MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دیوار ِ وصال درمیاں ہے "

کیا ختم ہوئیں ہماری باتیںکیا آگئے آخری کنارےکیا موسم گل گزر چکاہےکیا خواب بکھر گئے ہمارےکیا خواب بکھر گئے ہمارےآنکھوں سے قصور کیا ہوا ہےٹوٹی ہوئی پتیوں کی صورتکیا ہم کو خزاں نے آلیا ہےاک آگ سی جل رہی ہے لیکنیہ کس نے ہمیں بجھا دیا ہےکیا سچ ہے کہ اب ہمارے دل میںاک اور […]

دیوار ِ وصال درمیاں ہے " Read More »

پرانے دور’ گذشتہ سفر خدا حافظ

پرانے دور’ گذشتہ سفر خدا حافظیہاں تک آتی ہوئی رہگزر ! خدا حافظ میں ایک بار کے الفاظ کم سمجھتا ہوںیہ آنکھ کہتی ہے بار ِ دگر خدا حافظ بچھڑ کے جاتے ہوئے عشق ! فی امان اللہتو میرے ساتھ رہے گا ‘مگر خدا حافظ نکالنے سے کوئی دل سے کب نکلتا ہےمیں کہہ سکا

پرانے دور’ گذشتہ سفر خدا حافظ Read More »

اشک زیادہ سینے میں کم آنکھوں میں

اشک زیادہ سینے میں کم آنکھوں میںدل میں ایک سمندر شبنم آنکھوں میں تعبیروں کی رت جانے کب آئے گیمدت سے ہیں خواب کے موسم آنکھوں میں قطرہ قطرہ ڈھلتی ہیں پر جلتی ہیںدرد کی شمعیں مدھم مدھم آنکھوں میں راہ کہاں سے پاتے ہیں کیوں آتے ہیںہنستے ہنستے آنسو یکدم آنکھوں میں منہ مانگی

اشک زیادہ سینے میں کم آنکھوں میں Read More »

بیعت کی صدی لمحۂ انکار سے کم ہے

بیعت کی صدی لمحۂ انکار سے کم ہےسردار! تری عمر سرِ دار سے کم ہے اس بات پہ شاہد ہے یہ مشکیزہ ء خالی!اک گھونٹ کی وقعت مرے پندار سے کم ہے حق یہ ہے کہ اک نکتۂ پاراں کے سوا بھیدربار میں جو کچھ ہے درِ یار سے کم ہے میں خاک نشینوں کے

بیعت کی صدی لمحۂ انکار سے کم ہے Read More »

ترا وصل ہے مجھے بے خودی ترا ہجر ہے مجھے آگہی

ترا وصل ہے مجھے بے خودی ترا ہجر ہے مجھے آگہیترا وصل مجھ کو فراق ہے ترا ہجر مجھ کو وصال ہے میں ہوں در پر اس کے پڑا ہوا مجھے اور چاہیئے کیا بھلامجھے بے پری کا ہو کیا گلا مری بے پری پر و بال ہے وہی میں ہوں اور وہی زندگی وہی

ترا وصل ہے مجھے بے خودی ترا ہجر ہے مجھے آگہی Read More »

تمہیں لطف کرنا گوارا نہیں​

تمہیں لطف کرنا گوارا نہیں​مِرا اور کوئی سہارا نہیں​ ​تمہیں پاس کچھ بھی ہمارا نہیں​مروت نہیں ہے مدارا نہیں​ ​یہ مانا بجز صبر چارا نہیں​یہاں صبر کا بھی تو یارا نہیں​ ​مرے عجز کی انتہا ہوچکی​غمِ رشک بھی ناگوارا نہیں​ ​جدائی، جدائی کے صدمے نہ پوچھ​مرا حال کیا آشکارا نہیں ​ ​یہ حسن و جوانی، یہ

تمہیں لطف کرنا گوارا نہیں​ Read More »

ہر آن ایک تازہ شکایت ہے آپ سے

ہر آن ایک تازہ شکایت ہے آپ سےاللہ مجھ کو کتنی محبت ہے آپ سے کیا آپ جانتے ہیں مجھے تو خبر نہیںکہتے ہیں لوگ مجھ کو محبت ہے آپ سے اس دل کی آرزوئے محبت کو کیا کہوںجس دل کو آرزوئے محبت ہے آپ سے رونا تو ہے یہی کہ نہیں آہ میں اثرشکوہ

ہر آن ایک تازہ شکایت ہے آپ سے Read More »

خاموش ہیں لب اور آنکھوں سے آنسو ہیں کہ پیہم بہتے ہیں

خاموش ہیں لب اور آنکھوں سے آنسو ہیں کہ پیہم بہتے ہیںہم سامنے ان کے بیٹھے ہیں اور قصۂ فرقت کہتے ہیں اب حسن و عشق میں فرق نہیں اب دونوں کی اک حالت ہےمیں ان کو دیکھتا رہتا ہوں وہ مجھ کو دیکھتے رہتے ہیں ان کی وہ حیا وہ خاموشی اپنی وہ محبت

خاموش ہیں لب اور آنکھوں سے آنسو ہیں کہ پیہم بہتے ہیں Read More »

خواب میں کوئی مجھ کو آس دلانے بیٹھا تھا

خواب میں کوئی مجھ کو آس دلانے بیٹھا تھاجاگا تو میں خود اپنے ہی سرہانے بیٹھا تھا یونہی رکا تھا دم لینے کو، تم نے کیا سمجھا؟ہار نہیں مانی تھی بس سستانے بیٹھا تھا خود بھی لہولہان ہوا دل، مجھے بھی زخم دیےمیں بھی کیسے وحشی کو سمجھانے بیٹھا تھا لاکھ جتن کرنے پر بھی

خواب میں کوئی مجھ کو آس دلانے بیٹھا تھا Read More »

نظر کو پھر کوئی چہرہ دکھایا جا رہا ہے

نظر کو پھر کوئی چہرہ دکھایا جا رہا ہےیہ تم خود ہو کہ مجھ کو آزمایا جا رہا ہے بہت آسودگی سے روز و شب کٹنے لگے ہیںمجھے معلوم ہے مجھ کو گنوایا جا رہا ہے سر مژگاں بگولے آ کے واپس جا رہے ہیںعجب طوفان سینے سے اٹھایا جا رہا ہے مرا غم ہے

نظر کو پھر کوئی چہرہ دکھایا جا رہا ہے Read More »