MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مری داستان حسرت وہ سنا سنا کر روئے

مری داستان حسرت وہ سنا سنا کر روئےمرے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے کوئی ایسا اہل دل ھو کہ فسانہ محبتمیں اسے سنا کے روؤں وہ مجھے سنا کے روئے مری آرزو کی دنیا دل ناتواں کی حسرتجسے کھو کے شادماں تھے اسے آج پا کے روئے تری بے وفائیوں پر تری کج ادائیوں […]

مری داستان حسرت وہ سنا سنا کر روئے Read More »

آپ اپنی آرزو سے بیگانے ہو گئے ہیں

آپ اپنی آرزو سے بیگانے ہو گئے ہیںہم شوق ِ جستجو میں دیوانے ہو گئے ہیں فرقت میں جن کو اپنا کہہ کہہ کر دن گزارےوہ جب سے مل گئے ہیں بیگانے ہو گئے ہیں کہتے ہیں قصہ غم ہر انجمن میں جا کرہم اہل دل بھی کیسے دیوانے ہو گئے ہیں آنکھوں سے جو

آپ اپنی آرزو سے بیگانے ہو گئے ہیں Read More »

جب تصور میں نہ پائیں گے تمہیں

جب تصور میں نہ پائیں گے تمہیںپھر کہاں ڈھونڈنے جائیں گے تمہیں تم نے دیوانہ بنایا مجھ کولوگ افسانہ بنائیں گے تمہیں حسرتو ! دیکھو یہ ویرانہ دلاِس نئے گھر میں بسائیں گے تمہیں میری وحشت، مرے غم کے قصےلوگ کیا کیا نہ سنائیں گے تمہیں آہ میں کتنا اثر ہوتا ہےیہ تماشا بھی دکھائیں

جب تصور میں نہ پائیں گے تمہیں Read More »

تمہاری یاد کہیں رکھ کر بھول گیا ہوں

تمہاری یاد کہیں رکھ کر بھول گیا ہوں سوچا تھا پہلے کر لوں وہ کام جو مجھ کو کرنے ہیںپھر تو سارے ماہ و سال اُسی کے ساتھ گزرنے ہیںجب یہ فرض ادا کر لوں گا، جب یہ قرض اُتاروں گاعمر کا باقی حصہ تیری یاد کے ساتھ گزاروں گا آج فراغت پاتے ہی ماضی

تمہاری یاد کہیں رکھ کر بھول گیا ہوں Read More »

کوئی نہیں آتا سمجھانے

کوئی نہیں آتا سمجھانےاب آرام سے ہیں دیوانے طے نہ ہوئے دل کے ویرانےتھک کر بیٹھ گئے دیوانے مجبُوری سب کو ہوتی ہےملنا ہو تو لاکھ بہانے بن نہ سکی احباب سے اپنیوہ دانا تھے، ہم دیوانے نئی نئی اُمیدیں آ کرچھیڑ رہی ہیں زخم پرانے جلوہء جاناں کی تفسیریںایک حقیقت، لاکھ فسانے دنیا بھر

کوئی نہیں آتا سمجھانے Read More »

باقی رہی نہ خاک بھی میری زمانے میں

باقی رہی نہ خاک بھی میری زمانے میںاور برق ڈھونڈتی ہے مجھے آشیانے میں اب کِس سے دوستی کی تمنا کریں گے ہماِک تم جو مل گئے ہو سارے زمانے میں اے حسن! میرے شوق کو الزام تو نہ دےتیرا تو نام تک نہیں میرے فسانے میں روئے لپٹ لپٹ کے غمِ دو جہاں سے

باقی رہی نہ خاک بھی میری زمانے میں Read More »

مسجد و منبر کہاں،میخوار و میخانے کہاں

مسجد و منبر کہاں،میخوار و میخانے کہاںکیسے کیسے لوگ آ جاتے ہیں سمجھانے کہاں یہ کہاں تک پھیلتی جاتی ہیں دل کی وسعتیںحسرتو! دیکھو سمٹ آئے ہیں ویرانے کہاں میں بہت بچ بچ کے گزرا ہوں غمِ ایام سےلُٹ گئے تیرے تصور سے پری خانے کہاں یہ بھی تیرے غم کا اِک بدلا ہوا انداز

مسجد و منبر کہاں،میخوار و میخانے کہاں Read More »

میں ترا شہر چھوڑ جاؤں گا

وعدہ اِس سے پہلے کہ تیری چشمِ کرممعذرت کی نِگاہ بن جائےاِس سے پہلے کہ تیرے بام کا حُسنرفعت ِ مہر و ماہ بن جائےپیار ڈھل جائے میرے اشکوں میںآرزو ایک آہ بن جائےمجھ پہ آ جائے عشق کا الزاماور تو بے گناہ بن جائے میں ترا شہر چھوڑ جاؤں گا اِس سے پہلے کے

میں ترا شہر چھوڑ جاؤں گا Read More »

چاندنی رات بڑی دیر کے بعد آئی ہے

چاندنی رات بڑی دیر کے بعد آئی ہےلب پہ اک بات بڑی دیر کے بعد آئی ہے جھوم کر آج یہ شب رنگ لٹیں بکھرا دےدیکھ برسات بڑی دیر کے بعد آئی ہے دل مجروح کی اجڑی ہوئی خاموشی سےبوئے نغمات بڑی دیر کے بعد آئی ہے آج کی رات وہ آئے ہیں بڑی دیر

چاندنی رات بڑی دیر کے بعد آئی ہے Read More »

رُخ پہ یوں جھوم کر وہ لَٹ جائے

رُخ پہ یوں جھوم کر وہ لَٹ جائےخضر دیکھے تو عمر کٹ جائے اس نظارے سے کیا بچے کوئیجو نگاہوں سے خود لپٹ جائے یہ بھی اندھیر ہم نے دیکھا ہےرات اک زلف میں سمٹ جائے جانے تجھ سے ادھر بھی کیا کچھ ہےکاش تو سامنے سے ہٹ جائے موت نے کھیل ہم کو جانا

رُخ پہ یوں جھوم کر وہ لَٹ جائے Read More »