MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

آنکھوں سے خواب دل سے تمنا تمام شد

آنکھوں سے خواب دل سے تمنا تمام شدتم کیا گئے کہ شوق نظارہ تمام شد کل تیرے تشنگاں سے یہ کیا معجزہ ہوادریا پہ ہونٹ رکھے تو دریا تمام شد دنیا تو ایک برف کی سل سے سوا نہ تھیپہنچی دکھوں کی آنچ تو دنیا تمام شد شہر دل تباہ میں پہنچوں تو کچھ کھلےکیا […]

آنکھوں سے خواب دل سے تمنا تمام شد Read More »

دشمن کو زد پر آ جانے دو دشنہ مل جائے گا

دشمن کو زد پر آ جانے دو دشنہ مل جائے گازندانوں کو توڑ نکلنے کا رستہ مل جائے گا شاہ سوار کے کٹ جانے کا دکھ تو ہمیں بھی ہے لیکنتم پرچم تھامے رکھنا سالار سپہ مل جائے گا ہمیں خبر تھی شہر پنہ پر کھڑی سپاہ منافق ہےہمیں یقیں تھا نقب زنوں سے یہ

دشمن کو زد پر آ جانے دو دشنہ مل جائے گا Read More »

گھر لوٹتے ہیں جب بھی کوئی یار گنوا کر

گھر لوٹتے ہیں جب بھی کوئی یار گنوا کررو لیتے ہیں ہم زاد کو سینے سے لگا کر کس کو تھی خبر اس میں تڑخ جائے گا دل بھیہم خوش تھے بہت صحن میں دیوار اٹھا کر کچھ اور بھی بڑھ جاتی ہیں حیرانیاں دل کیسو بار کہا ہے کہ نہ آئینہ تکا کر ساون

گھر لوٹتے ہیں جب بھی کوئی یار گنوا کر Read More »

ہمیں تو خواہش دنیا نے رسوا کر دیا ہے

ہمیں تو خواہش دنیا نے رسوا کر دیا ہےبہت تنہا تھے اس نے اور تنہا کر دیا ہے اب اکثر آئینے میں اپنا چہرہ ڈھونڈتے ہیںہم ایسے تو نہیں تھے تو نے جیسا کر دیا ہے دھڑکتی قربتوں کے خواب سے جاگے تو جاناذرا سے وصل نے کتنا اکیلا کر دیا ہے اگرچہ دل میں

ہمیں تو خواہش دنیا نے رسوا کر دیا ہے Read More »

ہم پریوں کے چاہنے والے خواب میں دیکھیں پریاں

ہم پریوں کے چاہنے والے خواب میں دیکھیں پریاںدور سے روپ کا صدقہ بانٹیں ہاتھ نہ آئیں پریاں راہ میں حائل قاف پہاڑ اور ہاتھ چراغ سے خالیکیونکر جنوں کے چنگل سے ہم چھڑوائیں پریاں آشاؤں کی سوہنی سحری سیج سجائے رکھوںجانے کون گھڑی میرے گھر میں آن براجیں پریاں سارے شہر کو چاندنی کی

ہم پریوں کے چاہنے والے خواب میں دیکھیں پریاں Read More »

کل شب قسم خدا کی بہت ڈر لگا ہمیں

کل شب قسم خدا کی بہت ڈر لگا ہمیںاک زلزلہ وجود کے اندر لگا ہمیں ایسا نہ ہو کہ ڈھنگ ہی اڑنے کا بھول جائیںصیاد ایک دن کے لیے پر لگا ہمیں آتے دنوں میں تیرا حوالہ تو بن سکیںکتبہ بنا کے قبر کے اوپر لگا ہمیں اس کا فراق اتنا بڑا سانحہ نہ تھالیکن

کل شب قسم خدا کی بہت ڈر لگا ہمیں Read More »

میں تلاش میں کسی اور کی مجھے ڈھونڈھتا کوئی اور ہے

میں تلاش میں کسی اور کی مجھے ڈھونڈھتا کوئی اور ہےمیں سوال ہوں کسی اور کا میرا مسئلہ کوئی اور ہے کبھی چاند چہروں کی بھیڑ سے جو نکل کے آیا تو یہ کھلاوہ جو اصل تھا اسے کھو دیا جسے پا لیا کوئی اور ہے کٹی عمر ایک اسی چاہ میں اسے دیکھتے کسی

میں تلاش میں کسی اور کی مجھے ڈھونڈھتا کوئی اور ہے Read More »

ریا کاریوں سے مسلح یہ لشکر مجھے مار دیں گے

ریا کاریوں سے مسلح یہ لشکر مجھے مار دیں گےمیں بچ بھی گیا تو نئے حملہ آور مجھے مار دیں گے بظاہر یہ اہل محبت ہیں لیکن منافق بہت ہیںیہ اک روز دام محبت میں لا کر مجھے مار دیں گے میں اپنی ہی آواز اپنے ہی سائے سے ڈرنے لگا ہوںاور اب خوف یہ

ریا کاریوں سے مسلح یہ لشکر مجھے مار دیں گے Read More »

زمیں سرکتی ہے پھر سائبان ٹوٹتا ہے

زمیں سرکتی ہے پھر سائبان ٹوٹتا ہےاور اس کے بعد سدا آسمان ٹوٹتا ہے میں اپنے آپ میں تقسیم ہونے لگتا ہوںجو ایک پل کو کبھی تیرا دھیان ٹوٹتا ہے کوئی پرندہ سا پر کھولتا ہے اڑنے کوپھر اک چھناکے سے یہ خاکدان ٹوٹتا ہے جسے بھی اپنی صفائی میں پیش کرتا ہوںوہی گواہ وہی

زمیں سرکتی ہے پھر سائبان ٹوٹتا ہے Read More »

یم بہ یم پھیلا ہوا ہے پیاس کا صحرا یہاں

یم بہ یم پھیلا ہوا ہے پیاس کا صحرا یہاںاک سراب تشنگی ہے موجۂ صہبا یہاں روشنی کے زاویوں پر منحصر ہے زندگیآپ کے بس میں نہیں ہے آپ کا سایہ یہاں آتے آتے آنکھ تک دل کا لہو پانی ہواکس قدر ارزاں ہے اپنے خون کا سودا یہاں تیرے میرے درمیاں حائل رہی دیوار

یم بہ یم پھیلا ہوا ہے پیاس کا صحرا یہاں Read More »