MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یہ ساقی کی کرامت ہے کہ فیض مے پرستی ہے

یہ ساقی کی کرامت ہے کہ فیض مے پرستی ہےگھٹا کے بھیس میں مے خانے پر رحمت برستی ہے یہ جو کچھ دیکھتے ہیں ہم فریب خواب ہستی ہےتخیل کے کرشمے ہیں بلندی ہے نہ پستی ہے وہاں ہیں ہم جہاں بیدمؔ نہ ویرانہ نہ بستی ہےنہ پابندی نہ آزادی نہ ہشیاری نہ مستی ہے […]

یہ ساقی کی کرامت ہے کہ فیض مے پرستی ہے Read More »

سینہ میں دل ہے دل میں داغ داغ میں سوز و ساز عشق

سینہ میں دل ہے دل میں داغ داغ میں سوز و ساز عشقپردہ بہ پردہ ہے نہاں پردہ نشیں کا راز عشق ناز کبھی نیاز ہے اور نیاز ناز عشقختم ہوا نہ ہو کبھی سلسلۂ دراز عشق عشق ادا نواز حسن حسن کرشمہ ساز عشقآج سے کیا ازل سے ہے حسن سے ساز باز عشق

سینہ میں دل ہے دل میں داغ داغ میں سوز و ساز عشق Read More »

مجھ سے چھپ کر مرے ارمانوں کو برباد نہ کر

مجھ سے چھپ کر مرے ارمانوں کو برباد نہ کرداد خواہی کے لیے آیا ہوں بیداد نہ کر دیکھ مٹ جائے گا ہستی سے گزر جائے گادل نا عاقبت اندیش انہیں یاد نہ کر آ گیا اب تو مجھے لطف اسیری صیادذبح کر ڈال مگر قید سے آزاد نہ کر جس پہ مرتا ہوں اسے

مجھ سے چھپ کر مرے ارمانوں کو برباد نہ کر Read More »

وہ چلے جھٹک کے دامن مرے دست ناتواں سے

وہ چلے جھٹک کے دامن مرے دست ناتواں سےاسی دن کا آسرا تھا مجھے مرگ ناگہاں سے یہ حجاب کفر و ایماں بھی ہٹا دو درمیاں سےکہ مقام قرب آگے ہے حدود دو جہاں سے مری طرح تھک نہ جائے کہیں حسرت فسردہکہ لپٹ کے چل تو دی ہے وہ غبار کارواں سے مجھے شوق

وہ چلے جھٹک کے دامن مرے دست ناتواں سے Read More »

نہ تو اپنے گھر میں قرار ہے نہ تری گلی میں قیام ہے

نہ تو اپنے گھر میں قرار ہے نہ تری گلی میں قیام ہےتری زلف و رخ کا فریفتہ کہیں صبح ہے کہیں شام ہے ترے اک نہ ہونے سے ساقیا نہ وہ مے نہ شیشہ و جام ہےنہ وہ صبح اب مری صبح ہے نہ وہ شام اب مری شام ہے نہ تو چکھنا جس

نہ تو اپنے گھر میں قرار ہے نہ تری گلی میں قیام ہے Read More »

دل لیا جان لی نہیں جاتی

دل لیا جان لی نہیں جاتیآپ کی دل لگی نہیں جاتی سب نے غربت میں مجھ کو چھوڑ دیااک مری بے کسی نہیں جاتی کیسے کہہ دوں کہ غیر سے ملیےان کہی تو کہی نہیں جاتی خود کہانی فراق کی چھیڑیخود کہا بس سنی نہیں جاتی خشک دکھلاتی ہے زباں تلوارکیوں مرا خون پی نہیں

دل لیا جان لی نہیں جاتی Read More »

اپنے دیدار کی حسرت میں تو مجھ کو سراپا دل کر دے

اپنے دیدار کی حسرت میں تو مجھ کو سراپا دل کر دےہر قطرۂ دل کو قیس بنا ہر ذرے کو محمل کر دے دنیائے حسن و عشق مری کرنا ہے تو یوں کامل کر دےاپنے جلوے میری حیرت نظارے میں شامل کر دے یاں طور و کلیم نہیں نہ سہی میں حاضر ہوں لے پھونک

اپنے دیدار کی حسرت میں تو مجھ کو سراپا دل کر دے Read More »

ہم مے کدہ سے مر کے بھی باہر نہ جائیں گے

ہم مے کدہ سے مر کے بھی باہر نہ جائیں گےمے کش ہماری خاک کے ساغر بنائیں گے وہ اک کہیں گے ہم سے تو ہم سو سنائیں گےمنہ آئیں گے ہمارے تو اب منہ کی کھائیں گے کچھ چارہ سازی نالوں نے کی ہجر میں مریکچھ اشک میرے دل کی لگی کو بجھائیں گے

ہم مے کدہ سے مر کے بھی باہر نہ جائیں گے Read More »

ہم کو چاند اور تاروں سے بڑھ کر، یہ منظر سہانے سہانے لگے

ہم کو چاند اور تاروں سے بڑھ کر، یہ منظر سہانے سہانے لگےآنسوؤں سے ہو بھیگا ہوا جس کا چہرہ، وہی مسکرانے لگے رات بھر ہم نے تیرے کھلے گیسوؤں میں تری چاند صورت کو ڈھونڈاصبح کو تیرے جاتے ہی، ہر سو، تیرے خال و خد جگمگانے لگے موسم گل جب آیا تو گلزار و

ہم کو چاند اور تاروں سے بڑھ کر، یہ منظر سہانے سہانے لگے Read More »

برہنہ پا میں سوئے دشتِ درد چلتا ہوں

برہنہ پا میں سوئے دشتِ درد چلتا ہوںمیں اپنی آگ میں اپنی رضا سے جلتا ہوں مرے مزاج کی چارہ گری کرے گا کونچمن کی راہ سے، صحرا میں جا نکلتا ہوں اگر جلا نہ سکا مجھ کو آفتاب کوئیمیں رنگ و بو کی تمازت میں کیوں پگھلتا ہوں مجھے تو پیکرِ محسوس سے محبت

برہنہ پا میں سوئے دشتِ درد چلتا ہوں Read More »