MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یہ میں کہوں گا فلک پہ جا کر زمیں سے آیا ہوں تنگ آ کر

یہ میں کہوں گا فلک پہ جا کر زمیں سے آیا ہوں تنگ آ کرجو اے مسیحا تو ہے مسیحا تو کچھ مرے درد کی دوا کر تمہارے جلوے غضب کے دیکھے تمہارے چھینٹے بلا کے پائےلگا لگا دی بجھا بجھا کر بجھا بجھا دی لگا لگا کر ضدیں محبت سے ایسی آئیں خیال رکھا […]

یہ میں کہوں گا فلک پہ جا کر زمیں سے آیا ہوں تنگ آ کر Read More »

یہ کیسی صبح ہوئی کیسا یہ سویرا ہے

یہ کیسی صبح ہوئی کیسا یہ سویرا ہےہمارے گھر میں ابھی تک وہی اندھیرا ہے نہ جانے اب کے برس ہاریوں پہ کیا گزرےپکی ہے فصل تو بادل بہت گھنیرا ہے کٹے شجر کو نئی رت کا حال کیا معلومکہ واسطہ تو یہاں موسموں سے میرا ہے پرند کیوں نہ اڑیں اس درخت سے زلفیؔکمان

یہ کیسی صبح ہوئی کیسا یہ سویرا ہے Read More »

اب خانہ بدوشوں کا پتہ ہے نہ خبر ہے

اب خانہ بدوشوں کا پتہ ہے نہ خبر ہےکوئی ہے نظر بند کوئی شہر بدر ہے پھر فصل بہار آئی پرندے نہیں آئےویران ابھی تک مرے آنگن کا شجر ہے قامت ہی میسر ہے اسے اور نہ چہرہیہ کون سی مخلوق ہے کیسا یہ نگر ہے میں دھوپ اٹھائے ہوئے چپ چاپ کھڑا ہوںاس دشت

اب خانہ بدوشوں کا پتہ ہے نہ خبر ہے Read More »

جیسے کشتی اور اس پر بادباں پھیلے ہوئے

جیسے کشتی اور اس پر بادباں پھیلے ہوئےمیرے سر پر اس طرح ہیں آسماں پھیلے ہوئے چل رہے ہیں دھوپ سے تپتی ہوئی سڑکوں پہ لوگاور سائے سائباں در سائباں پھیلے ہوئے دیکھیے کب تک رہے تنہا پرندے کی اڑانہیں سمندر ہی سمندر بے کراں پھیلے ہوئے جاگتی آنکھوں کے خواب اور تیرے بالوں کے

جیسے کشتی اور اس پر بادباں پھیلے ہوئے Read More »

کون ہے نیک کون بد ہے یہاں

کون ہے نیک کون بد ہے یہاںکس کے ہاتھوں میں یہ سند ہے یہاں کھلتے جاتے ہیں کائنات کے بھیدجو ازل ہے وہی ابد ہے یہاں جو نظر آئے وہ حقیقت ہےجو کہا جائے مستند ہے یہاں کتنی مدت سے دیکھتا ہوں میںاک تماشائے خال و خد ہے یہاں جو کسی طور جل نہیں پائےان

کون ہے نیک کون بد ہے یہاں Read More »

خواب پہلے لے گیا پھر رت جگا بھی لے گیا

خواب پہلے لے گیا پھر رت جگا بھی لے گیاجاتے جاتے وہ مرے گھر کا دیا بھی لے گیا دھوپ ہے اب اور نہ بادل ہے نہ خوشبو اور نہ پھولسارے موسم لے گیا آب و ہوا بھی لے گیا زندگی اے زندگی طے ہو مسافت کس طرحسمت منزل لے گیا وہ راستہ بھی لے

خواب پہلے لے گیا پھر رت جگا بھی لے گیا Read More »

کسی دیار کسی دشت میں صبا لے چل

کسی دیار کسی دشت میں صبا لے چلکہیں قیام نہ کر مجھ کو جا بہ جا لے چل میں اپنی آنکھیں بھی رکھ آؤں اس کی چوکھٹ پریہ سارے خواب مرے اور رت جگا لے چل میں اپنی راکھ اڑاؤں گا جل بجھوں گا وہیںمجھے بھی اس کی گلی میں ذرا ہوا لے چل ہتھیلیوں

کسی دیار کسی دشت میں صبا لے چل Read More »

زمیں پر سرنگوں بیٹھا ہوا ہوں

زمیں پر سرنگوں بیٹھا ہوا ہوںاور اپنا ریزہ ریزہ چن رہا ہوں اگر الجھن نہیں کوئی تو کیوں میںمسلسل سوچتا ہوں جاگتا ہوں اسیر روز و شب ہے زندگانیمیں اس تکرار سے اکتا گیا ہوں مری عریانیوں پر شور کیوں ہےاگر اندھوں میں ننگا ہو گیا ہوں تم اپنی روشنی محفوظ رکھناتمہارے واسطے میں بجھ

زمیں پر سرنگوں بیٹھا ہوا ہوں Read More »

اس اعتبار سے بے انتہا ضروری ہے

اس اعتبار سے بے انتہا ضروری ہےپکارنے کے لیے اک خدا ضروری ہے ہزار رنگ میں ممکن ہے درد کا اظہارترے فراق میں مرنا ہی کیا ضروری ہے شعور شہر کے حالات کا نہیں سب کوبیان شہر کے حالات کا ضروری ہے کچھ ایسے شعر ہیں یارو جو ہم نہیں کہتےہر ایک بات کا اظہار

اس اعتبار سے بے انتہا ضروری ہے Read More »

اس طرح پہنچے گا کیسے پایۂ تکمیل کو

اس طرح پہنچے گا کیسے پایۂ تکمیل کوآخری کہتا ہے کیوں تابوت کی ہر کیل کو خود ضرورت مند ہے روتا ہے خود ترسیل کوچاہیے پیغامبر اپنے لیے جبریل کو کب سے سوتا ہے کرو بیدار میکائیل کوورنہ کافی کام مل جائے گا عزرائیل کو تو نے گو کوئی کسر چھوڑی نہیں رب کریمکام یہ

اس طرح پہنچے گا کیسے پایۂ تکمیل کو Read More »