MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کھولے ہوئے گیسو ہو پریشان لگو ہو

غزل کھولے ہوئے گیسو ہو پریشان لگو ہو اس دل کی طرح تم بھی مری جان لگو ہو دلبر ہو دل آرا ہو دل آرام ہو پھر بھی تم آفت جاں موت کا سامان لگو ہو مسجود تمنا ہو کہ معبود محبت بت خانۂ دل کا مرے ارمان لگو ہو سجدوں سا تڑپ جاؤ ہو […]

کھولے ہوئے گیسو ہو پریشان لگو ہو Read More »

تری محفل سے جو اٹھ جائیں گے مہر و وفا والے

غزل تری محفل سے جو اٹھ جائیں گے مہر و وفا والے تو پوچھے گا تجھے پھر کون اے جور و جفا والے نگاہ یار اتنی سی عنایت ہم پہ ہو جاتی کہ دنیا یہ سمجھ لیتی کہ ہم بھی ہیں خدا والے ہماری قدر کر پیر مغاں کہ واسطے جن کے لئے پھرتے ہیں

تری محفل سے جو اٹھ جائیں گے مہر و وفا والے Read More »

کسی کا شیشۂ دل توڑ کر جایا نہیں کرتے

غزل کسی کا شیشۂ دل توڑ کر جایا نہیں کرتے مکین دل مکاں کو اس طرح ڈھایا نہیں کرتے تم اپنے آنسوؤں کو روک لیتے اپنی پلکوں پر کسی کا راز غم غیروں سے کھلوایا نہیں کرتے ہم اہل دل ہیں دستور وفا سے خوب واقف ہیں تڑپ کر جان دے دیتے ہیں تڑپایا نہیں

کسی کا شیشۂ دل توڑ کر جایا نہیں کرتے Read More »

بڑی حسین و طرب زا کتاب پڑھتا ہوں

غزل بڑی حسین و طرب زا کتاب پڑھتا ہوں میں ان کا قصۂ اوج شباب پڑھتا ہوں کبھی کبھی تو میں اک سطر بھی نہیں پڑھتا کبھی کتاب کے بعد از کتاب پڑھتا ہوں خط ان کا ہاتھ میں ہے دل پہ بے خودی طاری میں خط کہاں خط جام شراب پڑھتا ہوں نظر سے

بڑی حسین و طرب زا کتاب پڑھتا ہوں Read More »

ابھی تک تشنۂ تکمیل میری زندگانی ہے

غزل ابھی تک تشنۂ تکمیل میری زندگانی ہے ابھی تک انتظار دوست کی باقی کہانی ہے یہ اپنی زندگی رمز من و تو کی کہانی ہے نہ کچھ قرب مکانی ہے نہ کچھ بعد زمانی ہے مرتب کر رہا ہوں داستاں حسن گریزاں کی طبیعت میں بروئے کار دریا کی روانی ہے تمہارا حسن بھی

ابھی تک تشنۂ تکمیل میری زندگانی ہے Read More »

تھا انجمن میں غیر کی دلبر بنا ہوا

غزل تھا انجمن میں غیر کی دلبر بنا ہوا بیٹھا ہے میرے سامنے پتھر بنا ہوا بن کر بگڑنا عرصۂ ہستی کے کھیل ہیں بگڑا ہزار بار مقدر بنا ہوا آ جاؤ دل میں رونق ہر زندگی لیے موجود ہے تمہارے لئے گھر بنا ہوا اک شخص میرے ساتھ ہی رہتا ہے رات دن آئینۂ

تھا انجمن میں غیر کی دلبر بنا ہوا Read More »

زباں پر آرزو کی بات لانا سخت مشکل ہے

غزل زباں پر آرزو کی بات لانا سخت مشکل ہے مگر راز محبت کا چھپانا سخت مشکل ہے یہی آئین الفت ہے یہی ذوق وفا کوشی اگرچہ زخم کھا کر مسکرانا سخت مشکل ہے اسی منزل کی جانب بڑھ رہا ہے ہر قدم اپنا جدھر اک اک قدم آگے بڑھانا سخت مشکل ہے ہمیں لے

زباں پر آرزو کی بات لانا سخت مشکل ہے Read More »

حق کہا دار پہ جس نے وہ بشر کیسا تھا

غزل حق کہا دار پہ جس نے وہ بشر کیسا تھا سچ بتاؤ مجھے وہ اہل نظر کیسا تھا شہر آشوب لکھا جس کے لئے لوگوں نے کیسے باشندے تھے اس کے وہ نگر کیسا تھا جل گیا راکھ ہوا یوں تو نشیمن اجڑا دیکھنے والو کہو رقص شرر کیسا تھا شاخ پر جتنے پرندے

حق کہا دار پہ جس نے وہ بشر کیسا تھا Read More »

کچھ تو جواب ابروئے خم دار لے چلو

غزل کچھ تو جواب ابروئے خم دار لے چلو زہرآب میں بجھی ہوئی تلوار لے چلو پرکھو مجھے بنا کے خریدار لے چلو یوسف بکیں اگر سر بازار لے چلو اس انجمن میں دوستوں سنجیدگی ہے کم تم اپنے ساتھ تلخیٔ افکار لے چلو پھر تیز ہو گئی غم خود آگہی کی آنچ پھر مجھ

کچھ تو جواب ابروئے خم دار لے چلو Read More »

ہم نے دیکھے زندگی میں چند ایسے سرپھرے

غزل ہم نے دیکھے زندگی میں چند ایسے سرپھرے دشمنوں میں جو پیام دوستی لے کر پھرے وائے یہ تحت شعور اپنا بلا سا بن گیا اپنی آنکھوں میں بڑے نادیدنی منظر پھرے جب بھی وہ آئے کھلی عیش و طرب کی چاندنی دن مرے ظلمت کدہ کے اس طرح اکثر پھرے کیا کوئی شہر

ہم نے دیکھے زندگی میں چند ایسے سرپھرے Read More »