میں حقائق میں گرفتار ہوں، وہموں میں نہیں
میں حقائق میں گرفتار ہوں، وہموں میں نہیںکوئی نغمہ مری زنجیر کی کڑیوں میں نہیں ٹخنوں ٹخنوں میں پتاور میں کھڑا سوچتا ہوںجتنے پتّے ہیں یہاں، اُتنے درختوں میں نہیں شہر والو! یہ گھروندے ہیں، یہ گلیاں ہیں، یہ کھیتگاؤں والوں کی جو پوچھو تو وہ گاؤں میں نہیں غیر محسوس بہاروں کا وہ دَور […]
میں حقائق میں گرفتار ہوں، وہموں میں نہیں Read More »