MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

آپ کی یاد لالہ زاری ہے

آپ کی یاد لالہ زاری ہےہائے کیا چیز بے قراری ہے لفظ پہ لفظ ہم نے بدلا ہےبات پہ بات تم نے ماری ہے داد دیتا ہوں تیرے تیروں کوزخم جو بھی لگا ہے کاری ہے ہجر کی صرف ایک ساعت بھیاِک صدی کی طرح گذاری ہے کونسے راستے کو لوٹو گےکس طرف آپ کی […]

آپ کی یاد لالہ زاری ہے Read More »

تم نے اِک گیت اب اُچھالا ہے

تم نے اِک گیت اب اُچھالا ہےہم نے جب ساز توڑ ڈالا ہے ظلمتوں کا جو بول بالا ہےکوئی سورج نکلنے والا ہے رنجشیں میرے کام آئی ہیںلغزشوں نے مجھے سنبھالا ہے میں یہاں بھی بناؤں کا جنتمجھ کو جنت سے کیوں نکالا ہے ایک جھونکے میں ختم ہے قصہزندگی مکڑیوں کا جالا ہے سید

تم نے اِک گیت اب اُچھالا ہے Read More »

کچھ ملے گا تو ہم فقیروں میں

کچھ ملے گا تو ہم فقیروں میںکچھ نہیں ہاتھ کی لکیروں میں بات ہم نے جنوں کی مانی ہےعقل شامل نہیں مشیروں میں ہم شہنشاہ تو نہیں لیکنبیٹھ کر دیکھ ہم فقیروں میں جسم مفلوج ہے زمانے کاروح چپ چاپ پے سریروں میں پتھروں کو نہ دکھ سنا مفتی ؔدرد ہوتا نہیں امیروں میں سید

کچھ ملے گا تو ہم فقیروں میں Read More »

ہے بے کیفی رواں دورِ رواں سے

ہے بے کیفی رواں دورِ رواں سے .سکونِ دل ملے گا اب کہاں سے حرم کی نکہتیں تھیں روح پرورنہ آیا باز دل عشقِ بُتاں سے میں ذرہ ہوں پُجاری مہر کا ہوںتعلق ہے زمیں کا آسماں سے مجھے مے سے کوئی رغبت نہیں تھی الجھنا تھا ذرا پیرِ مغاں سے سہارا چاہیئے تیری نظر

ہے بے کیفی رواں دورِ رواں سے Read More »

کیا اس کا پتہ تم کو ہے کچھ اس کی خبر ہے

کیا اس کا پتہ تم کو ہے کچھ اس کی خبر ہےآئینہ جسے سمجھے ہو , وہ میرا جِگر ہے ہر گام پہ محشر کا سماں پیشِ نظر ہےیہ کرہ ء خاکی ہے کہ آفات کا گھر ہے تقدیس سے خالی ہیں ترے حسن کے جلوےاب تیری طرف دیکھنا , توہین ِ نظر ہے ہنستی

کیا اس کا پتہ تم کو ہے کچھ اس کی خبر ہے Read More »

سحر نے ظلمتِ شب کی قسم کھائی تو کیا ہوگا

سحر نے ظلمتِ شب کی قسم کھائی تو کیا ہوگایہ ناگن خونِ انساں پی کے لہرائی تو کیا ہوگا دباؤ ذہن پر دیکر ذرا سوچو شفق پاروخِزاں کے روپ میں ڈھل کر بہار آئی تو کیا ہوگا تصور شورِ محشر کا تری لَے سے نمایاں ہےنہ جاگی خفتہ ارمانوں کی شہنائی تو کیا ہوگا دکھوں

سحر نے ظلمتِ شب کی قسم کھائی تو کیا ہوگا Read More »

تنہا تھے ہم نہ دور نہ کوئی قریب تھا

تنہا تھے ہم نہ دور نہ کوئی قریب تھاکشتی کے ڈوبنے کا بھی منظر عجیب تھا سوچا تھا جیت لوں گا محبت کی قربتیںلیکن کہاں میں اِتنا بڑا خوش نصیب تھا آیا تیری گلی میں تو جنت میں آگیانکلا تو یوں لگا ، کہ جہنم نصیب تھا یہ صرف تیرے سوزِ محبت کا تھا اثرشاعر

تنہا تھے ہم نہ دور نہ کوئی قریب تھا Read More »

لالی شفق کی اڑگئی ، سورج بھی ڈھل گیا

لالی شفق کی اڑگئی ، سورج بھی ڈھل گیامجھ سے مری غزل کا تصور بدل گیا آنکھوں سے عندلیب کے بہنے لگا لہو برقِ تپاں کی گونج سے گلزار جل گیا بادِ خِزاں چلی بھی تو کچھ اس طرح چلیجیسے رگِ بہار پہ آرا سا چل گیا ہونٹوں سے دل کی بات نہ دہرائی جاسکیہاتھوں

لالی شفق کی اڑگئی ، سورج بھی ڈھل گیا Read More »

ہوش مندوں کو بھی دیوانہ بنا دیتی ہے

ہوش مندوں کو بھی دیوانہ بنا دیتی ہےبے خودی بزم میں سو رنگ جما دیتی ہے عدل و انصاف نہیں حشر کے دن پہ موقوفزندگی خود بھی , گناہوں کی سزا دیتی ہے وقت کی بات ہے کچھ اور ، وگرنہ اکثرصلح کی بات بھی فتنوں کو ہوا دیتی ہے سعی ء پہیم سے ہی

ہوش مندوں کو بھی دیوانہ بنا دیتی ہے Read More »

جاڑے

ایسی سردی نہ پڑی ایسے نہ دیکھے جاڑےدو بجے دن کو اذاں دیتے تھے مرغ سارے وہ گھٹا ٹوپ نظر آتے تھے دن کو تارےسرد لہروں سے جمے جاتے تھے مے کے پیالے ایک شاعر نے کہا چیخ کے ساغر بھائیعمر میں پہلے پہل چمچے سے چائے کھائی آگ چھونے سے بھی ہاتھوں میں نمی

جاڑے Read More »