MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

زندگی کی ابتدا کا سلسلہ الٹا غلط

زندگی کی ابتدا کا سلسلہ الٹا غلطیعنی ٹہرا آپکی نظروں میں سب سیدھا غلط زندگی کو جانچنے کا کوئی پیمانہ نہیںاور جس نے موت کا چاہا تعین تھا غلط جستجوئے شوق ِ منزل کا فقط فقدان تھانہ تو منزل ہی غلط تھی نہ ہی تھا رستہ غلط زندگی تو مسئلہ ء فیثا غورث بن گئیکچھ […]

زندگی کی ابتدا کا سلسلہ الٹا غلط Read More »

نہ وہ عروج تخیل نہ آب و تاب سخن

نہ وہ عروج تخیل نہ آب و تاب سخنملے گا تشنہ لبوں کو کہاں سے "آبٌ سخن” چڑھے جو اس کا نشہ ختم ہو نہیں پاتاظروف ِ حرف میں بھرتا جو ہوں "شراب سخن " جو درد ِ خامشی حد سے پڑھا تو کیا کرتامیں بے زبان بھی کر بیٹھا ارتکاب سخن ضریح ِچاہت و

نہ وہ عروج تخیل نہ آب و تاب سخن Read More »

اب تو ہونی ہے تو ہونی کو بھی ٹالو گے میاں

اب تو ہونی ہے تو ہونی کو بھی ٹالو گے میاںاپنے ہاتھوں کی لکیروں کو مٹا لو گے میاں وہ جو مدت سے منقش ہے خیالوں میں مرےرنگ دیدوں، تو وہ تصویر بنا لو گے میاں ؟ آج حق بات کا پرچار تو کرتے ہو بہتکل اٹھانا پڑی شمشیر ، اٹھالو گے میاں ؟ ہاتھ

اب تو ہونی ہے تو ہونی کو بھی ٹالو گے میاں Read More »

تنہا ہے اکیلا ہے ، کوئی ساتھ نہیں ہے

تنہا ہے اکیلا ہے ، کوئی ساتھ نہیں ہےیہ کہنا غلط ہے کہ کوئی بات نہیں ہے میں قتل ہوا ہوں تو کسی اپنے کے ہاتھوںدشمن کی مرے اتنی تو اوقات نہیں ہے یہ آنکھ بھی اب آنکھ ملاتی نہیں مجھ سےمدت ہوئی دل سے بھی مری بات نہیں ہے دنیا کو مری رخصت ِ

تنہا ہے اکیلا ہے ، کوئی ساتھ نہیں ہے Read More »

آنکھوں میں اک جزیرہ بسانا پڑا مجھے

آنکھوں میں اک جزیرہ بسانا پڑا مجھےاک سیل ضبط خود ہی بنانا پڑا مجھے پاتا میں نور ِ وصل کی کیسے تجلیاںشرم وحیا کا طور جلانا پڑا مجھے اس مرکزِ نگاہ سے ملنے کے واسطےرسماً سبھی سے مِلنا ، مِلانا پڑا مجھے کون و مکاں کی سیر کو للچا گیا جو دلبراق یارو فکر کا

آنکھوں میں اک جزیرہ بسانا پڑا مجھے Read More »

ہاتھ میں تیر اور کماں لے کر

ہاتھ میں تیر اور کماں لے کرجان ِ جاں کیا ملے گا جاں لے کر میں جلاتا پھروں گا گھی کے چرآپ کے دل میں اک مکاں لیکر ایک عرصے سے مہربان نہیںکیا کروں گا میں آسماں لیکر زندگی دو گھڑی کو سانس تو لےپھر رہی ہے کہاں کہاں لے کر آپ ہی کی زبان

ہاتھ میں تیر اور کماں لے کر Read More »

موتی میں سمندر کو پِرونے کی طرح کا

موتی میں سمندر کو پِرونے کی طرح کااک قطرہ کرے کام ڈبونے کی طرح کا ادوں کے تسلسل سے پریشان سا ہوکراک کام تو کرتا ہوں ” رونے کی طرح کا” عرصے سے مری نیند سے "یاداللہ ” نہیں ہےجاگا بھی تو لگتا ہوں میں "سونے کی طرح کا " ہاں یاد ہے جب آئے

موتی میں سمندر کو پِرونے کی طرح کا Read More »

دست فرہاد ہے تیشہ ہے ستوں ہے یوں ہے

دست فرہاد ہے تیشہ ہے ستوں ہے یوں ہےسر چڑھا عشق کا درپردہ فسوں ہے یوں ہے مجھ کو تفصیل بتانے کی ضرورت ہی نہیںمان جو لی ہے تری بات کہ یوں ہے یوں ہے کس طرح کہدوں تقابل ہے چمن کا تجھ سےتیری خوشبو توکہیں ان سے فزوں ہے یوں ہے میں خرد کے

دست فرہاد ہے تیشہ ہے ستوں ہے یوں ہے Read More »

کیا کریں جاناں کہ اب تم سے محبت ہے تو ہے

کیا کریں جاناں کہ اب تم سے محبت ہے تو ہےآپ کی آنکھ میں یہ ایک حماقت ہے تو ہے نوک پرجوتے کی ، ہاتھوں کی لکیریں ساریآپ کے ہاتھ میں مرنا مری قسمت ہے تو ہے ہم نے ہر دور میں انسان کا حق مانگا ہےحاکمے وقت کی نظروں میں بغاوت ہے تو ہے

کیا کریں جاناں کہ اب تم سے محبت ہے تو ہے Read More »

میں کوئی کل کا حادثہ ہوں کیا

خود ہی خود سے اُلجھ پڑاہوں کیا؟اپنے اندر اترگیا ہوں کیا ؟ جڑ کے مثل ردیف رہتی ہوتم غزل ہو میں قافیہ ہوں کیا؟ ہر یزید ی سے میں الجھتا ہوںایک سید ہوں، کربلا ہوں کیا ؟ اس قدر جلدی آپ بھول گئےمیں کوئی کل کا حادثہ ہوں کیا؟ کیوں میں بے وقت کی اذانیں

میں کوئی کل کا حادثہ ہوں کیا Read More »