MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

خلا کے دشت میں یہ طرفہ ماجرا بھی ہے

خلا کے دشت میں یہ طرفہ ماجرا بھی ہےوہ آسمان جو سر پر تھا زیر پا بھی ہے ہوا کے دوش پہ اک سرمئی لکیر کے ساتھمری تلاش میں شاید مری صدا بھی ہے ڈرا ہوں یوں کبھی تنہائیوں کی آہٹ سےکہ جیسے مجھ میں کوئی شے مرے سوا بھی ہے بہت عزیز ہے مجھ […]

خلا کے دشت میں یہ طرفہ ماجرا بھی ہے Read More »

نبھاؤ اب اسے جو وضع بھی بنا لی ہے

نبھاؤ اب اسے جو وضع بھی بنا لی ہےوگرنہ دہر تو اہل وفا سے خالی ہے حریم دل میں تری آرزو نے روشن کیوہ آگ جس نے شب زندگی اجالی ہے تری نگاہ کرم ہے وگرنہ اے غم دوستزمانہ کیا ترے شیدائیوں سے خالی ہے ستم ہے میری طرف پیار سے نظر نہ کرےوہ بت

نبھاؤ اب اسے جو وضع بھی بنا لی ہے Read More »

پھاندتی پھرتی ہیں احساس کے جنگل روحیں

پھاندتی پھرتی ہیں احساس کے جنگل روحیںکب سکوں پائیں گی بھٹکی ہوئی بے کل روحیں پا شکستہ ہیں شب و روز کے ویرانے میںڈھونڈتی ہیں کسے اس دشت میں پاگل روحیں جب بھی اٹھتے ہیں نگاہوں سے غم جاں کے حجابدیکھ لیتی ہیں کسی شوخ کا آنچل روحیں رونما ہو چمن دہر میں اے ابر

پھاندتی پھرتی ہیں احساس کے جنگل روحیں Read More »

رات لمبی بھی ہے اور تاریک بھی شب گزاری کا ساماں کرو دوستو

رات لمبی بھی ہے اور تاریک بھی شب گزاری کا ساماں کرو دوستوجانے پھر کب یہ ملنا مقدر میں ہو اپنی اپنی کہانی کہو دوستو کس پری چہرہ سے پیار تم نے کیا کون سے دیس کے شاہزادے ہو تماپنی روداد الفت سنا کر بہم داستاں کوئی تشکیل دو دوستو مجھ کو احساس ہے تم

رات لمبی بھی ہے اور تاریک بھی شب گزاری کا ساماں کرو دوستو Read More »

شب کی دہلیز سے کس ہاتھ نے پھینکا پتھر

شب کی دہلیز سے کس ہاتھ نے پھینکا پتھرہو گیا صبح کا مہکا ہوا چہرہ پتھر کچھ انوکھی تو نہیں میری محبت کی شکستآئنے جب بھی مقابل ہوئے جیتا پتھر اس طلسمات کی وادی میں پلٹ کر بھی نہ دیکھورنہ ہو جائے گا خود تیرا سراپا پتھر یاد کی لہر بہا لائی ہے کس دیس

شب کی دہلیز سے کس ہاتھ نے پھینکا پتھر Read More »

یہ رات کاش اسی دل کشی سے ڈھلتی رہے

یہ رات کاش اسی دل کشی سے ڈھلتی رہےافق کے پاس پہاڑوں میں آگ جلتی رہے دراز تر ہو خیالوں کی بستیوں کا سفرمری تلاش صدا زاویے بدلتی رہے کوئی چراغ نہ میرے حریم غم میں جلےخود اپنی آنچ میں یہ تیرگی پگھلتی رہے شکستہ ہو کے بھی نومید ہو نہ دل تیرابجھے چراغ میں

یہ رات کاش اسی دل کشی سے ڈھلتی رہے Read More »

بُجھے دلوں میں یقینِ سحر سلامت ہے

بُجھے دلوں میں یقینِ سحر سلامت ہےکہ اسمِ پاک ترا صبح کی علامت ہے کجی سے دُور رہی تیرے گلستاں کی بہارکہ تیرے باغ کا ہر نخل سرو قامت ہے وہ اب ہوں کوچۂ طائف کہ شام کے بازارترے لہو کا تقاضا ہی استقامت ہے تو وہ چراغ جو نورِ ازل سے روشن ہےتو وہ

بُجھے دلوں میں یقینِ سحر سلامت ہے Read More »

آسمان یاس پر کھویا ستارہ ڈھونڈھنا

آسمان یاس پر کھویا ستارہ ڈھونڈھناہے دل آزردہ کو چہرہ تمہارا ڈھونڈھنا بحر ہستی سے کہوں اک پل ذرا اک پل ٹھہرایک آہستہ قدم بس ہے کنارہ ڈھونڈھنا اس غم دوراں کی تاریکی میں اے جان سحردل ہمارا کھو گیا ہے دل ہمارا ڈھونڈھنا اجنبی چہروں کے پیچھے ہے چھپی رہ آتماان نظاروں سے ادھر

آسمان یاس پر کھویا ستارہ ڈھونڈھنا Read More »

بستیاں تو آسماں لے جائیں گے

بستیاں تو آسماں لے جائیں گےیہ سمندر کس کنارے جائیں گے فاصلوں میں زندگی کھو جائے گیگنبدوں میں خواب دیکھے جائیں گے تم کسی منظر میں سن لینا ہمیںہم کبھی گونجوں میں ڈھلتے جائیں گے دور تک یہ راستے خاموش ہیںدور تک ہم خود کو سنتے جائیں گے اک دفعہ کی نیند کیسا جرم ہےعمر

بستیاں تو آسماں لے جائیں گے Read More »

دکھوں کے روپ بہت اور سکھوں کے خواب بہت

دکھوں کے روپ بہت اور سکھوں کے خواب بہتترا کرم ہے بہت پر مرے عذاب بہت تو کتنا دور بھی ہے کس قدر قریب بھی ہےبڑا ہے ہجر کا صحرائے پر سراب بہت حقیقت شب ہجراں کے راز کھوئے گئےطویل دن ہیں بڑے راستے خراب بہت چلیں گے کتنا ترے غم کے ساتھ ساتھ قدمشکنجہ

دکھوں کے روپ بہت اور سکھوں کے خواب بہت Read More »