MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

شروع اہل محبت کے امتحان ہوئے

شروع اہل محبت کے امتحان ہوئےاب ان کو ناز ہوا ہے کہ ہم جوان ہوئے سبھوں کی آ گئی پیری جو تم جوان ہوئےزمیں کا دل ہوا مٹی خم آسمان ہوئے غضب سے کم نہیں ہوتا وفور رحمت بھیمیں ڈر گیا وہ زیادہ جو مہربان ہوئے ارے ذرا مرے دل سے یہ کوئی پوچھ آئےاسی […]

شروع اہل محبت کے امتحان ہوئے Read More »

سرخ ہو جاتا ہے منہ میری نظر کے بوجھ سے

سرخ ہو جاتا ہے منہ میری نظر کے بوجھ سےکیا بنے گی زیور گلہائے تر کے بوجھ سے یوں ہوئے ہیں خاک بعد دفن تیرے ناتواںپس گئے ہیں چادر گلہائے تر کے بوجھ سے شرم گو کم ہو گئی پر نازکی کو کیا کریںاب جھکے جاتے ہیں خود اپنی نظر کے کے بوجھ سے اف

سرخ ہو جاتا ہے منہ میری نظر کے بوجھ سے Read More »

عقدے الفت کے سب اے رشک قمر کھول دئیے

عقدے الفت کے سب اے رشک قمر کھول دئیےسینہ یوں چاک کیا داغ جگر کھول دیئے سب حسینوں نے مرے قتل پہ کمریں باندھیںڈورے تلواروں کے اور بند سپر کھول دیئے آ گیا ہوش تری چال کے مشتاقوں کوحشر کی سن کے صدا دیدۂ تر دیئے پائی تاروں نے ضیا بڑھ گئی تاریکئ شباس نے

عقدے الفت کے سب اے رشک قمر کھول دئیے Read More »

وصل کے دن کا اشارہ ہے کہ ڈھل جاؤں گا

وصل کے دن کا اشارہ ہے کہ ڈھل جاؤں گادل یہ کہتا ہے کہ قابو سے نکل جاؤں گا آتش عشق بڑھی جاتی ہے بیٹھو دم بھرگرم رفتار رہو گے تو میں جل جاؤں گا انتظار آپ کا ایسا ہے کہ دم کہتا ہےنگہ شوق ہوں آنکھوں سے نکل جاؤں گا دل سے کہتا ہے

وصل کے دن کا اشارہ ہے کہ ڈھل جاؤں گا Read More »

اندازِ سخن اس لیے جوبن میں نہیں تھا

andaz e Sukhan is lyee joban main nahi tha غزل اندازِ سخن اس لیے جوبن میں نہیں تھاوہ پھول جو میرا تھا وہ گلشن میں نہیں تھا پھونکا ہے مرے گھر پہ کسی شخص نے پڑھ کردیوار کا سایہ مرے آنگن میں نہیں تھا جو کرتا رہا آنکھوں کو خیرہ مری ہر پلمنظر وہ حسیں

اندازِ سخن اس لیے جوبن میں نہیں تھا Read More »

محبت کا جزیرہ دلنشیں ہے

Mohabat ka jazeera Dil Nasheen Hay غزل99 محبت کا جزیرہ دلنشیں ہےبتاؤں کیا تجھے کتنا حسیں ہے ٹہلتی پھر رہی ہوں جب سے اس میںملا جو شخص وہ زہرہ جبیں ہے جدھر دیکھوں ادھر رقصاں محبتپریشانی مجھے کوئی نہیں ہے ہے خوشبو بھینی بھینی اس نگر میںمحبت سے یہ مہکی سر زمیں ہے چلا آئے

محبت کا جزیرہ دلنشیں ہے Read More »

اپنی بیتی ہوئی رنگین جوانی دے گا

اپنی بیتی ہوئی رنگین جوانی دے گامجھ کو تصویر بھی دے گا تو پرانی دے گا چھوڑ جائے گا مرے جسم میں بکھرا کے مجھےوقت رخصت بھی وہ اک شام سہانی دے گا عمر بھر میں کوئی جادو کی چھڑی ڈھونڈوں گیمیری ہر رات کو پریوں کی کہانی دے گا ہم سفر میل کا پتھر

اپنی بیتی ہوئی رنگین جوانی دے گا Read More »

لیا ہے کس قدر سختی سے اپنا امتحاں ہم نے

لیا ہے کس قدر سختی سے اپنا امتحاں ہم نےکہ اک تلوار رکھ دی زندگی کے درمیاں ہم نے ہمیں تو عمر بھر رہنا تھا خوابوں کے جزیروں میںکناروں پر پہنچ کر پھونک ڈالیں کشتیاں ہم نے ہمارے جسم ہی کیا سائے تک جسموں کے زخمی ہیںدلوں میں گھونپ لیں ہیں روشنی کی برچھیاں ہم

لیا ہے کس قدر سختی سے اپنا امتحاں ہم نے Read More »

ایک دیے نے صدیوں کیا کیا دیکھا ہے بتلائے کون

ایک دیے نے صدیوں کیا کیا دیکھا ہے بتلائے کونچھوڑو اگلے وقتوں کے قصے پھر سے دہرائے کون اب بھی کھڑی ہے سوچ میں ڈوبی اجیالوں کا دان لئےآج بھی ریکھا پار ہے راون سیتا کو سمجھائے کون اپنا اپنا آسن چھوڑ کے ہر مورت اٹھ آئی ہےسونے کی دیواروں میں رہ کر پاتھر کہلائے

ایک دیے نے صدیوں کیا کیا دیکھا ہے بتلائے کون Read More »

پڑا ہے زندگی کے اس سفر سے سابقہ اپنا

پڑا ہے زندگی کے اس سفر سے سابقہ اپناجہاں چلتا ہے اپنے ساتھ خالی راستہ اپنا کسی دریا کی صورت بہہ رہی ہوں اپنے اندر میںمرا ساحل بڑھاتا جا رہا ہے فاصلہ اپنا لٹا کے اپنا چہرہ تک رہی ہوں اپنا منہ جیسےکوئی پاگل الٹ کے دیکھتا ہو آئینہ اپنا یہ بستی لوگ کہتے ہیں

پڑا ہے زندگی کے اس سفر سے سابقہ اپنا Read More »