MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اک نئے شہر کی تصویر بناتے جاویں

اک نئے شہر کی تصویر بناتے جاویںرنگ بھرنے کے لئے خون بہاتے جاویں​ اوّلِ وقت ہے، پڑھ لیں کسی مسجد میں نمازواپسی میں کسی بت خانے کو ڈھاتے جاویں شہر کو شہرِخموشاں سے ملانا ہے ہمیںجو بھی دیوار نظر آئے گراتے جاویں روشنی کے لئے کافی ہے بہت آتشِ غیظسر اٹھائے جو دیا اس کو […]

اک نئے شہر کی تصویر بناتے جاویں Read More »

میں چیر نہ دوں کیوں دامن کو، میں کیوں نہ گریباں چاک رہوں

میں چیر نہ دوں کیوں دامن کو، میں کیوں نہ گریباں چاک رہوںکسی مقتل میں بَس جاؤں کہیں، اور ڈال کے سَر پہ خاک رہوں اِک رات عزّا خانے میں رہوں، اِک رات کسی مسجد میں پڑوںاِک رات رہوں میں شرمندہ، اِک رات بہت بے باک رہوں اِک صبح کسی مندر میں جُھکوں، اِک شام

میں چیر نہ دوں کیوں دامن کو، میں کیوں نہ گریباں چاک رہوں Read More »

چشمِ وحشت، یہ تری گریہ گزاری کم ہے

چشمِ وحشت، یہ تری گریہ گزاری کم ہےغم زیادہ ہے مگر سینہ فگاری کم ہے اتنا چلّائیں کہ قاتل کی رگیں پھٹ جائیںرونے والو! ابھی آواز ہماری کم ہے اس لیے بڑھتی چلی جاتی ہے لاشوں کی قطارمیری فرصت کے لئے زخم شماری کم ہے چیختے ہیں بدنِ طفل سے زخموں کے نشاناتنی شمشیروں میں

چشمِ وحشت، یہ تری گریہ گزاری کم ہے Read More »

پاؤں کو جُنبش، تمنّا کو مچلنا چاہئے

پاؤں کو جُنبش، تمنّا کو مچلنا چاہئےشوقِ زوّاری رگ و پے سے ابلنا چاہئے کربلا ہے آخری سجدہ گہہِ سبطِ رسول عکربلا میں سر بہ سجدہ ہوکے چلنا چاہئے بہہ رہا ہوں آنکھ سے قطرہ بہ قطرہ یم بہ یماس ترائی پر تو مٹّی کو پگھلنا چاہئے سانس لیتا ہوں جہاں بکھرا تھا قاسم ع

پاؤں کو جُنبش، تمنّا کو مچلنا چاہئے Read More »

کوئی مُشکل ہو نکل جاتا ہوں آسانی سے

کوئی مُشکل ہو نکل جاتا ہوں آسانی سےمَیں ہوں آسودہ زرِ شُکر کی ارزانی سے آئینہ عکس مرا جزب تو کرتا ہے مگرٹُوٹ جاتا ہے تحیر کی فراوانی سے رقص کرتے میں جو تلووں سے لہو بہتا ہےکل مصلے پہ بہا تھا مری پیشانی سے مَیں بگولے کی طرح کرتا رہا اپنا طواففائدہ کُچھ تو

کوئی مُشکل ہو نکل جاتا ہوں آسانی سے Read More »

خلوص و جذبے دل نذر عقیدت لے کے آئے ہیں

خلوص و جذبے دل نذر عقیدت لے کے آئے ہیںگناہ گار محبت ہیں محبت لے کے آے ہیں درِ رحمت پہ حاضر ہیں تمہارے چاہنے والےبڑی حسرت سے امید شفاعت لے کے آئے ہیں یہی بس چند آنسو ہیں یہی بس چند آہیں ہیںملی ہے جو زمانے سے وہ دولت لے کے آے ہیں مجھے

خلوص و جذبے دل نذر عقیدت لے کے آئے ہیں Read More »

بے نیازِ سحر ہو گئی

بے نیازِ سحر ہو گئیشامِ غم معتبر ہو گئی اک نظر کیا اُدھر ہو گئیاجنبی ہر نظر ہو گئی میری دیوانگی ناصحاآخرش راہبر ہو گئی زندگی کیا ہے اور موت کیاشب ہوئی اور سحر ہو گئی ان کی آنکھوں میں اشک آ گئےداستاں مختصر ہو گئی چار تنکے ہی رکھ پائے تھےبجلیوں کو خبر ہو

بے نیازِ سحر ہو گئی Read More »

دنیا بنی تو حمد و ثنا بن گئی غزل

دنیا بنی تو حمد و ثنا بن گئی غزلاُترا جو نور نورِ خدا بن گئی غزل گونجا جو ناد بَرمہہ بنی رقصِ مہر و ماہذرے جو تھرتھرائے صدا بن گئی غزل چمکی کہیں جو برق تو احساس بن گئیچھائی کہیں گھٹا تو ادا بن گئی غزل آندھی چلی تو قہر کے سانچے میں ڈھل گئیبادِ

دنیا بنی تو حمد و ثنا بن گئی غزل Read More »

سامنے آنکھوں کے گھر کا گھر بنے اور ٹوٹ جائے

سامنے آنکھوں کے گھر کا گھر بنے اور ٹوٹ جائےکیا کرے وہ جس کا دل پتھر بنے اور ٹوٹ جائے ہائے رے ان کے فریبِ وعدۂ فردا کا حالدیکھتے ہی دیکھتے اک در بنے اور ٹوٹ جائے حادثوں کی ٹھوکروں سے چُور ہونا ہے تو پھرکیوں نہ خاموشی سے دل ساغر بنے اور ٹوٹ جائے

سامنے آنکھوں کے گھر کا گھر بنے اور ٹوٹ جائے Read More »

اہلِ دل کے واسطے پیغام ہو کر رہ گئی

اہلِ دل کے واسطے پیغام ہو کر رہ گئیزندگی مجبوریوں کا نام ہو کر رہ گئی ہو گئے برباد تیری آرزو سے پیشترزیست نذرِ گردشِ ایام ہو کر رہ گئی توبہ توبہ اس نگاہِ مست کی سرشاریاںدیر پا توبہ بھی غرقِ جام ہو کر رہ گئی اُس نگاہِ ناز کو تو کوئی کچھ کہتا نہیںاور

اہلِ دل کے واسطے پیغام ہو کر رہ گئی Read More »