MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تھا پہلا سفر اس کی رفاقت بھی نئی تھی

تھا پہلا سفر اس کی رفاقت بھی نئی تھیرستے بھی کٹھن اور مسافت بھی نئی تھی دل تھا کہ کسی طور بھی قابو میں نہیں تھارہ رہ کے دھڑکنے کی علامت بھی نئی تھی جب اس نے کہا تھا کہ مجھے عشق ہے تم سےآنکھوں میں جو آئی تھی وہ حیرت بھی نئی تھی صدیوں […]

تھا پہلا سفر اس کی رفاقت بھی نئی تھی Read More »

یہ فرقتوں میں لمحۂ وصال کیسے آ گیا

یہ فرقتوں میں لمحۂ وصال کیسے آ گیامحبتوں میں پھر نیا ابال کیسے آ گیا جسے جہاں کے مشغلوں میں اپنا ہوش بھی نہ تھااچانک آج اسے مرا خیال کیسے آ گیا ابھی تلک تو میرے سارے زخم تھے ہرے بھرےیکایک ان کو کار اندمال کیسے آ گیا جدائی کا بس ایک پل گراں تھا

یہ فرقتوں میں لمحۂ وصال کیسے آ گیا Read More »

دل مطمئن ہے حرف وفا کے بغیر بھی

دل مطمئن ہے حرف وفا کے بغیر بھیروشن ہے راہ نور صدا کے بغیر بھی اک خوف سا درختوں پہ طاری تھا رات بھرپتے لرز رہے تھے ہوا کے بغیر بھی گھر گھر وبائے حرص و ہوس ہے تو کیا ہوامرتے ہیں لوگ روز وبا کے بغیر بھی میں ساری عمر لفظوں سے کمبل نہ

دل مطمئن ہے حرف وفا کے بغیر بھی Read More »

چہرے مکان راہ کے پتھر بدل گئے

چہرے مکان راہ کے پتھر بدل گئےجھپکی جو آنکھ شہر کے منظر بدل گئے شہروں میں ہنستی کھیلتی چلتی رہی مگرجنگل میں باد صبح کے تیور بدل گئے ہاں اس میں کامدیو کی کوئی خطا نہیںرستے وفا کے سخت تھے دلبر بدل گئے وہ آندھیاں چلی ہیں سر دشت آرزودل بجھ گیا وفاؤں کے محور

چہرے مکان راہ کے پتھر بدل گئے Read More »

گزر رہی ہے مگر خاصے اضطراب کے ساتھ

گزر رہی ہے مگر خاصے اضطراب کے ساتھخیال بھی نظر آنے لگے ہیں خواب کے ساتھ تلاش میں ہوں کسی کھردرے کنارے کینباہ اب نہیں ہوتا حباب و آب کے ساتھ شب فراق ہے سدھارتھؔ کی طرح گم سمحواس بھی ہوئے رخصت ترے حجاب کے ساتھ تعلقات کا تنقید سے ہے یارانہکسی کا ذکر کرے

گزر رہی ہے مگر خاصے اضطراب کے ساتھ Read More »

کیسا مکان سایۂ دیوار بھی نہیں

کیسا مکان سایۂ دیوار بھی نہیںجیتے ہیں زندگی سے مگر پیار بھی نہیں اٹھتی نہیں ہے ہم پہ کوئی مہرباں نگاہکہنے کو شہر محفل اغیار بھی نہیں رک رک کے چل رہے ہیں کہ منزل نہیں کوئیہر کوچہ ورنہ کوچۂ دل دار بھی نہیں گزری ہے یوں تو دشت میں تنہائیوں کے عمردل بے نیاز

کیسا مکان سایۂ دیوار بھی نہیں Read More »

نومید کرے دل کو نہ منزل کا پتا دے

نومید کرے دل کو نہ منزل کا پتا دےاے رہ گزر عشق ترے کیا ہیں ارادے ہر رات گزرتا ہے کوئی دل کی گلی سےاوڑھے ہوئے یادوں کے پر اسرار لبادے بن جاتا ہوں سر تا بہ قدم دست تمناڈھل جاتے ہیں اشکوں میں مگر شوق ارادے اس چشم فسوں گر میں نظر آتی ہے

نومید کرے دل کو نہ منزل کا پتا دے Read More »

قدم قدم پہ ہیں بکھری حقیقتیں کیا کیا

قدم قدم پہ ہیں بکھری حقیقتیں کیا کیابزرگ چھوڑ گئے ہیں شہادتیں کیا کیا میں تازہ دم بھی ہوں بے چین بھی ہوا کی طرحمرے قدم سے ہیں لپٹی روایتیں کیا مزاج الگ سہی ہم دونوں کیوں الگ ہوں کہ ہیںسراب و آب میں پوشیدہ قربتیں کیا کیا کرم عناد خوشی غم اسیر مایوسیدلوں کو

قدم قدم پہ ہیں بکھری حقیقتیں کیا کیا Read More »

صاحب دلوں سے راہ میں آنکھیں ملا کے دیکھ

صاحب دلوں سے راہ میں آنکھیں ملا کے دیکھرکھتا ہے تو بھی دل تو اسے آزما کے دیکھ پہچاننے کی پیار کو کوشش کبھی تو کرخود کو کبھی تو اپنے بدن سے ہٹا کے دیکھ یا لذتوں کو زہر سمجھ اور دور رہیا شعلۂ گناہ میں دامن جلا کے دیکھ ہر چند ریگ زار سہی

صاحب دلوں سے راہ میں آنکھیں ملا کے دیکھ Read More »

صبح تک ہم رات کا زاد سفر ہو جائیں گے

صبح تک ہم رات کا زاد سفر ہو جائیں گےتجھ سے ہم آغوش ہو کر منتشر ہو جائیں گے دھوپ صحرا تن برہنہ خواہشیں یادوں کے کھیتشام آتے ہی غبار رہ گزار ہو جائیں گے دشت تنہائی میں جینے کا سلیقہ سیکھئےیہ شکستہ بام و در بھی ہم سفر ہو جائیں گے شورش دنیا کو

صبح تک ہم رات کا زاد سفر ہو جائیں گے Read More »