MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

چودھویں اور مرزا نوشہ میاں

منٹو کے قلم سے مرزا غالب اپنے دوست حاتم علی مہر کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں، ’’مغل بچے بھی عجیب ہوتے ہیں کہ جس پر مرتے ہیں اس کو مار رکھتے ہیں، میں نے بھی اپنی جوانی میں ایک ستم پیشہ ڈومنی کو مار رکھا تھا۔‘‘سنہ بارہ سو چونسٹھ ہجری میں مرزا غالب […]

چودھویں اور مرزا نوشہ میاں Read More »

اے جنوں ہاتھ کے چلتے ہی مچل جاؤں گا

اے جنوں ہاتھ کے چلتے ہی مچل جاؤں گامیں گریبان سے پہلے ہی نکل جاؤں گا وہ ہٹے آنکھ کے آگے سے تو بس صورت عکسمیں بھی اس آئنہ خانے سے نکل جاؤں گا مہر تم سوختہ میں شیشۂ آتش ہے رقیباس پہ ڈالو گے تجلی تو میں جل جاؤں گا مجھ سے کہتا ہے

اے جنوں ہاتھ کے چلتے ہی مچل جاؤں گا Read More »

چراغ حسن ہے روشن کسی کا

چراغ حسن ہے روشن کسی کاہمارا خون ہے روغن کسی کا ابھی نادان ہیں محشر کے فتنےرہیں تھامے ہوئے دامن کسی کا دل آیا ہے قیامت ہے مرا دلاٹھے تعظیم دے جوبن کسی کا یہ محشر اور یہ محشر کے فتنےکسی کی شوخیاں بچپن کسی کا ادائیں تا ابد بکھری پڑی ہیںازل میں پھٹ پڑا

چراغ حسن ہے روشن کسی کا Read More »

خاک کرتی ہے برنگ چرخ نیلی فام رقص

خاک کرتی ہے برنگ چرخ نیلی فام رقصہر دو عالم کو ترا رکھتا ہے بے آرام رقص دیکھیے پیری کا حال اور دیکھیے ریش سفیدشیخ صاحب نا مناسب ہے یہ بے ہنگام رقص ابلق چشم بتاں کی شوخیاں چکرا گئیںآسماں پر مہر و مہ کرتے ہیں صبح و شام رقص ہو حقیقی یا مجازی عشق

خاک کرتی ہے برنگ چرخ نیلی فام رقص Read More »

لہو ٹپکا کسی کی آرزو سے

لہو ٹپکا کسی کی آرزو سےہماری آرزو ٹپکی لہو سے یہ ہے کس کا سویم پوچھا عدو سےکہ دم ہے ناک میں پھولوں کی بو سے وہ بچہ پرورش کرتی ہے الفتجو پیکاں پوروے کی طرح چوسے یہ ٹوٹے گی ہوائے گل سے واعظمری توبہ کو کیا نسبت وضو سے اسے کہتے ہیں قمری طوق

لہو ٹپکا کسی کی آرزو سے Read More »

مثل حباب بحر نہ اتنا اچھل کے چل

مثل حباب بحر نہ اتنا اچھل کے چلہیں ساتھ ساتھ موج حوادث سنبھل کے چل برگ خزاں رسیدہ سے آتی تھی یہ صدااس باغ سبز پر کف افسوس مل کے چل درپئے نہنگ مرگ ہے درپیش چاہ گورمستی نہ کر حواس میں آ مت مچل کے چل سوتے ہیں لوگ تار ہیں کوچے گزر ہے

مثل حباب بحر نہ اتنا اچھل کے چل Read More »

سر شوریدہ پائے دشت پیما شام ہجراں تھا

سر شوریدہ پائے دشت پیما شام ہجراں تھاکبھی گھر تھا بیاباں میں کبھی گھر میں بیاباں تھا ترے کشتے کو محشر خواب آسائش کا ساماں تھاکہ صور افسانہ گو تھا زلزلہ گہوارۂ جنباں تھا جسے سب نوح کے فرزند کہتے ہیں کہ طوفاں تھاکسی جاندادۂ خاموش کا اندوہ پنہاں تھا بلا سے چور کر دو

سر شوریدہ پائے دشت پیما شام ہجراں تھا Read More »

صبح قیامت آئے گی کوئی نہ کہہ سکا کہ یوں

صبح قیامت آئے گی کوئی نہ کہہ سکا کہ یوںآئے وہ در سے ناگہاں کھولے ہوئے قبا کہ یوں گوہر نابسودہ کو زلف میں مت دکھا کہ یوںمیری کمند شوق میں رات کے وقت آ کہ یوں کیوں کہ جھکے نسیم سے سوچے تھی نرگس چمندیکھ کے چشم ناز کو آنے لگی حیا کہ یوں

صبح قیامت آئے گی کوئی نہ کہہ سکا کہ یوں Read More »

کھلا ہے جلوۂ پنہاں سے از بس چاک وحشت کا

کھلا ہے جلوۂ پنہاں سے از بس چاک وحشت کامیں ڈرتا ہوں کہیں پردہ نہ پھٹ جائے حقیقت کا کہاں لے جائے گا یا رب سمند تند وحشت کاکہ پیچھے رہ گیا کوسوں دوراہا نار و جنت کا غبار رنگ پراں ہے پھریرا تیری رایت کاشکست قلب عاشق غلغلہ ہے تیری نصرت کا کیا ہے

کھلا ہے جلوۂ پنہاں سے از بس چاک وحشت کا Read More »

یار پہلو میں نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

یار پہلو میں نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھاتار گیسو رگ جاں تھا مجھے معلوم نہ تھا دل میں وہ غنچہ وہاں تھا مجھے معلوم نہ تھاگل شگوفہ میں نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا وہ ہی نور دو جہاں تھا مجھے معلوم نہ تھاوہی یاں تھا وہی واں تھا مجھے معلوم نہ تھا دل

یار پہلو میں نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا Read More »