MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مطلع جو مرا حرف ابابیل سے آیا

مطلع جو مرا حرف ابابیل سے آیامقطع مرا خود سورہ ء الفیل سے آیا سوچا کہ رقم کیسے کروں نعت ِنبی کولکھنے کو بھی پَر حضرت ِ جبریل سے آیا والشمس نے ہر حرف کیا دن کے مماثلپھر شعر بھی والیل کی قندیل سے آیا ہر شے نے جِلا نورِ محمدسے ہے پائینقشہ ء جہاں […]

مطلع جو مرا حرف ابابیل سے آیا Read More »

یوں لگا جیسے کہ سرکار ﷺکی مدحت نہیں کی

یوں لگا جیسے کہ سرکار ﷺکی مدحت نہیں کیپڑھ کے قرآن جو قرآں کی زیارت نہیں کی نعت لکھتے ہوئے بھولا جو تری آل کوئیاس نے الفت بھلے کی ہوگی، مودت نہیں کی مجھکو سرکار ﷺ نے مہمانِ مدینہ رکھادل نے تب سے مرے اس شہر سے ہجرت نہیں کی جس کے اقوال سے نفرت

یوں لگا جیسے کہ سرکار ﷺکی مدحت نہیں کی Read More »

بے تعلق سارے رشتے کون کس کا آشنا

بے تعلق سارے رشتے کون کس کا آشناساتھ سائے کی طرح سب اور سب نا آشنا کرب جاری ہے بجائے خوں رگوں میں صاحبوکون ہے ہم سا جہاں میں غم سے اتنا آشنا ہاں ہماری نبھ تو سکتی تھی مگر کیسے نبھےاپنی خودداری میں ہم اور وہ وفا نا آشنا ایک اک کا منہ تکیں

بے تعلق سارے رشتے کون کس کا آشنا Read More »

دیتا تھا جو سایا وہ شجر کاٹ رہا ہے

دیتا تھا جو سایا وہ شجر کاٹ رہا ہےخود اپنے تحفظ کی وہ جڑ کاٹ رہا ہے بے سمت اڑانوں سے پشیماں پرندہاب اپنی ہی منقار سے پر کاٹ رہا ہے محبوس ہوں غاروں میں مگر آذر تخیئلچٹانوں میں اشکال ہنر کاٹ رہا ہے اک ضرب مسلسل ہے کہ رکتی ہی نہیں ہےہر تار نفس

دیتا تھا جو سایا وہ شجر کاٹ رہا ہے Read More »

کب اک مقام پہ رکتی ہے سرپھری ہے ہوا

کب اک مقام پہ رکتی ہے سرپھری ہے ہواتمام شہر و بیاباں کو چھانتی ہے ہوا نصیب پائے جنوں ہے سدا کی در بدریہوائے جادہ و منزل میں کب چلی ہے ہوا یہ پیچ و تاب ہے کیسا سبب نہیں کھلتابنا بنا کے بگولے بگاڑتی ہے ہوا سوائے خاک نہ کچھ ہاتھ آج تک آیاسراب

کب اک مقام پہ رکتی ہے سرپھری ہے ہوا Read More »

کوئی آہٹ کوئی سرگوشی صدا کچھ بھی نہیں

کوئی آہٹ کوئی سرگوشی صدا کچھ بھی نہیںگھر میں اک بے حس خموشی کے سوا کچھ بھی نہیں نام اک نایاب سا لکھا تھا وہ بھی مٹ گیااب ہتھیلی پر لکیروں کے سوا کچھ بھی نہیں بے چھوئے اک لمس کا احساس اک خاموش باتاس کے میرے بیچ آخر تھا بھی کیا کچھ بھی نہیں

کوئی آہٹ کوئی سرگوشی صدا کچھ بھی نہیں Read More »

نظر آتا ہے وہ جیسا نہیں ہے

نظر آتا ہے وہ جیسا نہیں ہےجو کہتے ہو مگر ویسا نہیں ہے نہیں ہوتا ہے کیا کیا اس جہاں میںوہی جو چاہیئے ہوتا نہیں ہے بھرا ہے شہر فرعونوں سے اپناکوئی ہوتا جو اک موسیٰ نہیں ہے چلو اک اور کوشش کر کے دیکھیںیونہی گھٹ گھٹ کے مر جانا نہیں ہے نہیں ہے خواب

نظر آتا ہے وہ جیسا نہیں ہے Read More »

جینا ہے خوب اوروں کی خاطر جیا کرو

جینا ہے خوب اوروں کی خاطر جیا کرواک آدھ سانس خود بھی تو لیتے رہا کرو کیا حرج ہے جو دل کی بھی سن لو کبھی کبھییوں اپنے آپ سے نہ ہمیشہ لڑا کرو یہ بار زیست جھیلتے رہنا ہے عمر بھراپنی تھکن پہ ٹک کے کبھی سو لیا کرو ہے بسکہ خاک اڑانے کی

جینا ہے خوب اوروں کی خاطر جیا کرو Read More »

کب ایک رنگ میں دنیا کا حال ٹھہرا ہے

کب ایک رنگ میں دنیا کا حال ٹھہرا ہےخوشی رکی ہے نہ کوئی ملال ٹھہرا ہے تڑپ رہے ہیں پڑے روز و شب میں الجھے لوگنفس نفس کوئی پیچیدہ جال ٹھہرا ہے خود اپنی فکر اگاتی ہے وہم کے کانٹےالجھ الجھ کے مرا ہر سوال ٹھہرا ہے بس اک کھنڈر مرے اندر جئے ہی جاتا

کب ایک رنگ میں دنیا کا حال ٹھہرا ہے Read More »

کس نے کہا کسی کا کہا تم کیا کرو

کس نے کہا کسی کا کہا تم کیا کرولیکن کہے کوئی تو کبھی سن لیا کرو ہر آرزو فریب ہے ہر جستجو سرابمچلے جو دل بہت اسے سمجھا دیا کرو یوں چپ رہا کرے سے تو ہو جائے ہے جنوںزخم نہاں کرید کے کچھ رو لیا کرو ہاں شہر آرزو تھا کبھی یہ اجاڑ گھراب

کس نے کہا کسی کا کہا تم کیا کرو Read More »