MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

عشق کی مار بڑی دردیلی عشق میں جی نہ پھنسانا جی

عشق کی مار بڑی دردیلی عشق میں جی نہ پھنسانا جیسب کچھ کرنا، عشق نہ کرنا، عشق سے جان بچانا جی وقت نہ دیکھیں، عُمر نہ دیکھیں، جب چاہے مجبُور کریںموت اور عشق کے آگے لوگو چلے نہ کوئی بہانہ جی مرنا وہ بھی عشق میں مرنا کام بڑی جی داری کااپنے ہی اشکوں پہ […]

عشق کی مار بڑی دردیلی عشق میں جی نہ پھنسانا جی Read More »

بتوں کو بھول جاتے ہیں خدا کو یاد کرتے ہیں

بتوں کو بھول جاتے ہیں خدا کو یاد کرتے ہیںبرہمن جب سفر سوئے الہ آباد کرتے ہیں نہ گردن مارتے ہیں وہ نہ دیتے ہیں کبھی پھانسیحسینوں کو یہ سب مشہور کیوں جلاد کرتے ہیں ستم ایجاد کہتے ہیں یہ کیوں معشوق کو شاعرستم بھی کیا کوئی شے ہے جسے ایجاد کرتے ہیں ہمیں بتلا

بتوں کو بھول جاتے ہیں خدا کو یاد کرتے ہیں Read More »

غنچہ دہن وہی ہے کہ گونگا کہیں جسے

غنچہ دہن وہی ہے کہ گونگا کہیں جسےہے سرو قد وہ اصل میں لنگڑا کہیں جسے معشوق چاہیے کہ ہو ایسا سیاہ فاممجنوں میاں بھی دیکھ کے لیلیٰ کہیں جسے مے کو جو اصطلاح میں کہتے ہیں دخت رزوہ مغبچہ ہے رندوں کا سالا کہیں جسے سب جانور نہ حضرت انساں سے کیوں ڈریںپیدا ہیں

غنچہ دہن وہی ہے کہ گونگا کہیں جسے Read More »

کریں گے سب یہ دعویٰ نقدِ دل جو ہار بیٹھے ہیں

کریں گے سب یہ دعویٰ نقدِ دل جو ہار بیٹھے ہیںخفیفہ میں تمہارے عاشقِ نادار بیٹھے ہیں عجب کیا عاشقوں کو دل میں یہ معشوق کہتے ہوںیہ کیوں گھر گھیر کر میرا خدا کی مار بیٹھے ہیں شب فرقت کا اک دریائے غم ہے بیچ میں حائلجو میں اس پار بیٹھا ہوں تو وہ اس

کریں گے سب یہ دعویٰ نقدِ دل جو ہار بیٹھے ہیں Read More »

محشرستان جنوں میں دل ناکام آیا

محشرستان جنوں میں دل ناکام آیانالہ ہنگامہ نوازی پہ سر شام آیا مہر از روئے معلی جو لب بام آیادیکھیے دیکھیے اب دھوپ گئی گھام آیا برق کی شعلہ نوازی سبب طول حیاتفطرت موت تری زیست کا ہنگام آیا منتشر ہو گئے جس وقت سب اجزائے حیاتقطرہ دریا میں بہ اندازۂ انجام آیا توسن عمر

محشرستان جنوں میں دل ناکام آیا Read More »

مجنوں کا جو اے لیلیٰ جوتا نہ پھٹا ہوتا

مجنوں کا جو اے لیلیٰ جوتا نہ پھٹا ہوتاپیچھے ترے ناقہ کے کیوں برہنہ پا ہوتا بے فائدہ غل مچتا کیا جانیے کیا ہوتاگر ان کی گلی ہوتی اور میرا گلا ہوتا ہوتا اگر آدم کا دنیا میں کوئی بھائینسل بنی آدم کا واللہ چچا ہوتا گر قیس کی وحشت کا کچھ اونٹ اثر لیتالیلیٰ

مجنوں کا جو اے لیلیٰ جوتا نہ پھٹا ہوتا Read More »

قیس کہتا تھا یہی فکر ہے دن رات مجھے

قیس کہتا تھا یہی فکر ہے دن رات مجھےمار دے ناقۂ لیلیٰ نہ کہیں لات مجھے رخ روشن پہ فدا اور نہ سیہ زلف کا خبطنہ کوئی دن ہے مجھے اور نہ کوئی رات مجھے مکتب عشق میں بیٹھا ہوا حل کرتا ہوںجیسے الجبرا کے ملتے ہیں سوالات مجھے بوتلیں بیچتے نخاس میں دیکھا اس

قیس کہتا تھا یہی فکر ہے دن رات مجھے Read More »

تمنا ہے کسی کی تیغ ہو اور اپنی گردن ہو

تمنا ہے کسی کی تیغ ہو اور اپنی گردن ہوپھر اس کے بعد یا رب سر کٹے نالے میں مدفن ہو ہجوم عام ہو اور مجتمع گوروں کی پلٹن ہوسمجھ لو لوٹ آئے ہیں جو اسٹیشن پہ دن دن ہو کہیں قاتل کو ہم محبوب اگر ہے عین نادانیحذر لازم ہے ایسے شخص سے جو

تمنا ہے کسی کی تیغ ہو اور اپنی گردن ہو Read More »

تیرے رہنے کو مناسب تھا کہ چھپر ہوتا

تیرے رہنے کو مناسب تھا کہ چھپر ہوتاکہ نہ چوکھٹ تری ہوتی نہ مرا سر ہوتا قسمت نجد کا گر قیس کمشنر ہوتالیڈی لیلیٰ کی ہوا خوری کو موٹر ہوتا غیر مل جل کے اٹھا لیتے کہ تھے بے غیرتگو پہاڑ آپ کے احسان کا چھپر ہوتا چائے میں ڈال کر عشاق اسے پی جاتےدر

تیرے رہنے کو مناسب تھا کہ چھپر ہوتا Read More »

وحشت میں ہر اک نقشہ الٹا نظر آتا ہے

وحشت میں ہر اک نقشہ الٹا نظر آتا ہےمجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے اے مرغ سحر ککڑوں کوں بول کہیں جلدیتو بھی شب فرقت میں گونگا نظر آتا ہے داڑھی کو تری واعظ سب دیکھ کے کہتے ہیںوہ قصر تقدس کا چھجا نظر آتا ہے باز آئے محبت سے اے عشق خدا

وحشت میں ہر اک نقشہ الٹا نظر آتا ہے Read More »