MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جب بھی اِس راہ سے وہ رشکِ بُتاں گزرے گا

جب بھی اِس راہ سے وہ رشکِ بُتاں گزرے گادِل میں ٹھہرے گا یقیں اور گماں گزرے گا ہائے وہ وقت کہ جب تم نہ میسّر ہو گےہائے وہ وقت گزارے سے کہاں گزرے گا اُس طرف منہ نہیں کرتا کوئی ڈرتا لیکنہم جو گزرے تو اُدھر سے بھی جہاں گزرے گا بات یہ اُس […]

جب بھی اِس راہ سے وہ رشکِ بُتاں گزرے گا Read More »

اسی پہ آنکھ ٹھہرتی ہے پیارا لگتا ہے

اسی پہ آنکھ ٹھہرتی ہے پیارا لگتا ہےہمیں جو دیکھ لے ہنس کے، ہمارا لگتا ہے اسی کی بات سنے اور اسی کی بات کرےہمارے دل پہ اسی کا اِجارہ لگتا ہے پھٹا لباس نہ دیکھ اس کی بات غور سے سنمجھے وہ شخص محبت میں ہارا لگتا ہے ادب میں عہدے نہیں کام بولتا

اسی پہ آنکھ ٹھہرتی ہے پیارا لگتا ہے Read More »

الگ رکھ کے ادب آداب تیرے

الگ رکھ کے ادب آداب تیرےیہ آنکھیں دیکھتی ہیں خواب تیرے مَیں اپنا عشق پورا لکھ چکا ہوںادھورے رہ گئے ہیں باب تیرے مرا اِک اشک اترا پانیوں میںسمندر ہو گئے پایاب تیرے کسی کی دھجّیوں پر ہنسنے والےہوئے کیا اِطلس و کمخواب تیرے مجھے للکارنے والے! کہاں ہوسفینے ہو گئے غرقاب تیرے مری چشمِ

الگ رکھ کے ادب آداب تیرے Read More »

اسی طرح کی محبت، اسی طرح کے دکھ

اسی طرح کی محبت، اسی طرح کے دکھخدا دِکھائے نہ تجھ کو مری طرح کے دکھ ہمارے سامنے بدلا ہے زندگی نے لباسہمارے سامنے آئے نئی طرح کے دکھ ہماری ذات کے حجرے سے سرسری نہ گزرہمارے دکھ ہیں میاں! دوسری طرح کے دکھ جو اہلِ عشق ہوں اپنی شریعتوں کے امینتو ان کے ہوتے

اسی طرح کی محبت، اسی طرح کے دکھ Read More »

ماہِ نو کا پیام ہو جیسے

ماہِ نو کا پیام ہو جیسےحسن وہ بے نیام ہو کیسے چپ بھی ہو تو وہ بولتی ہی لگےوہ سراپا کلام ہو جیسے وہ جدھر جائے ساتھ ساتھ چلےآنکھ اس کی غلام ہو جیسے چاندنی سی ہے چاندنی ہر سوچھت پہ ماہِ تمام ہو جیسے آبِ سادہ کِیا تھا پیش اس نےجھوم اٹھا دل کہ

ماہِ نو کا پیام ہو جیسے Read More »

یہ کِس ڈھب کے اجالے ہو رہے ہیں

یہ کِس ڈھب کے اجالے ہو رہے ہیںاندھیرے اور گہرے ہو رہے ہیں تو کیا اب حسن تیرا ڈھل رہا ہےترے بیمار اَچھّے ہو رہے ہیں ترے نزدیک اگر کوئی نہیں ہےتو پھر یہ کام کیسے ہو رہے ہیں بجھائے پیاس کون اب قافلوں کیکنویں بھی اب تو پیاسے ہو رہے ہیں کسی کا عشق

یہ کِس ڈھب کے اجالے ہو رہے ہیں Read More »

عقل پہنچی جو روایات کے کاشانے تک

عقل پہنچی جو روایات کے کاشانے تکایک ہی رسم ملی کعبہ سے بت خانے تک وادئ شب میں اجالوں کا گزر ہو کیسےدل جلائے رہو پیغام سحر آنے تک یہ بھی دیکھا ہے کہ ساقی سے ملا جام مگرہونٹ ترسے ہوئے پہنچے نہیں پیمانے تک ریگزاروں میں کہیں پھول کھلا کرتے ہیںروشنی کھو گئی آ

عقل پہنچی جو روایات کے کاشانے تک Read More »

ڈر ڈر کے جسے میں سن رہا ہوں

ڈر ڈر کے جسے میں سن رہا ہوںکھوئی ہوئی اپنی ہی صدا ہوں ہر لمحۂ ہجر اک صدی تھاپوچھو نہ کہ کب سے جی رہا ہوں جب آنکھ میں آ گئے ہیں آنسوخود بزم طرب سے اٹھ گیا ہوں چھٹتی نہیں خوئے حق شناسیسقراط ہوں زہر پی رہا ہوں رہبر کی نہیں مجھے ضرورتہر راہ

ڈر ڈر کے جسے میں سن رہا ہوں Read More »

دیکھ کر جادۂ ہستی پہ سبک گام مجھے

دیکھ کر جادۂ ہستی پہ سبک گام مجھےدور سے تکتی رہی گردش ایام مجھے ڈال کر ایک نظر پیار کی میری جانبدوست نے کر ہی لیا بندۂ بے دام مجھے کل سنیں گے وہی مژدہ مری آزادی کاآج جو دیکھ کے ہنستے ہیں تہہ دام مجھے دیکھ لیتا ہوں اندھیرے میں اجالے کی کرنظلمت شب

دیکھ کر جادۂ ہستی پہ سبک گام مجھے Read More »

گیا تھا بزم محبت میں خالی جام لیے

گیا تھا بزم محبت میں خالی جام لیےکٹی ہے عمر گدائی کا اتہام لیے کہیں ہوئے بھی جو روشن محبتوں کے چراغہوائیں دوڑ پڑیں وحشتوں کے دام لیے طلسم راز نہ کھل جائے تنگ بینوں پرتمہارے نام سے پہلے ہزار نام لیے بھٹک رہا ہوں میں تنہائیوں کے جنگل میںحیات رقص میں ہے حسن صبح

گیا تھا بزم محبت میں خالی جام لیے Read More »