صبح تک ہم رات کا زاد سفر ہو جائیں گے
صبح تک ہم رات کا زاد سفر ہو جائیں گےتجھ سے ہم آغوش ہو کر منتشر ہو جائیں گے دھوپ صحرا تن برہنہ خواہشیں یادوں کے کھیتشام آتے ہی غبار رہ گزار ہو جائیں گے دشت تنہائی میں جینے کا سلیقہ سیکھئےیہ شکستہ بام و در بھی ہم سفر ہو جائیں گے شورش دنیا کو […]
صبح تک ہم رات کا زاد سفر ہو جائیں گے Read More »