MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دل کو درون خواب کا موسم بوجھل رکھتا ہے

دل کو درون خواب کا موسم بوجھل رکھتا ہےاک ان جانے خوف سے واقف ہر پل رکھتا ہے وہ جو بظاہر ہر ذرہ ہے تیز ہواؤں میںاپنے ہونے کا احساس مکمل رکھتا ہے ترک تعلق نے میری بھی سوچ کو بدلا نہیںوہ بھی شکایت اپنے ساتھ مسلسل رکھتا ہے ریگستان کا پودا ہوں میں اور […]

دل کو درون خواب کا موسم بوجھل رکھتا ہے Read More »

فصیل شہر کی اتنی بلند و سخت ہوئی

فصیل شہر کی اتنی بلند و سخت ہوئیکہ کل سپاہ مضامین تاج و تخت ہوئی بجھا چراغ تھی میں حاسدوں کی آنکھوں میںدعا کے شہر میں آئی تو سبز بخت ہوئی وہ لمحہ جب مرے بچے نے ماں پکارا مجھےمیں ایک شاخ سے کتنا گھنا درخت ہوئی کسی نے سبز جزیرے پہ مجھ کو روک

فصیل شہر کی اتنی بلند و سخت ہوئی Read More »

ہوا کی تیز گامیوں کا انکشاف کیا کریں

ہوا کی تیز گامیوں کا انکشاف کیا کریںجو دوش پر لیے ہو اس کے بر خلاف کیا کریں یقین اور گماں کی جنگ سے گریز تھا نہیںجو فیصلہ کیا ہے اس سے انحراف کیا کریں وہ دوسروں کی آنکھ کا غبار تو لیے رہےتو اپنے گرد گرد آئینے کو صاف کیا کریں جو منزلیں دکھائی

ہوا کی تیز گامیوں کا انکشاف کیا کریں Read More »

ان لفظوں میں خود کو ڈھونڈوں گی میں بھی

ان لفظوں میں خود کو ڈھونڈوں گی میں بھیاپنی انا کا منظر دیکھوں گی میں بھی کوئی مرے بارے میں نہ کچھ بھی جان سکےاب ایسا لہجہ اپناؤں گی میں بھی آنکھوں سے چن کر سب ٹوٹے پھوٹے خوابپتھر کی خواہش بن جاؤں گی میں بھی میں خود اپنی سوچ کی مجرم ٹھہری ہوںاب یہ

ان لفظوں میں خود کو ڈھونڈوں گی میں بھی Read More »

جیسے کوئی ضدی بچہ کب بہلے بہلانے سے

جیسے کوئی ضدی بچہ کب بہلے بہلانے سےایسے ہم دنیا سے چھپ کر دیکھیں خواب سہانے سے سب کچھ سمجھے لیکن اتنی بات نہیں پہچانے لوگمل جاتا ہے چین کسی کو ایک تمہارے آنے سے ہم تو غم کی ایک اک شدت باہر آنے سے روکیںاس کی آنکھیں باز نہ آئیں انگارے برسانے سے لوگو!

جیسے کوئی ضدی بچہ کب بہلے بہلانے سے Read More »

لوگ تو اک منظر ہیں تخت نشینوں کی خاطر

لوگ تو اک منظر ہیں تخت نشینوں کی خاطرفرش بچھایا جاتا ہے قالینوں کی خاطر کتنی بے ترتیبی پھیلی کیا کچھ ٹوٹ گیاسجے سجائے گھر تھے انہی مکینوں کی خاطر ٹھہر گئے ہیں عین سفر میں بن سوچے سمجھےہم سفری کے کچھ بے نام قرینوں کی خاطر جل بجھتے ہیں لوگ کسی کو فیض پہنچنے

لوگ تو اک منظر ہیں تخت نشینوں کی خاطر Read More »

قیامتیں گزر گئیں روایتوں کی سوچ میں

قیامتیں گزر گئیں روایتوں کی سوچ میںخلش جو تھی وہی رہی محبتوں کی سوچ میں یہ اب کھلا کہ اس کی شاعری میں میری بات کاجو رنگ خاص تھا مٹا اضافتوں کی سوچ میں میں اپنے چہرۂ جنوں کو آئنے میں دیکھ لوںتو عکس بجھ نہ جائے گا حقیقتوں کی سوچ میں میں اپنی دھوپ

قیامتیں گزر گئیں روایتوں کی سوچ میں Read More »

طبیعت ان دنوں اوہام کی ان منزلوں پر ہے

طبیعت ان دنوں اوہام کی ان منزلوں پر ہےدل کم حوصلہ کاغذ کی گیلی کشتیوں پر ہے گذشتہ موسموں میں بجھ گئے ہیں رنگ پھولوں کےدریچہ اب بھی میرا روشنی کے زاویوں پر ہے ہزاروں آبنوسی جنگلوں کا حسن کیا معنیہمیں جب سانس لینا کیمیائی تجربوں پر ہے کڑا ہے میری اجرک پر بلوچی کام

طبیعت ان دنوں اوہام کی ان منزلوں پر ہے Read More »

ذرا سی بات پر ناراض ہونا رنجشیں کرنا

ذرا سی بات پر ناراض ہونا رنجشیں کرنامحبت میں اسے آتا نہیں گنجائشیں کرنا مری بیٹی نے مجھ کو دیکھ کر سیکھا ہے برسوں میںپرانا آئینہ رکھ کر نئی آرائشیں کرنا مری المایوں میں قیمتی سامان کافی تھامگر اچھا لگا اس سے کئی فرمائشیں کرنا مجھے بچوں کی آنکھوں میں وہ سارے رنگ ملتے ہیںجنہیں

ذرا سی بات پر ناراض ہونا رنجشیں کرنا Read More »

آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہیے

آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہیےلیکن کبھی کبھار تو گھر جانا چاہیے اس بت سے عشق کیجیے لیکن کچھ اس طرحپوچھے کوئی تو صاف مُکر جانا چاہیے مجھ سے بچھڑ کے ان دنوں کس رنگ میں ہے وہیہ دیکھنے رقیب کے گھر جانا چاہیے جس شام شاہزادی فقیروں کے گھر میں آئےاُس شام وقت

آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہیے Read More »