جیت کر بازیٔ الفت کو بھی ہارا جائے
جیت کر بازیٔ الفت کو بھی ہارا جائےاس طرح حسن کو شیشے میں اتارا جائے اب تو حسرت ہے کہ برباد کیا ہے جس نےاس کا دیوانہ مجھے کہہ کے پکارا جائے آپ کے حسن کی توصیف سے مقصد ہے مرانقش فطرت کو ذرا اور ابھارا جائے تم ہی بتلاؤ کہ جب اپنے ہی بیگانے […]
جیت کر بازیٔ الفت کو بھی ہارا جائے Read More »

