MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مجھے کہاں مرے اندر سے وہ نکالے گا

مجھے کہاں مرے اندر سے وہ نکالے گاپرائی آگ میں کوئی نہ ہاتھ ڈالے گا وہ آدمی بھی کسی روز اپنی خلوت میںمجھے نہ پا کے کوئی آئینہ نکالے گا وہ سبز ڈال کا پنچھی میں ایک خشک درختذرا سی دیر میں وہ اپنا راستہ لے گا میں وہ چراغ ہوں جس کی ضیا نہ […]

مجھے کہاں مرے اندر سے وہ نکالے گا Read More »

تھکن سے چور ہوں لیکن رواں دواں ہوں میں

تھکن سے چور ہوں لیکن رواں دواں ہوں میںنئی سحر کے چراغوں کا کارواں ہوں میں ہوائیں میرے ورق لوٹ لوٹ دیتی ہیںنہ جانے کتنے زمانوں کی داستاں ہوں میں ہر ایک شہر نگاراں سمجھ رہا ہے مجھےذرا قریب سے دیکھو دھواں دھواں ہوں میں کسی سے بھیڑ میں چہرہ بدل گیا ہے مراتو سارے

تھکن سے چور ہوں لیکن رواں دواں ہوں میں Read More »

تو آیا تو دوار بھڑے تھے دیپ بجھا تھا آنگن کا

تو آیا تو دوار بھڑے تھے دیپ بجھا تھا آنگن کاسدھ بسرانے والے مجھ کو ہوش کہاں تھا تن من کا جانے کن زلفوں کی گھٹائیں چھائی ہیں میری نظروں میںروتے روتے بھیگ چلا اس سال بھی آنچل ساون کا تھوڑی دیر میں تھک جائیں گے نیل کمل سی رین کے پاؤںتھوڑی دیر میں تھم

تو آیا تو دوار بھڑے تھے دیپ بجھا تھا آنگن کا Read More »

وہ اک نظر سے مجھے بے اساس کر دے گا

وہ اک نظر سے مجھے بے اساس کر دے گامرے یقین کو میرا قیاس کر دے گا میں جب بھی اس کی اداسی سے اوب جاؤں گیتو یوں ہنسے گا کہ مجھ کو اداس کر دے گا ملا کے مجھ سے نگاہیں وہ میری نظروں کےذرا سی دیر میں خالی گلاس کر دے گا پھر

وہ اک نظر سے مجھے بے اساس کر دے گا Read More »

وہ یہ کہہ کہہ کے جلاتا تھا ہمیشہ مجھ کو

وہ یہ کہہ کہہ کے جلاتا تھا ہمیشہ مجھ کواور ڈھونڈے گا کہیں میرے علاوہ مجھ کو کس قدر اس کو سرابوں نے ستایا ہوگادور ہی سے جو سمجھتا رہا چشمہ مجھ کو میری امید کے سورج کو ڈبو کے ہر شاموہ دکھاتا رہا دریا کا تماشہ مجھ کو جب کسی رات کبھی بیٹھ کے

وہ یہ کہہ کہہ کے جلاتا تھا ہمیشہ مجھ کو Read More »

ذرا مشکل سے سمجھیں گے ہمارے ترجماں ہم کو

ذرا مشکل سے سمجھیں گے ہمارے ترجماں ہم کوابھی دہرا رہی ہے خود ہماری داستاں ہم کو کسی کو کیا خبر پتھر کے پیروں پر کھڑے ہیں ہمصداؤں پر صدائیں دے رہے ہیں کارواں ہم کو ہم ایسے سورما ہیں لڑ کے جب حالات سے پلٹےتو بڑھ کے زندگی نے پیش کیں بیساکھیاں ہم کو

ذرا مشکل سے سمجھیں گے ہمارے ترجماں ہم کو Read More »

اپنی آنکھوں میں ترے خواب سجانے والا

اپنی آنکھوں میں ترے خواب سجانے والااب یہاں کوئی نہیں تجھ کو منانے والا کیا سے کیا اب ترے حالات ہوئے جاتے ہیںوقت اچھا نہیں لگتا مجھے آنے والا میرے محبوب تو لیلیٰ کی لڑی سے نہ سہیپر مرا عشق ہے مجنوں کے گھرانے والا میں نا کہتا تھا بدل جائے گا آخر تو بھیبھا

اپنی آنکھوں میں ترے خواب سجانے والا Read More »

آنکھ میں رَتجگا تو ہے ہی نہیں

آنکھ میں رَتجگا تو ہے ہی نہیںہجر کا تذکرہ تو ہے ہی نہیں مِل گیا تُو، تو مِل گیا سب کچھاور کچھ مانگنا تو ہے ہی نہیں ایک ہی راستہ نجات کاہےدوسرا راستہ تو ہے ہی نہیں عکس مجھ کو دِکھا رہا ہے کون؟سامنے آئنہ تو ہے ہی نہیں معذرت کر نہ بے وفا کہہ

آنکھ میں رَتجگا تو ہے ہی نہیں Read More »

دل کے چرخے پہ سُوت سانسوں کا

دل کے چرخے پہ سُوت سانسوں کاکاتے جاتے ہیں اور زندہ ہیں ہو گئی غیر وہ گلی ، پھر بھیآتے جاتے ہیں اور زندہ ہیں اہلِ دل بول اِک محبت کاگاتے جاتے ہیں اور زندہ ہیں رنگ ، خوشبو ، فضا ، نئے منظربھاتے جاتے ہیں اور زندہ ہیں ہر قدم پر فریبِ دِلداریکھاتے جاتے

دل کے چرخے پہ سُوت سانسوں کا Read More »

اپنی الگ ہی سمت میں راہیں نکال کر

اپنی الگ ہی سمت میں راہیں نکال کروہ لے گیا ہے جسم سے سانسیں نکال کر لوٹے تو یہ نہ سوچے کہ خط جھوٹ موٹ تھےمیں رکھ چلا ہوں بام پر آنکھیں نکال کر میرے کفن کے بند نہ باندھو! ابھی مجھےملنا ہے ایک شخص سے بانہیں نکال کر کیا ظرف ہے درخت کا، حیرت

اپنی الگ ہی سمت میں راہیں نکال کر Read More »