MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

روزنِ تقدیر قسط 7

#قسط_نمبر_7 #از_قلم_شیخزادی #روزن_تقدیر #episode_7 #rozan_e_taqdeer کمرے میں آکر وہ نروس سی بیڈ پر بیٹھ گئ اسے کسی کے احسان تلے نہیں رہنا تھا لیکن اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آگے کیا کرےاک راستہ بس وہ اک راستہ چاہتی تھی جانتی تھی اس کا رب اپنے بندوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا وہی تو ہے […]

روزنِ تقدیر قسط 7 Read More »

روزنِ تقدیر قسط 6

#از_قلم_شیخزادی #rozan_e_taqdeer سال بیتتے گئے جب جب وہ گھر آتا سب اسکا بہت خیال رکھتے سنبل اسے دل ہی دل میں پسند کرنے لگی تھی اور عالم یہ تھا کہ وہ بھی اب اس کے بارے میں جزبات رکھتا تھا۔۔۔لیکن اس سب کے باوجود وہ کبھی کبھار اسکو عجیب الجھن میں ڈال دیتی تھیسنبل زرا

روزنِ تقدیر قسط 6 Read More »

روزنِ تقدیر قسط 5

#از_قلم_شیخزادی ناول۔۔۔۔۔ #روزن_تقدیر #rozan_e_taqdeer وہ گاڑی سے اتر کر اندر تو چلی گئ تھیلیکن اسکے جاتے ہی وہاں سے نکل گئ تھی چہرے پر خوف کے تاثرات واضح تھے۔وہ کہیں چھپ جانا چاہتی تھی کیب رکوا کر وہ اسمیں بیٹھ کر چلی گئ۔۔ ماضی۔۔۔آج سے ستائیس سال پہلے فاطمہ بیگم اک چھوٹے سے بچے کو ہاتھ

روزنِ تقدیر قسط 5 Read More »

روزن، تقدیر قسط 4

#قسط_نمبر_4 #از_قلم_شیخزادی ناول۔۔۔۔۔۔۔ #روزن_تقدیر #episode_4 #rozan_e_taqdeer ماہشان گھر جانا چاہتی ہےماہشان۔۔۔ وہ زیر لب دہرایاہاں ٹھیک ہے امی آپ انسے انکے گھر کا نمبر اور ایڈریس کے لیں انکے گھر بھی اطلاع دے دیتے ہیں۔۔۔نہیں بیٹآ وہ یہاں کسی ہوسٹل میں رہتی ہے پڑھائی کے لیے پاکستان سے آئ ہوئی ہے۔۔۔۔ رات کا منظر ایک دم

روزن، تقدیر قسط 4 Read More »

روزنِ تقدیر قسط نمبر 3

#از_قلم_شیخزادی #rozan_e_taqdeer کھانا کھانے کے بعد عیان اٹھ کر اپنی امی کے پاس آیا انکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر تایا کی فوتگی کی اطلاع دیاسکی امی رونے لگیںامی میں آپکو اسی لئے نہیں بتانا چاہ رہا تھا آپ جانتی ہیں نا موت زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہےجی بیٹآ ۔۔۔لیکنلیکن ویکھن کچھ نہیں اب

روزنِ تقدیر قسط نمبر 3 Read More »

اک بھیانک تیرگی ہے روشنی اے روشنی

اک بھیانک تیرگی ہے روشنی اے روشنیشمع جاں بجھنے لگی ہے روشنی اے روشنی کیا کوئی بھٹکا ہوا جگنو ادھر بھی آئے گارات گہری ہو چلی ہے روشنی اے روشنی آسمانوں پر ستارے ہیں نہ سینوں میں شراریہ قیامت کی گھڑی ہے روشنی اے روشنی ختم کب ہوگا یہ احساس زیاں کا رت جگاایک اک

اک بھیانک تیرگی ہے روشنی اے روشنی Read More »

جلتی ہوئی رتوں کے خریدار کون ہیں

جلتی ہوئی رتوں کے خریدار کون ہیںاے پیکر غزل ترے بیمار کون ہیں خوشبو کی ساعتوں کے طلب گار کون ہیںاس زلف مشک بو کے گرفتار کون ہیں کب تک چھپے رہیں گے ازل خامشی کے بھیدشہر صدا کے محرم اسرار کون ہیں کرنوں کی رہ گزار پہ اڑتی ہے دھول سیجو اس طرف گئے

جلتی ہوئی رتوں کے خریدار کون ہیں Read More »

کر کے سنگ غم ہستی کے حوالے مجھ کو

کر کے سنگ غم ہستی کے حوالے مجھ کوآئینہ کہتا ہے اب دل میں چھپا لے مجھ کو میں نہ دریا ہوں نہ ساحل نہ سفینہ نہ بھنورداور غم کسی سانچے میں تو ڈھالے مجھ کو اک تبسم کے عوض ہیچ نہیں جنس وفاہنس کے جو بات کرے اپنا بنا لے مجھ کو اتنا بھرپور

کر کے سنگ غم ہستی کے حوالے مجھ کو Read More »