MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مری ہتھیلی میں لکھا ہوا دکھائی دے

مری ہتھیلی میں لکھا ہوا دکھائی دےوہ شخص مجھ کو برنگ حنا دکھائی دے اسے جو دیکھوں تو اپنا سراغ پاؤں میںاسی کے نام میں اپنا پتا دکھائی دے روش پہ جلیں اس کی آہٹوں سے چراغعجب خرام ہے آواز پا دکھائی دے جو مہرباں ہے تو کیا مہرباں خفا تو خفاکبھی کبھی تو وہ […]

مری ہتھیلی میں لکھا ہوا دکھائی دے Read More »

پابندیوں سے اپنی نکلتے وہ پا نہ تھے

پابندیوں سے اپنی نکلتے وہ پا نہ تھےسب راستے کھلے تھے مگر ہم پہ وا نہ تھے یہ اور بات شوق سے ہم کو سنا گیاپھر بھی وہی سنایا سنا اک فسانہ تھے اک آگ سائبان تھا سر پر تنا ہواپل پل زمیں سرکتی تھی اور ہم روانہ تھے دریا میں رہ کے کوئی نہ

پابندیوں سے اپنی نکلتے وہ پا نہ تھے Read More »

زخم کو پھول کہیں نوحے کو نغمہ سمجھیں

زخم کو پھول کہیں نوحے کو نغمہ سمجھیںاتنے سادہ بھی نہیں ہم کہ نہ اتنا سمجھیں زخم کا اپنے مداوا کسے منظور نہیںہاں مگر کیوں کسی قاتل کو مسیحا سمجھیں شعبدہ بازی کسی کی نہ چلے گی ہم پرطنز و دشنام کو کہتے ہو لطیفہ سمجھیں خود پہ یہ ظلم گوارا نہیں ہوگا ہم سےہم

زخم کو پھول کہیں نوحے کو نغمہ سمجھیں Read More »

سید ایاز مفتی المعروف ابنِ مفتی

Syed ayaaz Mufti almaroof ibn e Mufti نام : سید ایاز مفتیتخلص: اِبنِ مفتی ولادت: پانچ مارچ . پسرور ضلع سیالکوٹ . پاکستانمستقل سکونت: اولا کراچی – ثانیا – ہیوسٹن . ٹیکساس . یوا یس اےشاگرد رشید – زانوئے تلمذ طے کیا :والد گرامی قدر ، روح ساغر جناب سید عبدالستار مفتیسید ایاز مفتی جو

سید ایاز مفتی المعروف ابنِ مفتی Read More »

دل گھر میں حسینوں کا گو آنا رہا اکثر

دل گھر میں حسینوں کا گو آنا رہا اکثرکاشانہ ٗء دل پھر بھی ویرانہ رہا اکثر تارا میں رہا بن کے ساقی کی نگاہوں کاپھر میرا ہی خالی کیوں پیمانہ رہا اکثر ہر موجِ ِسمندر کےلب پہ یہ کہانی ہےجو سیپ سے موتی کا یارانہ رہا اکثر نشہ ہے یہ آنکھوں کا یا مستی ہے

دل گھر میں حسینوں کا گو آنا رہا اکثر Read More »

شبیر پہ ہے صبرو شجاعت تمام شد

شبیر پہ ہے صبرو شجاعت تمام شدآلِ عبا پہ جیسے طہارت تمام شد لکھا روایتوں میں ہے یہ متفق علیہہے مجتبی ٰ کے بعد خلافت تمام شد ایسا فصیح خطبہ ء آخر حسین کاجیسے ہوئی ہو جگ میں بلاغت تمام شد راہب بھی بھیک مانگنے در انکے آگیایہ سن کے آپ پر ہے سخاوت تمام

شبیر پہ ہے صبرو شجاعت تمام شد Read More »

دم بخود ہے آسماں کہ پھر علی سجدےمیں ہے – Dam bakhud hai asman ky Ali sajday main hai

دم بخود ہے آسماں کہ پھر علی سجدےمیں ہےجان ِ جانان محمد ہے ولی ، سجدے میں ہے خاک کربل ناز کر ، ابنِ علی سجدے میں ہےنور پھیلا چار سو ، نورِ نبی سجدے میں ہے جیسے ہی توفیق مدحت شان داور میں ملیمنقبت ساری کی ساری شکر کے سجدے میں ہے سرخی ء

دم بخود ہے آسماں کہ پھر علی سجدےمیں ہے – Dam bakhud hai asman ky Ali sajday main hai Read More »

ہر بوالہوس کو حسن ہے بیوپار کی طرح

ہر بوالہوس کو حسن ہے بیوپار کی طرحڈالی گئی یوں مصر کے بازار کی ” طرح " بازار احتیاج میں خواہش کے نام پرخود کولٹایا دولت بیکار کی طرح دل ہے کہ ڈگمگائے سا پھرتا ہے آجکلحیراں ہوں یہ بھی چل پڑا سرکار کی طرح پہنا ہے کیوں لبادہ ء نفرت بتائیےکیونکر کھڑے ہو راہ

ہر بوالہوس کو حسن ہے بیوپار کی طرح Read More »

وہ حق کی راہ میں سر کو کٹا کے مارا گیا

وہ حق کی راہ میں سر کو کٹا کے مارا گیاجھکا نہیں تھا سو اسکو گرا کے مارا گیا اسے کہا گیا بیعت تری ضمانت ہےنہ مانا تو اسےکربل بلا کے مارا گیا عجیب کاٹ تھی اسکی زبان میں یاروسو جام خامشی اس کو پلا کے مارا گیا دیار غیر میں رکھے نہیں جو لب

وہ حق کی راہ میں سر کو کٹا کے مارا گیا Read More »

کیا کریں جاناں کہ اب تم سے محبت ہے تو ہے

کیا کریں جاناں کہ اب تم سے محبت ہے تو ہےآپ کی آنکھ میں یہ ایک حماقت ہے تو ہے نوک پرجوتے کی ، ہاتھوں کی لکیریں ساریآپ کے ہاتھ میں مرنا مری قسمت ہے تو ہے ہم نے ہر دور میں انسان کا حق مانگا ہےحاکمے وقت کی نظروں میں بغاوت ہے تو ہے

کیا کریں جاناں کہ اب تم سے محبت ہے تو ہے Read More »