غم میں اک موج سر خوشی کی ہے
غم میں اک موج سر خوشی کی ہےابتدا سی خود آگہی کی ہے کسے سمجھائیں کون مانے گاجیسے مر مر کے زندگی کی ہے بجھیں شمعیں تو دل جلائے ہیںیوں اندھیروں میں روشنی کی ہے پھر جو ہوں اس کے در پہ ناصیہ سامیں نے اے دل تری خوشی کی ہے میں کہاں اور دیار […]
غم میں اک موج سر خوشی کی ہے Read More »