MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

صبح تک ہم رات کا زاد سفر ہو جائیں گے

صبح تک ہم رات کا زاد سفر ہو جائیں گےتجھ سے ہم آغوش ہو کر منتشر ہو جائیں گے دھوپ صحرا تن برہنہ خواہشیں یادوں کے کھیتشام آتے ہی غبار رہ گزار ہو جائیں گے دشت تنہائی میں جینے کا سلیقہ سیکھئےیہ شکستہ بام و در بھی ہم سفر ہو جائیں گے شورش دنیا کو […]

صبح تک ہم رات کا زاد سفر ہو جائیں گے Read More »

روح سے یہ شریر نے پوچھا

روح سے یہ شریر نے پوچھاتجھ سے کیا کیا ضمیر نے پوچھا ایسا ممکن ہے رُخ بدل جائےرب سے حُرمل کے تیر نے پوچھا اس حقارت بھری نظر کے عِوضکیا دعا دوں؟ فقیر نے پوچھا میرا رانجھا تو خیریت سے ہے ؟مرتے مرتے بھی ہیر نے پوچھا آپ کتنے میں دیں گےایک غزل ؟متشاعر امیر ، نے پوچھا بہرِ اولاد

روح سے یہ شریر نے پوچھا Read More »

جواُن کے روبرو رکھا بجھا بجھا سا دل دیا

جواُن کے روبرو رکھا بجھا بجھا سا دل دیاوہ مسکرادیے کہا ، بجھا بجھا سا دل دیا؟ ہو ا کا دم اکھاڑ کر ، دیا بھی آخرش بجھابلا کا کام کر گیا ، بجھا بجھا سا دل دیا شعور لینے آگئیں دبی دبی سی خرمنیںعجب سی روشنی میں تھا ، بجھا بجھا سا دل دیا

جواُن کے روبرو رکھا بجھا بجھا سا دل دیا Read More »

روکے عدو کے وار جو خود کو ہی وار کے

روکے عدو کے وار جو خود کو ہی وار کےجیتا ہوں ہار پیار کے ، میں خود کو ہار کے تو ہی بتا کہ چھوڑ کے میں عشق کیا کروںدوچار ہی تو دن ملے ، دنیا میں پیار کے بیچے ہیں ہاتھ، مرتبہ بیچا نہیں حضورہم آج بھی ہیں مُرْشِد و سَیَّد ہزار کے انسانیت

روکے عدو کے وار جو خود کو ہی وار کے Read More »

خیال یار سے یوں ، سلسلہ بحال کیا

خیال یار سے یوں ، سلسلہ بحال کیانماز وجد پڑھی رقص اور دھمال کیا وہ داد دینے لگا آنسووں کی تالی سےمرے کلام نے اُس رات تو کمال کیا نوا سے تیری نوا کو ملالیا ہم نےتُو ہم خیال لگا ہے تو ہم خیال کیا تمہارے عارض و کاکل کی مستیاں توبہزوال کی تھی وہ ساعت کہ جب“

خیال یار سے یوں ، سلسلہ بحال کیا Read More »

ہم سے ملتے تھے سِتارے آپ کے

ہم سے ملتے تھے سِتارے آپ کےپھر بھی کھو بیٹھے سہارے آپ کے کیسا جادو ہے سمجھ آتا نہیںنیند میری خواب سارے آپ کے ایسے لگتا ہے محبت ہوگئیدل جو دھڑکے ہیں ہمارے آپ کے آنکھ کے رستے مجھےآنے تو دیںدل میں گھر کرنے کو پیارے آپ کے ہوگئے ہمگام دونوں یہ جہاںساتھ جو کچھ

ہم سے ملتے تھے سِتارے آپ کے Read More »

مجھ کو ساحل کی کہانی نہ سنائیں – جائیں

مجھ کو ساحل کی کہانی نہ سنائیں – جائیںپہلے طوفان سے کشتی کو بچائیں -جائین میں دیا ہوں تو مرا کام فقط جلنا ہےآندھیاں کام کریں اپنا بُجھائیں -جائیں سر کے بل آئیں گے ہم لوگ ترے کوچے میںہم کو دکھلائی اگر اور ادائیں – جائیں واعظو سچ کی بھی تعلیم ضرور ی ہے بہتمیکدے

مجھ کو ساحل کی کہانی نہ سنائیں – جائیں Read More »

بد نظروں کا سایہ جو مرے یار پڑے گا

بد نظروں کا سایہ جو مرے یار پڑے گابستر پہ کئی روز تُو بیمار پڑے گا اک خستہ سا گھر سر ترے اسوار رہے گاحالانکہ تری راہ میں دربار پڑے گا کردے گی یہ حالات کی سختی تجھےکندنچھوٹی سی عمر میں بھی بڑا بار پڑے گا تم نین میں مستی کی طرح مجھ کو جگہ

بد نظروں کا سایہ جو مرے یار پڑے گا Read More »

رہزنوں کی فوج ہے اور راہبر نرغے میں ہے

رہزنوں کی فوج ہے اور راہبر نرغے میں ہےاک ہجوم بے بصیرت دیدہ ور نرغے میں ہے پیش ِ تھا الفاظ کے ردو بدل میں پیش پیشفوج ہمزہ کی ہے اور زیر وزبر نرغے میں ہے دل تو ہے ہی اور میری جاں جگر نرغے میں ہےایک فوج ضبط ہے اور چشم تر نرغے میں

رہزنوں کی فوج ہے اور راہبر نرغے میں ہے Read More »

پا بہ زنجیر ہوئے زلف گرہ گیر کے ساتھ

پا بہ زنجیر ہوئے زلف گرہ گیر کے ساتھپھر بھی لب مل لئے رخسار سے تدبیر کے ساتھ ہم‌کو قرآن کی آیات نے رہ دکھلائیجب بھی بھٹکے کسی لکھی ہوئی تفسیر کے ساتھ دل کی دھڑکن نے ترے نام کی تسبیح پڑھیزخم دیرینہ کی چھننے لگی تاثیر کے ساتھ ایک سے ایک جو شہکار ہوئے

پا بہ زنجیر ہوئے زلف گرہ گیر کے ساتھ Read More »