MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

غالب دلی میں

غالبؔ نے کی یہ عرض، خداوندِ ذو الجلالجنت سے کچھ دنوں کے لیے کر مجھے بحال مہ وش مرے کلام کو سازوں پہ گائے ہیںقسمت نے بعد مرنے کے کیا دن دکھائے ہیں شاعر جو منحرف تھے وہ مرعوب ہو گئےایواں جو میرے نام سے منسوب ہو گئے خادم کا اس ادارے سے رشتہ ہے […]

غالب دلی میں Read More »

لڑکی کی دعا

"لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری”زندگی بھر کرے عاشق مرا سیوا میری صبح سے شام تلک ہو کے مگن گاتا رہےمیرا عاشق مری الفت میں بھجن گاتا رہے یوں میں چمکوں کہ زمانے میں اندھیرا ہو جائےکوئی لنگڑا کوئی اندھا کوئی لولا ہو جائے میرے جلووں کو عطا کر دے وہ قدرت

لڑکی کی دعا Read More »

گدھوں کا مشاعرہ

اک رات میں نے خواب میں دیکھا یہ ماجرااک جا پہ ہو رہا ہے گدھوں کا مشاعرہوہ نیلے پیلے قمقمے میداں ہرا بھرابیٹھا ہے فرش سبز پہ اک سرمئی گدھا جتنے گدھے ہیں سب کے تخلص ہیں واہیاتکونے میں بیٹھی دم کو ہلاتی ہیں خریات کچھ موٹے تازے خر تھے کئی لاغر و نحیفکچھ فنے

گدھوں کا مشاعرہ Read More »

کرکٹ میچ ؎؎

بیزار ہو گئے تھے جو شاعر حیات سےکرکٹ کا میچ کھیل لیا شاعرات سےواقف نہ تھے جو دوستو! عورت کی ذات سےچوکے لگا رہے تھے خیالوں میں رات سے آئی جو صبح شام کے نقشے بگڑ گئےسروں سے ہم غریبوں کے اسٹمپ اکھڑ گئے ناز و ادا و حسن نے جادو جگا دیےپہلے تو اوپنر

کرکٹ میچ ؎؎ Read More »

کار برائے فروخت

ساغرؔ کسی سے گردشِ تقدیر کیا کہوںہونے دئیے نہ وقت نے حالات پُرسکوںجھنڈے ہمارے گھر کے رہے یوں بھی سرنگوںسر پر رہا سوار اک دکھاوے کا جنوںبیٹھے بٹھائے دردِ سری اور مزید لیہم نے پرانی کار کسی سے خرید لی چاروں طرف سے بند ہے صندوق کی طرحچلنے سے پہلے اچھلے ہے بندوق کی طرحلیتی

کار برائے فروخت Read More »

مغرِ شاعر

اک روز ڈاکٹر سے یہ میں نے کہا جنابمدت سے کہہ رہا ہوں میں نظمیں بہت خراب چیک کر کے میری کھوپڑی کہنے لگا حضوربھیجے میں گھس گیا ہے کوئی آپ کے فتور میں نے کہا علاج بتائیں کوئی شتابکہنے لگوں میں نظمیں کریکٹ سی کامیاب بولا بدلنا ہوگا یہ بھیجا حضور کابس ہے یہی

مغرِ شاعر Read More »

ساری جفائیں سارے کرم یاد آ گئے

ساری جفائیں سارے کرم یاد آ گئےجیسے بھی یاد آئے ہوں ہم یاد آ گئے جب بھی کہیں سے پیار ملا یا خوشی ملیدنیا کے درد و رنج الم یاد آ گئے دیکھیں ہیں جب بھی گل کے قریں چند تتلیاںکتنے خیال و خواب بہم یاد آ گئے لکھا تھا تم نے خط میں کہ

ساری جفائیں سارے کرم یاد آ گئے Read More »

ادب میں مدعیٔ فن تو بے شمار ملے

ادب میں مدعیٔ فن تو بے شمار ملےمگر نہ میرؔ کے غالبؔ کے ورثہ دار ملے جنون عشق کو دامن تو تار تار ملامزا تو جب ہے گریباں بھی تار تار ملے بڑے مزے سے گزاری ہے زندگی میں نےخدا کے فضل سے حالات سازگار ملے کسی کے دل پہ بھلا اختیار کیا ہوگابہت ہے

ادب میں مدعیٔ فن تو بے شمار ملے Read More »

دل ان کی محبت کا جو دیوانہ لگے ہے

دل ان کی محبت کا جو دیوانہ لگے ہےیہ ایسی حقیقت ہے جو افسانہ لگے ہے عالم نہ کوئی پوچھے مری وحشت دل کاگھر اپنے اگر جاؤں تو ویرانہ لگے ہے بڑھتے نہیں کیوں میرے قدم آگے کی جانبنزدیک ہی شاید در جانانہ لگے ہے ویسے تو کسی نے مجھے ایسا نہیں جانادیوانہ کہا تم

دل ان کی محبت کا جو دیوانہ لگے ہے Read More »

غم سے گھبرا کے کبھی نالہ و فریاد نہ کر

غم سے گھبرا کے کبھی نالہ و فریاد نہ کرعزت نفس کسی حال میں برباد نہ کر دل یہ کہتا ہے کہ دے اینٹ کا پتھر سے جوابجو تجھے بھولے اسے تو بھی کبھی یاد نہ کر توڑ دے بند قفس کچھ بھی اگر ہمت ہےاک رہائی کے لئے منت صیاد نہ کر اپنے حالات

غم سے گھبرا کے کبھی نالہ و فریاد نہ کر Read More »