MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

لہو میں تر بتر ، بھیجے گئے ہیں

لہو میں تر بتر ، بھیجے گئے ہیںہمیں تحفے میں سر بھیجے گئے ہیں اِدھر والے اُدھر ، بھیجے گئے ہیںپتہ کیجے ، کدھر بھیجے گئے ہیں کسی کو ٹانگنے کے کچھ اشارےکسی کی ٹانگ پر بھیجے گئے ہیں ثبوتوں کا کہا ہے عدلیہ نےسو ہر کارے قطر بھیجے گئے ہیں بتاؤ کون تھا ایما […]

لہو میں تر بتر ، بھیجے گئے ہیں Read More »

لوگ جو عشق کے جنجال میں آ جاتے ہیں

لوگ جو عشق کے جنجال میں آ جاتے ہیںساز غم سنتے ہی سُر تال میں آ جاتے ہیں چشم ودل کیف کی معراج کو چھو لیتے ہیںچاہ غب غب جو ترے گال میں آجاتے ہیں روٹھنے والے کو واپس نہیں آتے دیکھادن مہنیوں کا ہے کیا سال میں آجاتے ہیں اس قیامت کو تو چلنے

لوگ جو عشق کے جنجال میں آ جاتے ہیں Read More »

چاند کو دیکھ کے آئے ہیں ستارے واپس

چاند کو دیکھ کے آئے ہیں ستارے واپسکردیئے ہم نے سمندر کو کنارے واپس ہم بھی سر پہ نہیں رکھتے ہیں کسی کا احساںسُود کے ساتھ یہ لو قرضے تمہارے واپس نم نگر رہنے کو آئی ہے جو وہ ذات لطیفمحفلیں پھر سے سجانے لگے تارے واپس کوئی تو بات ہے پوشیدہ وہاں پر کہ

چاند کو دیکھ کے آئے ہیں ستارے واپس Read More »

زندگی کی ابتدا کا سلسلہ الٹا غلط

زندگی کی ابتدا کا سلسلہ الٹا غلطیعنی ٹہرا آپکی نظروں میں سب سیدھا غلط زندگی کو جانچنے کا کوئی پیمانہ نہیںاور جس نے موت کا چاہا تعین تھا غلط جستجوئے شوق ِ منزل کا فقط فقدان تھانہ تو منزل ہی غلط تھی نہ ہی تھا رستہ غلط زندگی تو مسئلہ ء فیثا غورث بن گئیکچھ

زندگی کی ابتدا کا سلسلہ الٹا غلط Read More »

درد کی اک لہر بل کھاتی ہے یوں دل کے قریب

درد کی اک لہر بل کھاتی ہے یوں دل کے قریبموج سرگشتہ اٹھے جس طرح ساحل کے قریب ما سوائے کار آہ و اشک کیا ہے عشق میںہے سواد آب و آتش دیدہ و دل کے قریب درد میں ڈوبی ہوئی آتی ہے آواز جرسگریۂ گم گشتگی سنتا ہوں منزل کے قریب آرزو نایافت کی

درد کی اک لہر بل کھاتی ہے یوں دل کے قریب Read More »

حصار مقتل جاں میں لہو لہو میں تھا

حصار مقتل جاں میں لہو لہو میں تھارسن رسن مری وحشت گلو گلو میں تھا جو رہ گیا نگہ سوزن مشیت سےقبائے زیست کا وہ چاک بے رفو میں تھا زمانہ ہنستا رہا میری خود کلامی پرترے خیال سے مصروف گفتگو میں تھا تھا آئنے میں شکست غرور یکتائیکہ اپنے عکس کے پردے میں ہو

حصار مقتل جاں میں لہو لہو میں تھا Read More »

اب بھی ذروں پہ ستاروں کا گماں ہے کہ نہیں

اب بھی ذروں پہ ستاروں کا گماں ہے کہ نہیںزیر پا اب بھی ترے کاہکشاں ہے کہ نہیں اب بھی وہ جشن طرب ہے کہ نہیں مقتل میںاک تماشے کو ہجوم نگراں ہے کہ نہیں اب بھی فریاد بہ لب ہے کہ نہیں راندۂ عشقوہ ہی بے چارگیٔ دل زدگاں ہے کہ نہیں کہیے نم

اب بھی ذروں پہ ستاروں کا گماں ہے کہ نہیں Read More »

گنتی میں بے شمار تھے کم کر دیے گئے

گنتی میں بے شمار تھے کم کر دیے گئےہم ساتھ کے قبیلوں میں ضم کر دیے گئے پہلے نصاب عقل ہوا ہم سے انتسابپھر یوں ہوا کہ قتل بھی ہم کر دیے گئے پہلے لہولہان کیا ہم کو شہر نےپھر پیرہن ہمارے علم کر دیے گئے پہلے ہی کم تھی قریۂ جاناں میں روشنیاور اس

گنتی میں بے شمار تھے کم کر دیے گئے Read More »

کس کس سے دوستی ہوئی یہ دھیان میں نہیں

کس کس سے دوستی ہوئی یہ دھیان میں نہیںان میں سے ایک بھی مرے سامان میں نہیں رسم وفا کا اس سے نبھانا بھی ہے محالترک تعلقات بھی امکان میں نہیں باندھیں کسی سے عہد وفا ہم تو کس طرحاک تار بھی تو اپنے گریبان میں نہیں کیوں ہم نے ہار مان لی کیوں ڈال

کس کس سے دوستی ہوئی یہ دھیان میں نہیں Read More »

میں اپنی جنگ میں تن تنہا شریک تھا

میں اپنی جنگ میں تن تنہا شریک تھادشمن کے ساتھ سارا زمانہ شریک تھا انجیر و شیر بانٹتا پھرتا ہے شہر میںکل تک جو میری نان جویں کا شریک تھا میرے خلاف ہے وہ گواہی میں پیش پیشمنصوبہ بندیوں میں جو میرا شریک تھا میرے قصاص کا بھی ہوا ہے وہ مدعیجو میرے قتل میں

میں اپنی جنگ میں تن تنہا شریک تھا Read More »