MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

میں حقائق میں گرفتار ہوں، وہموں میں نہیں

میں حقائق میں گرفتار ہوں، وہموں میں نہیںکوئی نغمہ مری زنجیر کی کڑیوں میں نہیں ٹخنوں ٹخنوں میں پتاور میں کھڑا سوچتا ہوںجتنے پتّے ہیں یہاں، اُتنے درختوں میں نہیں شہر والو! یہ گھروندے ہیں، یہ گلیاں ہیں، یہ کھیتگاؤں والوں کی جو پوچھو تو وہ گاؤں میں نہیں غیر محسوس بہاروں کا وہ دَور […]

میں حقائق میں گرفتار ہوں، وہموں میں نہیں Read More »

اشک تھا، چشمِ تر کے کام آیا

اشک تھا، چشمِ تر کے کام آیامیں بشر تھا، بشر کے کام آیا میری قسمت میں شب تھی لیکن میںشمع بن کر سحر کے کام آیا روح میری، شجر کی چھاؤں بنیجسم، گرد و سفر کے کام آیاقجبر کو بھی زوال ہے، جیسےآہن، آئینہ گر کے کام آیا عجز کو بھی عروج ہے، جیسےایک قطره،

اشک تھا، چشمِ تر کے کام آیا Read More »

کتنے سر تھے جو پروئے گئے تلواروں میں

کتنے سر تھے جو پروئے گئے تلواروں میںگنتیاں دب گئیں تاریخ کے طوماروں میں شہر ہیں یہ، کہ تمدن کے عقوبت خانےعمر بھر لوگ چنے رہتے ہیں دیواروں میں دن کو دیکھا غمِ مزدور میں گریاں ان کوشب کو جو لوگ سجے بیٹھے تھے درباروں میں آپ دستار اتاریں تو کوئی فیصلہ ہولوگ کہتے ہیں

کتنے سر تھے جو پروئے گئے تلواروں میں Read More »

کسے معلوم تھا، اس شے کی بھی تجھ میں کمی ہو گی

کسے معلوم تھا، اس شے کی بھی تجھ میں کمی ہو گیگماں تھا، تیرے طرزِ جبر میں شائستگی ہو گی مجھے تسلیم ہے، تو نے محبت مجھ سے کی ہو گیمگر حالات نے اظہار کی مہلت نہ دی ہو گی میں اپنے آپ کو سلگا رہا ہوں اس توقع پرکبھی تو آگ بھڑکے گی، کبھی

کسے معلوم تھا، اس شے کی بھی تجھ میں کمی ہو گی Read More »

ہیں میرے قلب و نظر، لعل اور گہر میرے

ہیں میرے قلب و نظر، لعل اور گہر میرےسمیٹ لیں مرے ریزوں کو شیشہ گر میرے وه بول ہوں کہ کہیں نغمہ ہوں، کہیں فریادوہ لفظ ہوں کہ معانی، ہیں منتشر میرے مرے نصیب میں بنجر زمیں کی رکھوالیکنویں اداس مرے، کھیت بے ثمر میرے خزاں میں ولولۂ پر کشائی کس نے دیابہار آئی تو

ہیں میرے قلب و نظر، لعل اور گہر میرے Read More »

خوئے اظہار نہیں بدلیں گے

خوئے اظہار نہیں بدلیں گےہم تو کردار نہیں بدلیں گے غم نہیں بدلیں گے یارو، جب تکغم کے معیار نہیں بدلیں گے لوگ آئینے بدلتے ہیں، مگراپنے اطوار نہیں بدلیں گے تم نہ بدلو گے، تو زندانوں کےدر و دیوار نہیں بدلیں گے قافلے راہ بدلنے پہ مصراور سالار نہیں بدلیں گے چاہیں تو راہنما

خوئے اظہار نہیں بدلیں گے Read More »

دن جا چکے

دب کے رہنے کے دن جا چکےکچھ نہ کہنے کے دن جا چکےوار کرنے کے دن آ گئےوار سہنے کے دن جا چکے اب تو قدریں پگھلنے لگیںاور معیار گلنے لگے جو جواہر لہو سے ڈھلےمٹھیوں سے پھسلنے لگے جن کے ہاتھوں میں ہتھیار تھےاب وہی ہاتھ ملنے لگے اب تو سورج اترنے لگااور سائے

دن جا چکے Read More »

عالاں

تحریر: احمد ندیم قاسمی۔اماں ابھی دہی بلو رہی تھیں کہ وہ مٹی کا پیالہ لئے آ نکلی۔یہ دیکھ کر کہ ابھی مکھن ہی نہیں نکالا گیا تو لسسی کہاں سے ملے گی؟وہ شش و پنج میں پڑ گئی کہ واپس چلی جائے یا وہیں کھڑی رہے۔”بیٹھ جاؤ عالاں ! ” اماں نے کہا،ابھی دیتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیسی

عالاں Read More »

مرے اچھے فنکار

ریت سے بُت نہ بنا اے مرے اچھے فنکارایک لمحے کو ٹھہر میں تجھے پتّھر لا دوںمیں ترے سامنے انبار لگا دوں لیکنکون سے رنگ کا پتّھر ترے کام آئے گا؟سرخ پتّھر جسے دل کہتی ہے دنیا سارییا وہ پتّھرائی ہوئی آنکھ کا نیلا پتّھرجس میں صدیوں کے تحیّر کے پڑے ہوں ڈورےکیا تجھے روح

مرے اچھے فنکار Read More »

مجھے بھی مژدۂ کیفیتِ دوامی دے

مجھے بھی مژدۂ کیفیتِ دوامی دےمرے خدا! مجھے اعزازِ ناتمامی دے میں تیرے چشمۂ رحمت سے شاد کام تو ہوںکبھی کبھی مجھے احساسِ تشنہ کامی دے مجھے کسی بھی معزز کا ہمرکاب نہ کرمیں خود کماؤں جسے، بس وہ نیک نامی دے وہ لوگ جو کئی صدیوں سے ہیں نشیب نشیںبلند ہوں، تو مجھے بھی

مجھے بھی مژدۂ کیفیتِ دوامی دے Read More »