MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

غم میں اک موج سر خوشی کی ہے

غم میں اک موج سر خوشی کی ہےابتدا سی خود آگہی کی ہے کسے سمجھائیں کون مانے گاجیسے مر مر کے زندگی کی ہے بجھیں شمعیں تو دل جلائے ہیںیوں اندھیروں میں روشنی کی ہے پھر جو ہوں اس کے در پہ ناصیہ سامیں نے اے دل تری خوشی کی ہے میں کہاں اور دیار […]

غم میں اک موج سر خوشی کی ہے Read More »

گلشن دل میں ملے عقل کے صحرا میں ملے

گلشن دل میں ملے عقل کے صحرا میں ملےجو بھی ملنا ہے ملے اور اسی دنیا میں ملے برہمی انجمن شوق کی کیا پوچھتے ہودوست بچھڑے ہوئے اکثر صف اعدا میں ملے آنے والوں نے مرے بعد گواہی دی ہےکئی گلزار مرے نقش کف پا میں ملے یوں بھی گزری ہے کہ چھائے رہے بیداری

گلشن دل میں ملے عقل کے صحرا میں ملے Read More »

کچھ مرے شوق نے در پردہ کہا ہو جیسے

کچھ مرے شوق نے در پردہ کہا ہو جیسےآج تم اور ہی تصویر حیا ہو جیسے یوں گزرتا ہے تری یاد کی وادی میں خیالخارزاروں میں کوئی برہنہ پا ہو جیسے ساز نفرت کے ترانوں سے بہلتے نہیں کیوںیہ بھی کچھ اہل محبت کی خطا ہو جیسے وقت کے شور میں یوں چیخ رہے ہیں

کچھ مرے شوق نے در پردہ کہا ہو جیسے Read More »

تجھے پسند جو دل کی لگن نہیں آئی

تجھے پسند جو دل کی لگن نہیں آئیمجھے بھی راس تری انجمن نہیں آئی اڑا سا رنگ ہے کیوں وقت کے مسیحاؤابھی تو منزل دار و رسن نہیں آئی تڑپتا ہی رہا یعقوب دار عہد کہنہوائے یوسف گل پیرہن نہیں آئی ستم شعار تو تھا غیر بھی مگر اس کوجفا طرازیٔ اہل وطن نہیں آئی

تجھے پسند جو دل کی لگن نہیں آئی Read More »

ان آنکھوں کو نظر کیا آ گیا ہے

ان آنکھوں کو نظر کیا آ گیا ہےمزاج آرزو بدلا ہوا ہے نہ جانے ہار ہے یا جیت کیا ہےغموں پر مسکرانا آ گیا ہے مری حالت پہ ان کا مسکراناجواب نا مرادی آ گیا ہے نہیں اک میں ہی ناکام محبتیہی پہلے بھی اکثر ہو چکا ہے صبا کی رو نہ غنچوں کا تبسمچمن

ان آنکھوں کو نظر کیا آ گیا ہے Read More »

کیوں یورش طرب میں بھی غم یاد آ گئے

کیوں یورش طرب میں بھی غم یاد آ گئےسوچا ترے کرم کو ستم یاد آ گئے اے دوست میکدے میں یہ کیسی ہوا چلیسب فتنہ ہائے دیر و حرم یاد آ گئے روشن ابھی ہوا تھا سر جادۂ حیاتاک کاکل سیاہ کے خم یاد آ گئے اب کیا دکھا رہا ہے رہ ماہ و کہکشاںناصح

کیوں یورش طرب میں بھی غم یاد آ گئے Read More »

آنے میں تیرے دوست بہت دیر ہو گئی

آنے میں تیرے دوست بہت دیر ہو گئیبزم حیات اب زبر و زیر ہو گئی پردے کچھ ایسے رو بہ رو آنکھوں کے آ گئےدنیا مری نگاہ میں اندھیر ہو گئی دنیا کے جبر و جور سے کیوں کر اماں ملےمیں چپ رہا تو اور بھی وہ شیر ہو گئی کیا پوچھتے ہیں اب دل

آنے میں تیرے دوست بہت دیر ہو گئی Read More »

بہت خوش تھے ساحل قریب آ گیا

بہت خوش تھے ساحل قریب آ گیاسفینہ کنارے سے ٹکرا گیا ہے بے حد خطرناک بحر جہاںجو انسان بھی اس میں ڈوبا گیا ترے ڈر سے چھپ چھپ کے پیتے تھے ہمگیا شیخ اب وہ زمانہ گیا مجھے زندگی کی دعائیں نہ دومیں ایسی دعاؤں سے اکتا گیا نہ سمجھو کسی کی کسی بات کوتمہیں

بہت خوش تھے ساحل قریب آ گیا Read More »

دل بنو دل کا مدعا بھی بنو

دل بنو دل کا مدعا بھی بنوساز بھی ساز کی صدا بھی بنو تم نے ہی دل کو درد بخشا ہےتم ہی اس درد کی دوا بھی بنو جس محبت کی ابتدا ہو تماس محبت کی انتہا بھی بنو تم خدا ہو مجھے نہیں انکارلطف جب ہے کہ ناخدا بھی بنو دوست بننا برا نہیں

دل بنو دل کا مدعا بھی بنو Read More »

بے حجاب آپ کے آنے کی ضرورت کیا تھی

بے حجاب آپ کے آنے کی ضرورت کیا تھییوں مرے ہوش اڑانے کی ضرورت کیا تھی ہم سے کہنا تھا ڈبو دیتے سفینہ اپنااتنے طوفان اٹھانے کی ضرورت کیا تھی جب سے آیا ہوں یہاں مہر بہ لب بیٹھا ہوںمجھ کو محفل میں بلانے کی ضرورت کیا تھی اپنے کردار و عمل پر جو بھروسہ

بے حجاب آپ کے آنے کی ضرورت کیا تھی Read More »