MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایاکیسی زمیں بنائی کیا آسماں بنایا پاؤں تلے بچھایا کیا خوب فرش خاکیاور سر پہ لاجوردی اک سائباں بنایا مٹی سے بیل بوٹے کیا خوش نما اگائےپہنا کے سبز خلعت ان کو جواں بنایا خوش رنگ اور خوشبو گل پھول ہیں کھلائےاس خاک کے کھنڈر کو کیا گلستاں […]

تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا Read More »

الٹی ہر ایک رسم جہان شعور ہے

الٹی ہر ایک رسم جہان شعور ہےسیدھی سی اک غزل مجھے لکھنی ضرور ہے وحدت میں اعتبار حدوث و قدم نہیںتھا جو بطون میں یہ وہی تو ظہور ہے تارک وہی ہے جس نے کیا کل کو اختیاریعنی حریص تر ہے وہی جو صبور ہے مطلق یگانگی ہے تو نزدیک و دور کیاپہنچا ہے جو

الٹی ہر ایک رسم جہان شعور ہے Read More »

وہی کارواں وہی قافلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہی کارواں وہی قافلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہی منزل اور وہی مرحلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو متفاعلن متفاعلن متفاعلن متفاعلناسے وزن کہتے ہیں شعر کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہی شکر ہے جو سپاس ہے وہ ملول ہے جو اداس ہےجسے شکوہ کہتے ہو ہے گلہ

وہی کارواں وہی قافلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو Read More »

وہیں سے جب کہ اشارہ ہو خود نمائی کا

وہیں سے جب کہ اشارہ ہو خود نمائی کاعجب کہ بندہ نہ دعویٰ کرے خدائی کا ملے جو رتبہ ترے در کی جبہہ‌ سائی کاتو ایک سلسلہ ہو شاہی‌ و گدائی کا نہیں ہے فیض میں خست ولیک پیدا ہےتفاوت آئنہ و‌‌ سنگ میں صفائی کا یہاں جو عشق ہے بیتاب جلوۂ دیداروہاں بھی حسن

وہیں سے جب کہ اشارہ ہو خود نمائی کا Read More »

وہ پیرہن جان میں جاں حجلۂ تن میں

وہ پیرہن جان میں جاں حجلۂ تن میںہوں وہم جدائی سے عجب رنج و محن میں مقصود زیارت ہے اگر کعبۂ دل کیہو گرم سفر ناحیۂ ملک وطن میں وہ قامت دل کش ہے عجب فتنۂ عالمچھپتا ہی نہیں پیرہن نود کہن میں اے شمع بہا اشک چھپا راز محبتخاکستر پروانہ ہے بیتاب لگن میں

وہ پیرہن جان میں جاں حجلۂ تن میں Read More »

ذرا غم زدوں کے بھی غم خوار رہنا

ذرا غم زدوں کے بھی غم خوار رہناکریں ناز تو ناز بردار رہنا فراخی و عسرت میں شادی و غم میںبہرحال یاروں کے تم یار رہنا سمجھ نردباں اپنی ناکامیوں کوکہ ہے شرط ہمت طلب گار رہنا کرو شکر ہے یہ عنایت خدا کیبلاؤں میں اکثر گرفتار رہنا اگر آدمی کو نہ ہو مشغلہ کچھبہشت

ذرا غم زدوں کے بھی غم خوار رہنا Read More »

چھت کی کڑیاں جانچ لے دیوار و در کو دیکھ لے

چھت کی کڑیاں جانچ لے دیوار و در کو دیکھ لےمجھ کو اپنانے سے پہلے میرے گھر کو دیکھ لے چند لمحوں کا نہیں‌ یہ عمر بھر کا ہے سفرراہ کی پڑتال کر لے راہبر کو دیکھ لے اپنی چادر کی طوالت دیکھ کر پاؤں پساربوجھ سر پر لادنے سے قبل سر کو دیکھ لے

چھت کی کڑیاں جانچ لے دیوار و در کو دیکھ لے Read More »

منصورؔ کے مرید ہیں سرمدؔ کے یار ہیں

منصورؔ کے مرید ہیں سرمدؔ کے یار ہیںہم حسنِ قتل گاہ ہیں تزئینِ دار ہیں ہم سے رقم نہ ہوں گے قصیدے یزید کےہم لوگ تو حُسین کے سیرت نگار ہیں مرنا قبول ، جھوٹ کی اطاعت نہیں قبولہم صرف اور صرف صداقت شِعار ہیں فتویٰ گروں نے جن کو چڑھایا صلیب پرمسجودِ اہلِ درد

منصورؔ کے مرید ہیں سرمدؔ کے یار ہیں Read More »

اُس نگر کا نام بھی سپراؔ شرافت پُور تھا

اُس نگر کا نام بھی سپراؔ شرافت پُور تھاجس کے ہر انسان میں اک بھیڑیا مُستور تھا فاتحوں سے قبل وہ مالِ غنیمت پر گراجنگ کے میدان سے جو شخص کوسوں دور تھا وقت سے پہلے ہوس کی آریاں اس پر چلیںایک پودا جو ابھی نوخیز تھا ، بِن بُور تھا اپنی تاریخِ نسب پر

اُس نگر کا نام بھی سپراؔ شرافت پُور تھا Read More »

دن بھر تو بچوں کی خاطر میں مزدوری کرتا ہوں

دن بھر تو بچوں کی خاطر میں مزدوری کرتا ہوںشَب کو اپنی غیر مکمل غزلیں پوری کرتا ہوں میری گُمنامی کا مُوجِب اُن لوگوں کی شہرت ہےاپنے تَن، مَن، دَھن سے جن کی میں مشہوری کرتا ہوں تم اپنے اِن زہر بَھرے پیالوں پر جتنے نازاں ہومیں رَسمِ سُقراط پہ اِتنی ہی مغروری کرتا ہوں

دن بھر تو بچوں کی خاطر میں مزدوری کرتا ہوں Read More »