وہ ہو کیسا ہی دبلا تار بستر ہو نہیں سکتا
وہ ہو کیسا ہی دبلا تار بستر ہو نہیں سکتاغلط ہے آدمی اس طرح لاغر ہو نہیں سکتا کبھی آنسو کا قطرہ مثل گوہر ہو نہیں سکتاغلط ہے ابر نیساں دیدۂ تر ہو نہیں سکتا میاں مجنوں ہوں چاہے کوہ کن ہو دونوں خبطی تھےکسی کا کچھ بھی ان سے خاک پتھر ہو نہیں سکتا […]
وہ ہو کیسا ہی دبلا تار بستر ہو نہیں سکتا Read More »