MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

پر اب عروج وہ علم و کمال و فن میں نہیں

غزل کبھی تھا ناز زمانہ کو اپنے ہند پہ بھی پر اب عروج وہ علم و کمال و فن میں نہیں رگوں میں خوں ہے وہی دل وہی جگر ہے وہی وہی زباں ہے مگر وہ اثر سخن میں نہیں وہی ہے بزم وہی شمع ہے وہی فانوس فدائے بزم وہ پروانے انجمن میں نہیں […]

پر اب عروج وہ علم و کمال و فن میں نہیں Read More »

مری بے خودی ہے وہ بے خودی کہ خودی کا وہم و گماں نہیں

غزل مری بے خودی ہے وہ بے خودی کہ خودی کا وہم و گماں نہیں یہ سرور ساغر مے نہیں یہ خمار خواب گراں نہیں جو ظہور عالم ذات ہے یہ فقط ہجوم صفات ہے ہے جہاں کا اور وجود کیا جو طلسم وہم و گماں نہیں یہ حیات عالم خواب ہے نہ گناہ ہے

مری بے خودی ہے وہ بے خودی کہ خودی کا وہم و گماں نہیں Read More »

بہار عالم فانی رہے رہے نہ رہے

غزل فنا نہیں ہے محبت کے رنگ و بو کے لئے بہار عالم فانی رہے رہے نہ رہے جنون حب وطن کا مزا شباب میں ہے لہو میں پھر یہ روانی رہے رہے نہ رہے رہے گی آب و ہوا میں خیال کی بجلی یہ مشت خاک ہے فانی رہے رہے نہ رہے جو دل

بہار عالم فانی رہے رہے نہ رہے Read More »

دل کیے تسخیر بخشا فیض روحانی مجھے

غزل دل کیے تسخیر بخشا فیض روحانی مجھے حب قومی ہو گیا نقش سلیمانی مجھے منزل عبرت ہے دنیا اہل دنیا شاد ہیں ایسی دلجمعی سے ہوتی ہے پریشانی مجھے جانچتا ہوں وسعت دل حملۂ غم کے لیے امتحاں ہے رنج و حرماں کی فراوانی مجھے حق پرستی کی جو میں نے بت پرستی چھوڑ

دل کیے تسخیر بخشا فیض روحانی مجھے Read More »

نہ کوئی دوست دشمن ہو شریک درد و غم میرا

غزل نہ کوئی دوست دشمن ہو شریک درد و غم میرا سلامت میری گردن پر رہے بار الم میرا لکھا یہ داور محشر نے میری فرد عصیاں پر یہ وہ بندہ ہے جس پر ناز کرتا ہے کرم میرا کہا غنچہ نے ہنس کر واہ کیا نیرنگ عالم ہے وجود گل جسے سمجھے ہیں سب

نہ کوئی دوست دشمن ہو شریک درد و غم میرا Read More »

فنا کا ہوش آنا زندگی کا درد سر جانا

غزل فنا کا ہوش آنا زندگی کا درد سر جانا اجل کیا ہے خمار بادۂ ہستی اتر جانا عزیزان وطن کو غنچہ و برگ و ثمر جانا خدا کو باغباں اور قوم کو ہم نے شجر جانا عروس جاں نیا پیراہن ہستی بدلتی ہے فقط تمہید آنے کی ہے دنیا سے گزر جانا مصیبت میں

فنا کا ہوش آنا زندگی کا درد سر جانا Read More »

کچھ ایسا پاس غیرت اٹھ گیا اس عہد پر فن میں

غزل کچھ ایسا پاس غیرت اٹھ گیا اس عہد پر فن میں کہ زیور ہو گیا طوق غلامی اپنی گردن میں شجر سکتے میں ہیں خاموش ہیں بلبل نشیمن میں سدھارا قافلہ پھولوں کا سناٹا ہے گلشن میں گراں تھی دھوپ اور شبنم بھی جن پودوں کو گلشن میں تری قدرت سے وہ پھولے پھلے

کچھ ایسا پاس غیرت اٹھ گیا اس عہد پر فن میں Read More »

نئے جھگڑے نرالی کاوشیں ایجاد کرتے ہیں

غزل نئے جھگڑے نرالی کاوشیں ایجاد کرتے ہیں وطن کی آبرو اہل وطن برباد کرتے ہیں ہوا میں اڑ کے سیر عالم ایجاد کرتے ہیں فرشتے دنگ ہیں وہ کام آدم زاد کرتے ہیں نیا مسلک نیا رنگ سخن ایجاد کرتے ہیں عروس شعر کو ہم قید سے آزاد کرتے ہیں متاع پاس غیرت بوالہوس

نئے جھگڑے نرالی کاوشیں ایجاد کرتے ہیں Read More »

اگر درد محبت سے نہ انساں آشنا ہوتا

غزل اگر درد محبت سے نہ انساں آشنا ہوتا نہ کچھ مرنے کا غم ہوتا نہ جینے کا مزا ہوتا بہار گل میں دیوانوں کا صحرا میں پرا ہوتا جدھر اٹھتی نظر کوسوں تلک جنگل ہرا ہوتا مئے گل رنگ لٹتی یوں در مے خانہ وا ہوتا نہ پینے کی کمی ہوتی نہ ساقی سے

اگر درد محبت سے نہ انساں آشنا ہوتا Read More »

ہمیں یہ شوق ہے دیکھیں ستم کی انتہا کیا ہے

غزل انہیں یہ فکر ہے ہر دم نئی طرز جفا کیا ہے ہمیں یہ شوق ہے دیکھیں ستم کی انتہا کیا ہے گنہگاروں میں شامل ہیں گناہوں سے نہیں واقف سزا کو جانتے ہیں ہم خدا جانے خطا کیا ہے یہ رنگ بیکسی رنگ جنوں بن جائے گا غافل سمجھ لے یاس و حرماں کے

ہمیں یہ شوق ہے دیکھیں ستم کی انتہا کیا ہے Read More »