مرے ذوق ادب کو دیر میں آرام آئے گا
مرے ذوق ادب کو دیر میں آرام آئے گاکہیں پچھلے پہر تک شاعرہ کا نام آئے گا ابھی تو سلسلہ ہے شاعروں کی بے نوائی کاصراحی آئے گی خم آئے گا تب جام آئے گا پاپولر میرٹھی
مرے ذوق ادب کو دیر میں آرام آئے گا Read More »
مرے ذوق ادب کو دیر میں آرام آئے گاکہیں پچھلے پہر تک شاعرہ کا نام آئے گا ابھی تو سلسلہ ہے شاعروں کی بے نوائی کاصراحی آئے گی خم آئے گا تب جام آئے گا پاپولر میرٹھی
مرے ذوق ادب کو دیر میں آرام آئے گا Read More »
تم کنواری رہ کے شوہر ڈھونڈتی رہ جاؤ گیدیکھ لینا زندگی بھر ڈھونڈتی رہ جاؤ گی جلد سے جلد اپنے گھر میں نوکری دے دو مجھےورنہ بے قیمت کا نوکر ڈھونڈتی رہ جاؤ گی پاپولر میرٹھی
تم کنواری رہ کے شوہر ڈھونڈتی رہ جاؤ گی Read More »
میری قسمت کا ستارہ ہے چمکنے والامیرے بارے میں یہ ووٹر کا خیال اچھا ہے اس بھروسے پہ الیکشن میں کھڑا ہوں میں بھیاک نجومی نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے پاپولر میرٹھی
اک نجومی نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے Read More »
اس گرانی میں مرے ساتھ ہیں بارہ بچےٹھوکریں کھائے گا یہ قافلہ کیا میرے بعد میری بیگم نے کبھی یہ نہیں سوچا آخر”کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد پاپولر میرٹھی
اس گرانی میں مرے ساتھ ہیں بارہ بچے Read More »
ہجر ہے اب تھا یہیں میں زار ہم پہلوئے دوستمیرے بستر پر مجھے تڑپا رہی ہے بوئے دوست ختم زینت ہو گئی مشاطہ نے لے لیں بلائیںگیسوئے پر خم نے چومے شانہ و بازوئے دوست امتحاں قوت کا ہے تلوار اٹھائی جاتی ہےاب تو اس قابل ہوئے ہیں پنجہ و بازوئے دوست زخم کھاتا بڑھ
ہجر ہے اب تھا یہیں میں زار ہم پہلوئے دوست Read More »
جس کو عادت وصل کی ہو ہجر سے کیوں کر بنےجب اٹھے یہ غم کہ دل کا آئنہ پتھر بنے اب جو وہ بنوائیں گہنا یاد رکھنا گل فروشپھول بچ جائیں تو میری قبر کی چادر بنے بعد آرائش بلائیں کون لے گا میرے بعدیاد کرنا مجھ کو جب زلف پری پیکر بنے ہے تمہارے
جس کو عادت وصل کی ہو ہجر سے کیوں کر بنے Read More »
مجھ کو منظور ہے مرنے پہ سبک باری ہواور احباب کو ہے فکر کفن بھاری ہو زندگی میں نہ ملا زخم جگر کو مرہمخیر چادر ہی مری قبر کی زنگاری ہو یاد ہے روز ازل دل جو گراں ہے کیا غممیں نے خود کہہ کے لیا تھا کہ ذرا بھاری ہو آتش حسن جوانان چمن
مجھ کو منظور ہے مرنے پہ سبک باری ہو Read More »
مار ڈالے گی ہمیں یہ خوش بیانی آپ کیموت کا پیغام آئے گا زبانی آپ کی زندگی کہتے ہیں کس کو موت کس کا نام ہےمہربانی آپ کی نا مہربانی آپ کی بعد مردن کھینچ لایا جذب دل سینے پہ ہاتھاک انگوٹھی میں جو پہنے تھا نشانی آپ کی بڑھ چکا قد بھی فروغ حسن
مار ڈالے گی ہمیں یہ خوش بیانی آپ کی Read More »
راز الفت کے عیاں رات کو سارے ہوتےہم کئی بار انہیں گھبرا کے پکارے ہوتے شعلۂ حسن کو روکا ہے نقاب رخ نےابھی موتی ترے کانوں کے شرارے ہوتے جانتے تھے کہ اتارو گے لحد میں ہم کومیلے کپڑے ابھی تم نے نہ اتارے ہوتے میرے مرنے کے رہے منتظر احسان کیاکیوں سہی آپ نے
راز الفت کے عیاں رات کو سارے ہوتے Read More »
شراب ناب کا قطرہ جو ساغر سے نکل جائےتڑپ کے دل مرا قابوئے دلبر سے نکل جائے خوشی میں کہہ رہا ہوں آمد آمد ہے جو اس گل کیکوئی کہہ دے کہ ویرانی مرے گھر سے نکل جائے ستاتے ہیں رقیب آ آ کے میں گو چھپ کے بیٹھا ہوںعجب یہ ظلم ہے کوئی کدھر
شراب ناب کا قطرہ جو ساغر سے نکل جائے Read More »