہے تعبیر بدل جاتی ہے

خواب تو خواب ہے تعبیر بدل جاتی ہےدل کے آئینہ میں تصویر بدل جاتی ہے اب صلیبوں پہ کہاں گل شدہ شمعوں کی قطارآن کی آن میں تحریر بدل جاتی ہے سر تو بدلے ہیں نہ بدلیں گے مگر وقت کے ساتھظلم کے ہاتھ میں شمشیر بدل جاتی ہے روز بنتا ہے کوئی آگ کے

خواب تو خواب ہے تعبیر بدل جاتی ہے Read More »

کیا ضروری ہے کوئی بے سبب آزار بھی ہو

کیا ضروری ہے کوئی بے سبب آزار بھی ہوسنگ اپنے لیے شیشہ کا طلب گار بھی ہو دلبری حسن کا شیوہ ہے مگر کیا کیجےاب یہ لازم تو نہیں حسن وفادار بھی ہو زخم جاں وقت کے کانٹوں سے بھی سل سکتا ہےکیا ضروری ہے کہ ریشم کا کوئی تار بھی ہو فاصلہ رکھیے دلوں

کیا ضروری ہے کوئی بے سبب آزار بھی ہو Read More »

لمحہ در لمحہ گزرتا ہی چلا جاتا ہے

لمحہ در لمحہ گزرتا ہی چلا جاتا ہےوقت خوشبو ہے بکھرتا ہی چلا جاتا ہے آبگینوں کا شجر ہے کہ یہ احساس وجودجب بکھرتا ہے بکھرتا ہی چلا جاتا ہے دل کا یہ شہر صدا اور یہ حسیں سناٹاوادئ جاں میں اترتا ہی چلا جاتا ہے اب یہ اشکوں کے مرقعے ہیں کہ سمجھتے ہیں

لمحہ در لمحہ گزرتا ہی چلا جاتا ہے Read More »

مری غزل جو نئے ساز سے عبارت ہے

مری غزل جو نئے ساز سے عبارت ہےمرے نفس مری آواز سے عبارت ہے کھٹک رہا ہے جو نشتر جراحت دل میںفریب نرگس طناز سے عبارت ہے حقیقتوں کو فسانہ بنا دیا جس نےیہ سحر بھی ترے اعجاز سے عبارت ہے قفس بھی جیسے دریچہ ہے دل کے زنداں کانفس بھی لذت پرواز سے عبارت

مری غزل جو نئے ساز سے عبارت ہے Read More »

مل بھی جاتا جو آب آب بقا کیا کرتے

مل بھی جاتا جو آب آب بقا کیا کرتےزندگی خود بھی تھی جینے کی سزا کیا کرتے سرحدیں وہ نہ سہی اپنی حدوں سے باہرجو بھی ممکن تھا کیا اس کے سوا کیا کرتے ہم سرابوں میں سدا پھول کھلاتے گزرےیہ بھی تھا آبلہ پائی کا صلا کیا کرتے جس کو موہوم لکیروں کا مرقع

مل بھی جاتا جو آب آب بقا کیا کرتے Read More »

وہی جو راہ کا پتھر تھا بے تراش بھی تھا

وہی جو راہ کا پتھر تھا بے تراش بھی تھاوہ خستہ جاں ہی کبھی آئینہ قماش بھی تھا لہو کے پھول رگ جاں میں جس سے کھلتے تھےوہی تو شیشۂ دل تھا کہ پاش پاش بھی تھا بکھر گئی ہیں جہاں ٹوٹ کر یہ چٹانیںیہیں تو پھول کوئی صاحب فراش بھی تھا اٹھائے پھرتا تھا

وہی جو راہ کا پتھر تھا بے تراش بھی تھا Read More »

وہ رقص کہاں اور وہ تب و تاب کہاں ہے

وہ رقص کہاں اور وہ تب و تاب کہاں ہےوہ سجدۂ شوق اور وہ محراب کہاں ہے ہے آبلہ پائی ہی ترا نقش کف پاصحرائے لق و دق ہے یہاں آب کہاں ہے اوراق دل و جاں میں ہیں کچھ داغ ہی باقیوہ عشق و عقیدت کا حسیں باب کہاں ہے اک اشک ندامت کے

وہ رقص کہاں اور وہ تب و تاب کہاں ہے Read More »

یہ بات دشت وفا کی نہیں چمن کی ہے

یہ بات دشت وفا کی نہیں چمن کی ہےچمن کی بات بھی زخموں کے پیرہن کی ہے ہوائے شہر بہت اجنبی سہی لیکنیہ اس میں بوئے وفا تیری انجمن کی ہے میں بت تراش ہوں پتھر سے کام ہے مجھ کومگر یہ طرز ادا تیرے بانکپن کی ہے لپک تو شعلہ کی فطرت ہے پھر

یہ بات دشت وفا کی نہیں چمن کی ہے Read More »