MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

گرچہ سو بار غمِ ہجر سے جاں گُزری ہے

گرچہ سو بار غمِ ہجر سے جاں گُزری ہےپھر بھی جو دل پہ گزرتی تھی کہاں گزری ہے آپ ٹھہرے ہیں تو ٹھہرا ہے نظامِ عالمآپ گزرے ہیں تو اک موجِ رواں گُزری ہے ہوش میں آئے تو بتلائے ترا دیوانہدن گزارا ہے کہاں رات کہاں گُزری ہے ایسے لمحے بھی گُزارے ہیں تری فُرقت […]

گرچہ سو بار غمِ ہجر سے جاں گُزری ہے Read More »

حصار

حصار. …….تمہی تو ہو جو مرے دل کا آئنہ خانہسجا کے رکھتی ہو ایسے کہ عکس’ رنگ’بہارہر ایک سمت نظر میں بکھرتے جاتے ہیں تمہی تو ہو جو مرے ان خمیدہ ہاتھوں کولگا کے رکھتی ہو دل سے کہ جیسے شاخِ بہارکہ جیسے پھول کو تتلی کا لمس ملتا ہے. تمہی تو ہو جو ہر

حصار Read More »

کوئی فکر لو نہیں دے رہی’ کوئی شعرِ تر نہیں ہورہا

کوئی فکر لو نہیں دے رہی’ کوئی شعرِ تر نہیں ہورہارہ ِ نعت میں کوئی آشنا ‘ مرا ہم.سفر نہیں ہورہا میں دیار ِ حرف میں مضمحل’ میں شکستہ پا میں شکستہ دلمجھے ناز اپنے سخن پہ تھا سو وہ کارگر نہیں ہورہا مرے شعر اس کے گواہ ہیں ‘ کہ حروف میری سپاہ ہیںمگر

کوئی فکر لو نہیں دے رہی’ کوئی شعرِ تر نہیں ہورہا Read More »

تجھے خبر ہو کہ واقف ہوں تیرے حال سے میں

تجھے خبر ہو کہ واقف ہوں تیرے حال سے میںگزر رہا ہوں ترے موسم ِ خیال سے میں وہ پھر ملا تو مجھے حیرتوں سے تکتا رہاکہ دل گرفتہ نہ لگتا تھا بول چال سے میں پرانی چوٹ بہت دن وفا نباہتی ہےبہت دکھا ہوں ادھر چند ایک سال سے میں یہ بے امان محبت

تجھے خبر ہو کہ واقف ہوں تیرے حال سے میں Read More »

کچھ بھی ہو خوئے یار سے ہٹنے کی خُو نہ ہو

کچھ بھی ہو خوئے یار سے ہٹنے کی خُو نہ ہونعت و سلام و مدح میں یارب غلُو نہ ہو مضمون آفرینی و نکتہ سرائی میںایسا نہ ہو کہ چہرہء حق سرخرو نہ ہو میری سپہ مجھی پہ نہ تلوار سونت لےمیرا لکھا ہوا کہیں میرا عدو نہ ہو بیکار ہی نہ جائیں سخن کی

کچھ بھی ہو خوئے یار سے ہٹنے کی خُو نہ ہو Read More »

لفظوں جیسی پاگل چاہت اس کی بھی

لفظوں جیسی پاگل چاہت اس کی بھیغزلیں نظمیں بھیجنا عادت اس کی بھی لگتا تھا کہ اس سے باتیں کرتی ہےگم سم گم سم ایک محبت اس کی بھی سب میں رہنا ‘سب سے دور نکل جانابالکل میرے جیسی حالت اس کی بھی وہ تو جیسے میرے جسم کا حصہ تھاجھیلتا رہتا تھا میں وحشت

لفظوں جیسی پاگل چاہت اس کی بھی Read More »

نظام ِ شام و سحر سے مفر بھی ہے کہ نہیں

نظام ِ شام و سحر سے مفر بھی ہے کہ نہیںفصیل ِ درد ِ مسلسل میں در بھی ہے کہ نہیں سواد ِشام سے نورِ سحر کی منزل تکسوائے درد کوئی ہمسفر بھی ہے کہ نہیں تجھے یقین نہ آئے تو میری آنکھ سے دیکھترے جمال میں حسن ِ نظر بھی ہے کہ نہیں میں

نظام ِ شام و سحر سے مفر بھی ہے کہ نہیں Read More »

بغیر اِذن کسی سے کہاں چلا جائے

بغیر اِذن کسی سے کہاں چلا جائےجسے بھی زَعم ِ سفر ہو یہاں’ چلا جائے رکو میں کوہِ فروزاں سے آگ لے آؤںیہ عہدِ شب نہ کہِیں بے نشاں چلا جائے یہ رسّیاں ہیں ترا رزق ‘ اے عصاے قلم !چلے تو سب ہُنَر ِ ساحؐراں چلا جائے کھڑی ہے دونوں طرف خِشت ِ آب

بغیر اِذن کسی سے کہاں چلا جائے Read More »

ایک پرندہ ٹہنی ٹہنی ڈولتا ہے

ایک پرندہ ٹہنی ٹہنی ڈولتا ہےمجھ میں کوئی اُڑنے کو پر تولتا ہے کوئی تو ہے جو تلخ سمندر کی تہ میںچپکے چپکے میٹھا دریا گھولتا ہے کنجِ چشم سے کنجِ لب تک آتے ہوئےڈھلتا آنسو لمحہ لمحہ بولتا ہے سانس میں ریت کی لہریں کروٹ لیتی ہیںاب میرے لہجے میں صحرا بولتا ہے جیسے

ایک پرندہ ٹہنی ٹہنی ڈولتا ہے Read More »

ہر شخص وہاں بِکنے کو تیار لگے تھا

ہر شخص وہاں بِکنے کو تیار لگے تھاوہ شہر سے بڑھ کر کوئی بازار لگے تھا ہر شام دبے پاؤں نکلتا تھا کہیں سےوہ رنج کوئی سایہء دیوار لگے تھا کیا طرفہ طلسمات تھا آئینہء دل بھیاِس پار لگا تھا مگر اُس پار لگے تھا اُس پیش میاں پیش نہ چلتی تھی کسو کیانکار کروں

ہر شخص وہاں بِکنے کو تیار لگے تھا Read More »