MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ایک دیوار گریہ بناؤ کہیں – Aik diwar gar ye banaun kahin

ایک دیوار گریہ بناؤ کہیںیا وہ دیوار گریہ ہی لاؤ یہیںاب جو اس پار بیت المقدس میں ہےتاکہ اس سے لپٹاردن و مصر کے، شام کےان شہیدوں کو یکبار روئیںان کے زخموں کو اشکوں سے دھوئیںوہ جو غازہ میں لڑ کروه جو سینائی کے دشت میں بے اماںوحشی دشمن کی توپوں کا ایندھن بنے جن […]

ایک دیوار گریہ بناؤ کہیں – Aik diwar gar ye banaun kahin Read More »

ہم رات بہت روئے، بہت آہ و فغاں کی – Hum raat bohat roye, bohat aah o fighan ki

ہم رات بہت روئے، بہت آہ و فغاں کیدل درد سے بوجھل ہو تو پھر نیند کہاں کی سر زانو پہ رکھے ہوئے کیا سوچ رہی ہو؟کچھ بات سمجھتی ہو محبت زدگاں کی؟ تم میری طرف دیکھ کے چپ ہو سی گئی تھیںوہ ساعتِ خوش وقت نشاطِ گزراں کی اک دن یہ سمجھتے تھے کہ

ہم رات بہت روئے، بہت آہ و فغاں کی – Hum raat bohat roye, bohat aah o fighan ki Read More »

ہو نہ دنیا میں کوئی ہم سا بھی پیاسا لوگو – Ho na duniya mai koi humsa bhi pyasa logon

ہو نہ دنیا میں کوئی ہم سا بھی پیاسا لوگوجی میں آتی ہے کہ پی جائیں یہ دریا لوگو کتنی اس شہر کے سخیوں کی سُنی تھی باتیںہم جو آئے تو کسی نے بھی نہ پوچھا لوگو اتفاقاً ہی سہی ، پر کوئی در تو کُھلتاجھلملاتا پسِ چلمن کوئی سایا لوگو سب کے سب مست

ہو نہ دنیا میں کوئی ہم سا بھی پیاسا لوگو – Ho na duniya mai koi humsa bhi pyasa logon Read More »

کیسی بھی ہو اس شخص کی اوقات عزیزو – Kesi bhi ho us shakhs ki aukat azeezo

کیسی بھی ہو اس شخص کی اوقات عزیزوانشاؔ کی غنیمت ہے ابھی ذات عزیزو اس شہرِ خرد میں کہاں ملتے ہیں دِوانےپیدا تو کرو اس سے ملاقات عزیزو پابندِ سلاسل ہے ، پہ زندان جہاں میںزندانِ جہاں کی سی کرے بات عزیزو ہے مفلس و محتاج پہ ہم نے تو نہ دیکھااس کو بہ درِ

کیسی بھی ہو اس شخص کی اوقات عزیزو – Kesi bhi ho us shakhs ki aukat azeezo Read More »

راز کہاں تک راز رہے گا منظرِ عام پہ آئے گا – Raaz kaha tak raaz rahega manzar e aam pe ayega

راز کہاں تک راز رہے گا منظرِ عام پہ آئے گاجی کا داغ اُجاگر ہو کر سورج کو شرمائے گا شہروں کو ویران کرے گا اپنے آنچ کی تیزی سےویرانوں میں مست البیلے وحشی پُھول کھلائے گا ہاں یہی شخص گداز و نازک ، ہونٹوں پر مسکان لیےاے دل اپنے ہاتھ لگاتے پتھر کا بن

راز کہاں تک راز رہے گا منظرِ عام پہ آئے گا – Raaz kaha tak raaz rahega manzar e aam pe ayega Read More »

اے متوالی بدلی کالی ، رُوپ کا رس برساتی جا – Ay matwali kaali, roop ka ras barsati ja

اے متوالی بدلی کالی ، رُوپ کا رس برساتی جادل والوں کی اُجڑی کھیتی ، سُونا دھام بساتی جا دیوانوں کا روپ نہ دھاریں ؟ یا دھاریں؟ بتلاتی جاماریں یا ہمیں اینٹ نہ ماریں ، لوگوں سے فرماتی جا اور بہت سے رشتے تیرے ، اور بہت سے تیرے نامآج تُو ایک ہمارے رشتے مُحبوبہ

اے متوالی بدلی کالی ، رُوپ کا رس برساتی جا – Ay matwali kaali, roop ka ras barsati ja Read More »

اس شہر کے لوگوں پہ ختم سہی ، خوش طلعتی و گُل پیرہنی – Us sheher ke logo pe khatam sahi, khush talati o gul peerhni

اس شہر کے لوگوں پہ ختم سہی ، خوش طلعتی و گُل پیرہنیمرے دل کی تو پیاس کبھی نہ بُجھی، مرے جی کی بات کبھی نہ بنی ابھی کل ہی بات ہے جانِ جہاں ، یہاں خیل کے خیل تھے شور کناںاب نعرۂ عشق نہ ضربِ فغاں ، گئے کون نگر وہ وفا کے دھنی

اس شہر کے لوگوں پہ ختم سہی ، خوش طلعتی و گُل پیرہنی – Us sheher ke logo pe khatam sahi, khush talati o gul peerhni Read More »

دیکھ ہمارے ماتھے پر یہ دشتِ طلب کی دھول میاں – Dekh hmare mathay par ye dasht e talb ki dhool miyan

دیکھ ہمارے ماتھے پر یہ دشتِ طلب کی دھول میاںہم سے عجب ترا درد کا ناتا، دیکھ ہمیں مت بھول میاں اہلِ وفا سے بات نہ کرنا، ہوگا ترا اصول میاںہم کیوں چھوڑیں ان گلیوں کے پھیروں کا معمول میاں یونہی تو نہیں دشت میں پہنچے، یونہی تو نہیں جوگ لیابستی بستی کانٹے دیکھے، جنگل

دیکھ ہمارے ماتھے پر یہ دشتِ طلب کی دھول میاں – Dekh hmare mathay par ye dasht e talb ki dhool miyan Read More »

آپ سے عرض ملاقات نئی بات نہیں

آپ سے عرض ملاقات نئی بات نہیںھے مرے لب پہ وہی بات نئی بات نہیں دل بے تاب یہ ہلچل یہ قیامت کیسیآج کچھ ان سے ملاقات نئی بات نہیں آپ آ جائیں تو رم جھم کی صدا ناچ اٹھےورنہ یہ رات یہ برسات نئی بات نہیں ھے یہی فرقہ ارباب وفا کا مقسومیہ پریشانی

آپ سے عرض ملاقات نئی بات نہیں Read More »

ہم کو تو گردشِ حالات پہ رونا آیا

ہم کو تو گردشِ حالات پہ رونا آیارونے والے تجھے کس بات پہ رونا آیا کیسے جیتے ہیں یہ کس طرح جیے جاتے ہیںاہلِ دل کی بسر اوقات پہ رونا آیا جی نہیں آپ سے کیا مجھ کو شکایت ہوگیہاں مجھے تلخیِ حالات پہ رونا آیا حسنِ مغرور کا یہ رنگ بھی دیکھا آخرآخر ان

ہم کو تو گردشِ حالات پہ رونا آیا Read More »