MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کوئی اظہار غم دل کا بہانہ بھی نہیں

کوئی اظہار غم دل کا بہانہ بھی نہیںہو بہانہ بھی جو کوئی تو زمانہ بھی نہیں زندگی تجھ کو جو سمجھا ہوں تو اتنا ہی فقطتو حقیقت بھی نہیں اور فسانہ بھی نہیں خامشی فکر کا منبع بھی ہے اور بات یہ ہےصاف گوئی کا عزیزو یہ زمانہ بھی نہیں اک خزانہ تھا مرا جوشؔ […]

کوئی اظہار غم دل کا بہانہ بھی نہیں Read More »

میں دل میں ان کی یاد کے طوفاں کو پال کر

میں دل میں ان کی یاد کے طوفاں کو پال کرلایا ہوں ایک موج تغزل نکال کر پیمانۂ طرب میں کہیں بال آ گیامیں گرچہ پی رہا تھا بہت ہی سنبھال کر محفل جمی ہوئی ہے تری راہ میں کوئیاے گردش زمانہ بس اتنا خیال کر آزاد جنس دل کو فقط اک نظر پہ بیچسودا

میں دل میں ان کی یاد کے طوفاں کو پال کر Read More »

مری چشم تماشا اب جہاں ہے

مری چشم تماشا اب جہاں ہےتجلی کارواں در کارواں ہے یقیں ہے آخری منزل گماں کییقیں کی آخری منزل گماں ہے وہ مجھ سے دور تو اتنے نہیں ہیںفقط اک بے یقینی درمیاں ہے یہ راز اہل فغاں پر فاش کر دوخموشی بھی اک انداز فغاں ہے یہ میر کارواں سے کوئی کہہ دےکہ میں

مری چشم تماشا اب جہاں ہے Read More »

ممکن نہیں کہ بزم طرب پھر سجا سکوں

ممکن نہیں کہ بزم طرب پھر سجا سکوںاب یہ بھی ہے بہت کہ تمہیں یاد آ سکوں یہ کیا طلسم ہے کہ تری جلوہ گاہ سےنزدیک آ سکوں نہ کہیں دور جا سکوں ذوق نگاہ اور بہاروں کے درمیاںپردے گرے ہیں وہ کہ نہ جن کو اٹھا سکوں کس طرح کر سکو گے بہاروں کو

ممکن نہیں کہ بزم طرب پھر سجا سکوں Read More »

نشے میں ہوں مگر آلودۂ شراب نہیں

نشے میں ہوں مگر آلودۂ شراب نہیںخراب ہوں مگر اتنا بھی میں خراب نہیں کہیں بھی حسن کا چہرہ تہ نقاب نہیںیہ اپنا دیدۂ دل ہے کہ بے حجاب نہیں وہ اک بشر ہے کوئی نور آفتاب نہیںمیں کیا کروں کہ مجھے دیکھنے کی تاب نہیں یہ جس نے میری نگاہوں میں انگلیاں بھر دیںتو

نشے میں ہوں مگر آلودۂ شراب نہیں Read More »

پھر لوٹ کر گئے نہ کبھی دشت و در سے ہم

پھر لوٹ کر گئے نہ کبھی دشت و در سے ہمنکلے بس ایک بار کچھ اس طرح گھر سے ہم کچھ دور تک چلے ہی گئے بے خبر سے ہماے بے خودیٔ شوق یہ گزرے کدھر سے ہم آزاد بے نیاز تھے اپنی خبر سے ہمپلٹے کچھ اس طرح سے دکن کے سفر سے ہم

پھر لوٹ کر گئے نہ کبھی دشت و در سے ہم Read More »

تیرا خیال ہے دل حیراں لیے ہوئے

تیرا خیال ہے دل حیراں لیے ہوئےیا ذرہ آفتاب کا ساماں لیے ہوئے دیکھا انہیں جو دیدۂ حیراں لیے ہوئےدل رہ گیا جراحت پنہاں لیے ہوئے میں پھر ہوں التفات گریزاں کا منتظراک بار التفات گریزاں لیے ہوئے میں چھیڑنے لگا ہوں پھر اپنی نئی غزلآ جاؤ پھر تبسم پنہاں لیے ہوئے کیا بے بسی

تیرا خیال ہے دل حیراں لیے ہوئے Read More »

یوں اک سبق مہر و وفا چھوڑ گئے ہم

یوں اک سبق مہر و وفا چھوڑ گئے ہمہر راہ میں نقش کف پا چھوڑ گئے ہم دنیا ترے قرطاس پہ کیا چھوڑ گئے ہماک حسن بیاں حسن ادا چھوڑ گئے ہم ماحول کی ظلمات میں جس راہ سے گزرےقندیل محبت کی ضیا چھوڑ گئے ہم بیگانہ رہے درد محبت کی دوا سےیہ درد ہی

یوں اک سبق مہر و وفا چھوڑ گئے ہم Read More »

انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا – Insha jee utho ab kooch kro is sheher mai jee jo lagana kya

انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیاوحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا اس دل کے دریدہ دامن کو دیکھو تو سہی سوچو تو سہیجس جھولی میں سو چھید ہوئے اس جھولی کا پھیلانا کیا شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا زنجیر پڑی دروازے

انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا – Insha jee utho ab kooch kro is sheher mai jee jo lagana kya Read More »

دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے، اب آن ملو تو بہتر ہو – Dil hijr ke dard se bojhal hai, ab aan milo tou behtar ho

دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے، اب آن ملو تو بہتر ہواس بات سے ہم کو کیا مطلب، یہ کیسے ہو، یہ کیونکر ہو یہ دل ہے کہ جلتے سینے میں، اک درد کا پھوڑا الہڑ سانہ گپت رہے، نہ پھوٹ بہے، کوئی مرہم ہو، کوئی نشتر ہو ہم سانجھ سمے کی چھایا ہیں،

دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے، اب آن ملو تو بہتر ہو – Dil hijr ke dard se bojhal hai, ab aan milo tou behtar ho Read More »