لطف یہ ہے جسے آشوب جہاں کہتا ہوں
لطف یہ ہے جسے آشوب جہاں کہتا ہوںاسی ظالم کو فروغ دل و جاں کہتا ہوں غیر کا ذکر ہی کیا مفت میں الزام نہ دودل کی ہر بات میں تم سے بھی کہاں کہتا ہوں کسی مجبور کے ہونٹوں پہ جو آ جاتا ہےاس تبسم کو میں اعجاز فغاں کہتا ہوں نہ میں زندانیٔ […]
لطف یہ ہے جسے آشوب جہاں کہتا ہوں Read More »