MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

وہ ہو کیسا ہی دبلا تار بستر ہو نہیں سکتا

وہ ہو کیسا ہی دبلا تار بستر ہو نہیں سکتاغلط ہے آدمی اس طرح لاغر ہو نہیں سکتا کبھی آنسو کا قطرہ مثل گوہر ہو نہیں سکتاغلط ہے ابر نیساں دیدۂ تر ہو نہیں سکتا میاں مجنوں ہوں چاہے کوہ کن ہو دونوں خبطی تھےکسی کا کچھ بھی ان سے خاک پتھر ہو نہیں سکتا […]

وہ ہو کیسا ہی دبلا تار بستر ہو نہیں سکتا Read More »

کوئی معیار محبت نہ رہا میرے بعد

کوئی معیار محبت نہ رہا میرے بعدہر طرف عام ہیں خاصان وفا میرے بعد سلسلہ ان کے ستم کا نہ رہا میرے بعدبدلا بدلا سا ہے دستور جفا میرے بعد کون پہنے گا گلے میں تری الفت کی کمندکس کے سر ہوگی تری زلف دوتا میرے بعد ہوں گی قربان ترے رخ پہ نگاہیں کس

کوئی معیار محبت نہ رہا میرے بعد Read More »

میرے رونے پر کسی کی چشم گریاں ہائے ہائے

میرے رونے پر کسی کی چشم گریاں ہائے ہائےوہ گل تر وہ فضائے شبنمستاں ہائے ہائے وہ کسی کی یاد پیہم شام ہجراں ہائے ہائےہر نفس وقف نوا ہائے پریشاں ہائے ہائے دل پہ درد عشق کا ایک ایک احساں ہائے ہائےجان کی صورت میں کوئی دشمن جاں ہائے ہائے صبح ہجراں بد تر از

میرے رونے پر کسی کی چشم گریاں ہائے ہائے Read More »

نہیں یہ جلوہ ہائے راز عرفاں دیکھنے والے

نہیں یہ جلوہ ہائے راز عرفاں دیکھنے والےتمہیں کب دیکھتے ہیں کفر و ایماں دیکھنے والے خدا رکھے ترے غم کا بہت نازک زمانہ ہےسحر دیکھیں نہ دیکھیں شام ہجراں دیکھنے والے یہ کس نے لا کے رکھ دی سامنے تصویر محشر کیابھی چونکے ہی تھے خواب پریشاں دیکھنے والے کہاں تک آئینہ دار تجلیات

نہیں یہ جلوہ ہائے راز عرفاں دیکھنے والے Read More »

شوق کو بے ادب کیا عشق کو حوصلہ دیا

شوق کو بے ادب کیا عشق کو حوصلہ دیاعذر نگاہ دوست نے جرم نظر سکھا دیا آہ وہ بد نصیب آہ نالۂ عندلیب آہمیرا فسانۂ الم جیسے مجھے سنا دیا ٹوٹ سکا نہ پستئ فکر و نظر کا سلسلہدام نہ قفس کو ہم نے خود دام و قفس بنا دیا میرے مذاق دید کی شرم

شوق کو بے ادب کیا عشق کو حوصلہ دیا Read More »

کسی کے نقش قدم کا نشاں نہیں ملتا

کسی کے نقش قدم کا نشاں نہیں ملتاوہ رہ گزر ہوں جسے کارواں نہیں ملتا قدم قدم پہ تری راہ میں فلک حائلمجھے تلاش سے بھی آسماں نہیں ملتا انہیں طریقۂ لطف و کرم نہیں معلومہمیں سلیقۂ آہ و فغاں نہیں ملتا عروس دہر کو غازہ بھی چاہئے لیکنغبار جادۂ امن و اماں نہیں ملتا

کسی کے نقش قدم کا نشاں نہیں ملتا Read More »

کچھ صلہ ہی نہ ملا عشق میں جل جانے کا

کچھ صلہ ہی نہ ملا عشق میں جل جانے کاشمع نے لوٹ لیا سوز بھی پروانے کا ضبط فریاد کی بے سود توقع دل سےظرف کیوں دیکھیے ٹوٹے ہوئے پیمانے کا میرا مٹنا نہیں آسان محبت کی قسمموت ہے نام ترے دل سے اتر جانے کا حشر تک روئے گی دنیائے محبت مجھ کوسلسلہ ختم

کچھ صلہ ہی نہ ملا عشق میں جل جانے کا Read More »

محبت کی انتہا چاہتا ہوں

محبت کی انتہا چاہتا ہوںانہیں حاصل ابتدا چاہتا ہوں اسے برملا دیکھنا چاہتا ہوںادب اے محبت یہ کیا چاہتا ہوں غم عشق کا سلسلا چاہتا ہوںمیں تجھ تک ترا واسطا چاہتا ہوں کرم ہائے نا مستقل کا گلہ کیاستم ہائے بے انتہا چاہتا ہوں وہ گھبرا کے جس پر نظر ڈال ہی دیںمیں وہ قلب

محبت کی انتہا چاہتا ہوں Read More »

سب کائنات حسن کا حاصل لئے ہوئے

سب کائنات حسن کا حاصل لئے ہوئےبیٹھا ہوں دل میں عشق کی محفل لئے ہوئے اک اک نظر فریبیٔ ساحل لئے ہوئےہر موج سامنے ہے مرا دل لئے ہوئے سرمایۂ نشاط غم دل لئے ہوئےہوں یعنی کیف عشق کا حاصل لئے ہوئے پھر کشتیٔ حیات ہے گرداب غم کے ساتھطوفان بے نیازیٔ ساحل لئے ہوئے

سب کائنات حسن کا حاصل لئے ہوئے Read More »

ان کا برباد کرم کہنے کے قابل ہو گیا

ان کا برباد کرم کہنے کے قابل ہو گیادرد پہلو میں جہاں بھی تھا وہیں دل ہو گیا بارہا دیکھا ہے دل نے او مرے محو خرامحشر اٹھا اور ترے قدموں میں شامل ہو گیا دل جہاں اچھلا فضائے دو جہاں پر چھا گیاعرصۂ کونین جب سمٹا مرا دل ہو گیا بے خبر رہنا ہی

ان کا برباد کرم کہنے کے قابل ہو گیا Read More »