MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

لطف یہ ہے جسے آشوب جہاں کہتا ہوں

لطف یہ ہے جسے آشوب جہاں کہتا ہوںاسی ظالم کو فروغ دل و جاں کہتا ہوں غیر کا ذکر ہی کیا مفت میں الزام نہ دودل کی ہر بات میں تم سے بھی کہاں کہتا ہوں کسی مجبور کے ہونٹوں پہ جو آ جاتا ہےاس تبسم کو میں اعجاز فغاں کہتا ہوں نہ میں زندانی‌ٔ […]

لطف یہ ہے جسے آشوب جہاں کہتا ہوں Read More »

منزلوں سے بیگانہ آج بھی سفر میرا

منزلوں سے بیگانہ آج بھی سفر میرارات بے سحر میری درد بے اثر میرا گمرہی کا عالم ہے کس کو ہم سفر کہیےتھک کے چھوڑ بیٹھی ہے ساتھ رہ گزر میرا وہ فروغ خلوت بھی انجمن سراپا بھیبھر گیا ہے پھولوں سے دامن نظر میرا اب ترے تغافل سے اور کیا طلب کیجےشوق نا رسا

منزلوں سے بیگانہ آج بھی سفر میرا Read More »

قصور عشق میں ظاہر ہے سب ہمارا تھا

قصور عشق میں ظاہر ہے سب ہمارا تھاتری نگاہ نے دل کو مگر پکارا تھا وہ دن بھی کیا تھے کہ ہر بات میں اشارا تھادلوں کا راز نگاہوں سے آشکارا تھا ہوائے شوق نے رنگ حیا نکھارا تھاچمن چمن لب و رخسار کا نظارا تھا فریب کھا کے تری شوخیوں سے کیا پوچھیںحیات و

قصور عشق میں ظاہر ہے سب ہمارا تھا Read More »

نمو کے فیض سے رنگ چمن نکھر سا گیا

نمو کے فیض سے رنگ چمن نکھر سا گیامگر بہار میں دل شورشوں سے ڈر سا گیا جفائے دوست بہت سازگار آئی ہےخراب ہو کہ یہ دل اور کچھ سنور سا گیا نہ جانے باد صبا کیا پیام لائی تھیکہ پھول ہنس تو دیا پھر بھی منہ اتر سا گیا بہ فیض شوق یہ دن

نمو کے فیض سے رنگ چمن نکھر سا گیا Read More »

شرح جاں سوزیٔ غم عرض وفا کیا کرتے

شرح جاں سوزیٔ غم عرض وفا کیا کرتےتم بھی اک جھوٹی تسلی کے سوا کیا کرتے شیشہ نازک تھا ذرا چوٹ لگی ٹوٹ گیاحادثے ہوتے ہی رہتے ہیں گلا کیا کرتے رات نے چھیڑ دیے بھولے ہوئے افسانےجاگ کر صبح نہ کرتے تو بھلا کیا کرتے اپنی کشتی کو بھی مل جاتا کنارہ شایدتند تھی

شرح جاں سوزیٔ غم عرض وفا کیا کرتے Read More »

شباب حسن ہے برق و شرر کی منزل ہے

شباب حسن ہے برق و شرر کی منزل ہےیہ آزمائش قلب و نظر کی منزل ہے سواد شمس و قمر بھی بشر کی منزل ہےابھی تو پرورش بال و پر کی منزل ہے یہ مے کدہ ہے کلیسا و خانقاہ نہیںعروج فکر و فروغ نظر کی منزل ہے ہمیں تو راس ہی آئی فغاں کی

شباب حسن ہے برق و شرر کی منزل ہے Read More »

شوق کا تقاضہ ہے شرح آرزو کیجے

شوق کا تقاضہ ہے شرح آرزو کیجےدل سے عہد خاموشی کیسے گفتگو کیجے دل ہو یا گریباں ہو روز چاک ہوتے ہیںکیا جنوں کے موسم میں کوشش رفو کیجے عاشقی و خودداری بندگی و خود بینیآرزو کی راہوں میں خون آرزو کیجے داد سعئ پیہم کی کچھ تو دیجئے یعنیتازہ تر شکستوں سے دل کو

شوق کا تقاضہ ہے شرح آرزو کیجے Read More »

سواد غم میں کہیں گوشۂ اماں نہ ملا

سواد غم میں کہیں گوشۂ اماں نہ ملاہم ایسے کھوئے کہ پھر تیرا آستاں نہ ملا غموں کی بزم کہ تنہائیوں کی محفل تھیہمیں وہ دشمن تمکیں کہاں کہاں نہ ملا عجیب دور ستم ہے کہ دل کو مدت سےنوید غم نہ ملی مژدۂ زیاں نہ ملا کسے ہے یاد کہ سعی و طلب کی

سواد غم میں کہیں گوشۂ اماں نہ ملا Read More »

وہ روشنی کہ بقید سحر نہیں اے دوست

وہ روشنی کہ بقید سحر نہیں اے دوستترا جمال ہے میری نظر نہیں اے دوست ترے بغیر وہ شام و سحر نہیں اے دوستکوئی چراغ سر رہ گزر نہیں اے دوست بہانا ڈھونڈھ لیا تجھ سے بات کرنے کاکچھ اور مقصد عرض ہنر نہیں اے دوست شب فراق یہ محویتوں کا عالم ہےکسی کی ہائے

وہ روشنی کہ بقید سحر نہیں اے دوست Read More »

درد

سرسراہٹ ہےنہ آہٹ ہےنہ ہلچلنہ چبھندرد چپ چاپکسی دھیمی ندی کی صورتسانس لیتی ہوئیگانٹھوں میںاتر آیا ہےکتنے برسوں کیریاضت سےہنر مندی سےایسے بکھرے ہوئےریشوں کو سمیٹا ہے مگراور ہر بارہر اک باربہت جتنوں سےجسم کو جان سےجوڑا ہے مگربے سبب سانس کی کٹتی ڈوریکب سے تھامے ہوئےبیٹھے ہیں مگرآج نہیںیا کہیں درد تھمےاور سکوں مل

درد Read More »