MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کسی کی یاد کا چہرہ

کسی کی یاد کا چہرہمرے ویران گھر کی ادھ کھلی کھڑکی سےجو مجھ کو بلاتا ہےسمے کی آنکھ سے ٹوٹا ہوا تاراجو اکثر رات کی پلکوں کے پیچھے جھلملاتا ہےاسے میں بھول جاؤں گیملائم کاسنی لمحہکہیں بیتے زمانوں سے نکل کر مسکراتا ہےکوئی بھولا ہوا نغمہفضا میں چپکے چپکے پھیل جاتا ہےبہت دن سے کسی […]

کسی کی یاد کا چہرہ Read More »

رات ہر بار لیے

رات ہر بار لیےخوف کے خالی پیکرخوں مرا مانگنےبے خوف چلی آتی ہےاور جلتی ہوئی آنکھوں کےتحیر کے تلےایک سناٹابہت شور کیا کرتا ہےکچھ تو کٹتا ہےتڑپتا ہےبہاتا ہے لہواور کھل جاتے ہیںریشوں کے پرانے بخیےرات ہر بار مریجاگتی پلکیں چن کراندھے گمنام دریچوں پہسجا جاتی ہےاور دھندلائے ہوئےگرد زدہ رستوں میںایک آہٹ کا سرا

رات ہر بار لیے Read More »

وہم نہیں ہے

ڈھلتے ڈھلتےایک روپہلے منظر نے کچھ سوچا پلٹاپگڈنڈی سنسان پڑی تھیمٹیالی اور سرد ہوائیںہاتھ جھلاتی شاخیںروکھے سوکھے پتےتنہا پیڑ پہ بیٹھے بیٹھےچٹخ رہے تھےٹوٹ رہے تھےخاک اڑاتی پگڈنڈی پرشام سمے کا دھندلا بادلجھکنے لگا تھاڈھلتے ڈھلتےایک روپہلے منظر کی ان بھید بھریآنکھوں میں کوئیجگنو چمکا تارا ٹوٹا وہم نہیں ہےآج ان کھوئی کھوئیبوجھل آنکھوں میںکوئی

وہم نہیں ہے Read More »

بم دھماکہ

سرما کی بے رحم فضا میںسرخ لہو نے بہتے بہتےحیرانی سےتپتی ہوئی اس خاک کو دیکھاابھی تو میں ان نیلی گرم رگوں میںکیسے دوڑ رہا تھابجھتی ہوئی اک سانس کی لو نےاپنے ننھے جیون کیاس آخری تیز کٹیلی ہچکی کو جھٹکادو خالی نظریںدور دھویں کے پارکہیں کچھ ڈھونڈ رہی تھیںابھی ابھی تو نیلا امبرباہیں کھولے

بم دھماکہ Read More »

حیات رواں

بظاہر کہیں کوئی ہلچل نہیں ہےحیات رواں اپنے مرکز سے چمٹی ہوئی ہےبہت عام بے کار الجھے دنوں کیملائم سی گٹھری میں رکھی ہوئیایک بے نام سی دوپہر ہےہوا چل رہی ہےنہ جانے کہاںگہرے بے چین بادل کے ٹکڑےاڑے جا رہے ہیںپریشان سڑکوں پہ بہتے ہوئے زرد پتےفضا میں بکھرتا ہوا کچھ غبار مسلسلذرا پل

حیات رواں Read More »

میں نہیں ہوں مگر

میں نہیں ہوں مگراب بھی کھلتے ہیں کھڑکی کے دائیں طرفپھول بل کھائی الجھی ہوئی بیل پرزندگی کے کسی فیصلے کیگھڑی سے الجھتے ہوئےمیں کھرچتا رہا تھا یہ روغنجمی ہے یہاں آج تکننھے دھبے میں اکبے کلی میرے احساس کیاور قالین پرمیری پیالی سے چھلکی ہوئیچائے کا اک پرانا نشاںاب بھی تکتا ہے مٹیالی آنکھوں

میں نہیں ہوں مگر Read More »

شب ڈوب گئی

پھر گھور اماوسرات میں کوئیدیپ جلااک دھیمے دھیمےسناٹے میںپھول ہلاکوئی بھید کھلااور بوسیدہدیوار پہ بیٹھییاد ہنسیاک ہوک اٹھیاک پتا ٹوٹاسرسر کرتی ٹہنی سےاک خواب گرااور کانچ کیدرزوں سےکرنوں کاجال اٹھاکچھ لمحے سرکےتاروں کیزنجیر ہلیشب ڈوب گئی گلناز کوثر

شب ڈوب گئی Read More »

یاد نہیں ہے

دھیرے دھیرے بہنے والیایک سلونی شام عجب تھیالجھی سلجھی خاموشی کینرم تہوں میںسلوٹ سلوٹ بھید چھپا تھاسردیلی مخمور ہوا میںمیٹھا میٹھا لمس گھلا تھادھیرے دھیرےخواب کی گیلی ریت پہ اترےدرد کے منظر پگھل رہے تھےخواہش کے گمنام جزیرےساحل پر پھیلی خوشبو کےمرغولوں کو نگل رہے تھےدھیرے دھیرےجانے کون سے موسم کےدو پھول کھلے تھےشہد بھری

یاد نہیں ہے Read More »

غلیظ چیز کہاں اندمال ہوتی ہے

غلیظ چیز کہاں اندمال ہوتی ہے کسی کے منہ پہ بھی کیچڑ کی کھال ہوتی ہے کچھ ایسے ذہن کے بونے ہیں میرے حلقے میں کہ جن کی دوستی دل کا وبال ہوتی ہے تمہارے ہوتے بہت بے قرار ہوتا ہوں تمہارے بعد طبیعت بحال ہوتی ہے میں چٹکلہ تو سنا دوں منافقوں کے بیچ

غلیظ چیز کہاں اندمال ہوتی ہے Read More »

طاقچے کو دیا بنا لیں گے

طاقچے کو دیا بنا لیں گے زخم کو خوش نما بنا لیں گے آنکھ بٌنتے ہیں تیرے دریا سے دشت کو نقشِ پا بنا لیں گے کچھ نہ سوجھا تو رو پڑیں گے ہم خامشی کو صدا بنا لیں گے اس کی محفل میں آج دعوت ہے ہم بھی تھوڑی جگہ بنا لیں گے عشق

طاقچے کو دیا بنا لیں گے Read More »