MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جیت کر بازیٔ الفت کو بھی ہارا جائے

جیت کر بازیٔ الفت کو بھی ہارا جائےاس طرح حسن کو شیشے میں اتارا جائے اب تو حسرت ہے کہ برباد کیا ہے جس نےاس کا دیوانہ مجھے کہہ کے پکارا جائے آپ کے حسن کی توصیف سے مقصد ہے مرانقش فطرت کو ذرا اور ابھارا جائے تم ہی بتلاؤ کہ جب اپنے ہی بیگانے […]

جیت کر بازیٔ الفت کو بھی ہارا جائے Read More »

کرتے نہیں جفا بھی وہ ترک وفا کے ساتھ

کرتے نہیں جفا بھی وہ ترک وفا کے ساتھیہ کون سا ستم ہے دل مبتلا کے ساتھ اب وہ جبین شوق کہیں اور کیوں جھکےوابستہ ہو گئی جو ترے نقش پا کے ساتھ وارفتۂ جمال کا عالم نہ پوچھئےدیوانہ وار اٹھتی ہیں نظریں صدا کے ساتھ سرخی تمہارے ہاتھ کی کہتی ہے صاف صافشامل ہے

کرتے نہیں جفا بھی وہ ترک وفا کے ساتھ Read More »

کاش سمجھتے اہل زمانہ

کاش سمجھتے اہل زمانہکیا ہے حقیقت کیا ہے فسانہ عشق کا شیوہ حسن کی فطرتایک حقیقت ایک فسانہ راہ وفا دشوار بہت ہےسوچ سمجھ کر پاؤں بڑھانا تم نہ ہو جس کے کون ہو اس کاجس کے ہوئے تم اس کا زمانہ رہرو راہ عشق و محبتجان تو دینا لب نہ ہلانا پہلوئے گل میں

کاش سمجھتے اہل زمانہ Read More »

کوئی نذر غم حالات نہ ہونے پائے

کوئی نذر غم حالات نہ ہونے پائےاور ہر بات ہو یہ بات نہ ہونے پائے جو بھی صورت ہے عنایت ہے کرم ہے ان کارائیگاں ان کی یہ سوغات نہ ہونے پائے ان کی تصویر سے ہر لمحہ رہے راز و نیازمنتشر شان خیالات نہ ہونے پائے سخت دشوار ہے پابندی آئین وفابات تو جب

کوئی نذر غم حالات نہ ہونے پائے Read More »

کیا کیا سپرد خاک ہوئے نامور تمام

کیا کیا سپرد خاک ہوئے نامور تماماک روز سب کو کرنا ہے اپنا سفر تمام میری نظر نے لوٹ لئے جلوہ ہائے حسنحسرت سے دیکھتے ہی رہے دیدہ ور تمام تم نے تو اپنا کہہ کے مجھے لوٹ ہی لیاماتم کناں ہے میرے لئے گھر کا گھر تمام مانا کہ میرے لب نہ ہلے رعب

کیا کیا سپرد خاک ہوئے نامور تمام Read More »

میں جانتا ہوں کون ہوں میں اور کیا ہوں میں

میں جانتا ہوں کون ہوں میں اور کیا ہوں میںدنیا سمجھ رہی ہے کہ اک پارسا ہوں میں اب مجھ میں اور تجھ میں کوئی فاصلہ نہیںتو میرا مدعا ہے ترا مدعا ہوں میں واعظ جبین شوق جھکے تو کہاں جھکےنقش قدم ہی ان کے ابھی ڈھونڈھتا ہوں میں دل کو تجلیات کا مرکز بنا

میں جانتا ہوں کون ہوں میں اور کیا ہوں میں Read More »

محبت کا جسے عرفاں نہیں ہے

محبت کا جسے عرفاں نہیں ہےوہ سب کچھ ہے مگر انساں نہیں ہے شعور زندگی پر مٹنے والوشعور زندگی آساں نہیں ہے طلب کا ہاتھ بڑھتا جا رہا ہےخیال وسعت داماں نہیں ہے خفا بے وجہ ناصح ہو رہے ہوتمہاری بات کچھ قرآں نہیں ہے وہ مست حال ہے وصفیؔ کہ اس کوغم دل ہے

محبت کا جسے عرفاں نہیں ہے Read More »

یوں اشک برستے ہیں مرے دیدۂ تر سے

یوں اشک برستے ہیں مرے دیدۂ تر سےجس طرح سے ساون کی گھٹا جھوم کے برسے ہاں اشک ندامت جو گرے دیدۂ تر سےوہ دامن عصیاں پہ نظر آئے گہر سے ماحول تو بدلا ہے مری جہد نے اکثرہاں میں نہیں بدلا کبھی ماحول کے ڈر سے دنیا نہ کہیں مجھ کو نگاہوں سے گرا

یوں اشک برستے ہیں مرے دیدۂ تر سے Read More »