MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

درد دل پاس وفا جذبۂ ایماں ہونا

غزل درد دل پاس وفا جذبۂ ایماں ہونا آدمیت ہے یہی اور یہی انساں ہونا نو گرفتار بلا طرز وفا کیا جانیں کوئی نا شاد سکھا دے انہیں نالاں ہونا روکے دنیا میں ہے یوں ترک ہوس کی کوشش جس طرح اپنے ہی سائے سے گریزاں ہونا زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب موت […]

درد دل پاس وفا جذبۂ ایماں ہونا Read More »

ضرب تازہ کاری ہے حادثہ پرانا ہے

غزل ضرب تازہ کاری ہے حادثہ پرانا ہے سنگ نو کے نرغے میں پھر وہی دوانہ ہے جب سے یہ گھٹا اس کے گیسوؤں کی چھائی ہے بجلیوں کی یورش میں تب سے آشیانہ ہے  انتشار قالب ہے زندگی کی آزادی روح کے پرندوں کا جسم قید خانہ ہے کھیل ہے گزر جانا درمیان ہستی

ضرب تازہ کاری ہے حادثہ پرانا ہے Read More »

ہے نیاز عشق سے بے خبر جو نہ نکلے پردۂ ناز سے

غزل ہے نیاز عشق سے بے خبر جو نہ نکلے پردۂ ناز سے دل غزنویؔ میں تڑپ تھی کیا کوئی پوچھے زلف ایازؔ سے مرے حال دل کی روایتیں یہ چھپی چھپی سی حکایتیں یہ کہاں کہاں نہ پڑھی گئیں ترے روئے مصحف ناز سے مرے دل کو آ مرے میت لے مرے جسم و

ہے نیاز عشق سے بے خبر جو نہ نکلے پردۂ ناز سے Read More »

اک ترا تصور ہی آخری سہارا ہے

غزل اک ترا تصور ہی آخری سہارا ہے ورنہ دل کا آئینہ کب سے پارہ پارہ ہے زندگی خبر بھی ہے بے وفا زمانے میں میں نے تیری زلفوں کو کس طرح سنوارا ہے ایک دل کی تنہائی اور سو غم دوراں میں نے درد دنیا پہ درد دل کو وارا ہے میں ہوں اس

اک ترا تصور ہی آخری سہارا ہے Read More »

یہ میرا شیشۂ دل بے مثال ہے پیارے

غزل یہ میرا شیشۂ دل بے مثال ہے پیارے دکھائی دے ہے کہاں جتنا بال ہے پیارے ہر ایک بات کو لکھنا محال ہے پیارے خود آ کے دیکھ لو جو دل کا حال ہے پیارے جہاں سے چاہا ہمیں لخت لخت کر ڈالا بنا چھری کے یہ کیسا کمال ہے پیارے مٹا دو حسن

یہ میرا شیشۂ دل بے مثال ہے پیارے Read More »

سحر یہ ندی ہے آنسوؤں کی نہ پوچھ اس کا بہاؤ پیارے

غزل سحر یہ ندی ہے آنسوؤں کی نہ پوچھ اس کا بہاؤ پیارے کہ اس کے طوفان موج غم میں بچے گی کیا دل کی ناؤ پیارے مجھے تو عادت ہے غم کی راہوں میں چلنے پھرنے کی اے ستم گر مگر شباب ستم کا تیرے کہاں ہے اگلا پڑاؤ پیارے یہ رنج و غم

سحر یہ ندی ہے آنسوؤں کی نہ پوچھ اس کا بہاؤ پیارے Read More »

وہ درد تم نے دیا ہے کہ بے قرار چلے

غزل وہ درد تم نے دیا ہے کہ بے قرار چلے یہی ہے عشق تو ہم ہائے دل پکار چلے وہ ایک لغزش تشخیص چارہ گر تیری ہمیں تو ایسا لگا زندگی گزار چلے ہر ایک پھول نگاہ خزاں کی زد میں ہے تو کس طرح سے بہاروں کا کاروبار چلے ہو عندلیب کو شکوہ

وہ درد تم نے دیا ہے کہ بے قرار چلے Read More »

مرے درد کی کہانی ترے جور کا فسانہ

غزل مرے درد کی کہانی ترے جور کا فسانہ ہے لہو ترنگ نغمہ یہ نشاط گیں ترانہ مرے ہم جلیس پھولو مرے ہم نوا عنادل تری ٹہنیوں پہ کل تک تھا مرا غریب خانہ میں مقیم گلستاں ہوں مجھے جانتے نہیں ہو ابھی چار دن ہوئے ہیں کہ جلا ہے آشیانہ تو ستم نصیب طائر

مرے درد کی کہانی ترے جور کا فسانہ Read More »

ہو پیاس سلامت مئے گلفام بہت ہے

غزل ہو پیاس سلامت مئے گلفام بہت ہے مے خانہ بہت ساقی بہت جام بہت ہے ان تافتہ زلفوں کو پریشاں نہ کرو تم اے جان ستم گردش ایام بہت ہے کیوں طور پہ موقوف ہو باران تجلی اس جلوۂ تاباں کے لئے بام بہت ہے اک وہ ہیں کہ ہر ظلم روا ان کے

ہو پیاس سلامت مئے گلفام بہت ہے Read More »

مرے ہر نفس میں بسا ہے تو مرے فکر و فن میں قیام ہے

غزل مرے ہر نفس میں بسا ہے تو مرے فکر و فن میں قیام ہے کہ کتاب دل کے ورق ورق میں لکھا ہوا ترا نام ہے نہ سکون دیر و حرم ملا نہ خدا ملا نہ صنم ملا ترے دل سے دل جو بہم ملا تو قرار دل بھی مدام ہے جو چھڑائی مانگ

مرے ہر نفس میں بسا ہے تو مرے فکر و فن میں قیام ہے Read More »