MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سب کو گمان بھی کہ میں آگاہ راز تھا

سب کو گمان بھی کہ میں آگاہ راز تھاکس درجہ کامیاب فریب مجاز تھا مثل مہہ دو ہفتہ وہی سرفراز تھاجس کی جبین شوق پہ داغ نیاز تھا پوچھو نہ حال کشمکش یاس و آرزووہ بھی عجیب مرحلۂ جانگداز تھا جب تک حقیقتوں سے مرا دل تھا بے خبربیچارہ مبتلائے غم امتیاز تھا جھونکا ہوائے […]

سب کو گمان بھی کہ میں آگاہ راز تھا Read More »

تقدیر جب معاون تدبیر ہو گئی

تقدیر جب معاون تدبیر ہو گئیمٹی پہ کی نگاہ تو اکسیر ہو گئی دل جاں نثار مے ہے زباں تائب شراباس کشمکش میں روح کی تعزیر ہو گئی چھینٹیں جو خوں کی دامن قاتل میں رہ گئیںمحشر میں میرے قلب کی تفسیر ہو گئی یا قتل کیجئے مجھے یا بخش دیجیےاب ہو گئی حضور جو

تقدیر جب معاون تدبیر ہو گئی Read More »

تقدیر جب معاون تدبیر ہو گئی

تقدیر جب معاون تدبیر ہو گئیمٹی پہ کی نگاہ تو اکسیر ہو گئی دل جاں نثار مے ہے زباں تائب شراباس کشمکش میں روح کی تعزیر ہو گئی چھینٹیں جو خوں کی دامن قاتل میں رہ گئیںمحشر میں میرے قلب کی تفسیر ہو گئی یا قتل کیجئے مجھے یا بخش دیجیےاب ہو گئی حضور جو

تقدیر جب معاون تدبیر ہو گئی Read More »

وہ خوش ہو کے مجھ سے خفا ہو گیا

وہ خوش ہو کے مجھ سے خفا ہو گیامجھے کیا امیدیں تھیں کیا ہو گیا نوید شفا چارہ سازوں کو دومرض اب مرا لا دوا ہو گیا کسی غیر سے کیا توقع کہ جبمرا دل ہی دشمن مرا ہو گیا کہاں سے کہاں لائی قسمت مریکس آفت میں میں مبتلا ہو گیا میں یکجا ہی

وہ خوش ہو کے مجھ سے خفا ہو گیا Read More »

یوں ہی گر ہر سانس میں تھوڑی کمی ہو جائے گی

یوں ہی گر ہر سانس میں تھوڑی کمی ہو جائے گیختم رفتہ رفتہ اک دن زندگی ہو جائے گی دیکھنے والے فقط تصویر ظاہر پر نہ جاہر نفس کے ساتھ دنیا دوسری ہو جائے گی گر یہی فصل جنوں زا ہے یہی ابر بہارعظمت توبہ نثار میکشی ہو جائے گی مرگ بے ہنگام کہتے ہیں

یوں ہی گر ہر سانس میں تھوڑی کمی ہو جائے گی Read More »

جو بھلے برے کی اٹکل نہ مرا شعار ہوتا

جو بھلے برے کی اٹکل نہ مرا شعار ہوتانہ جزائے خیر پاتا نہ گناہ گار ہوتا مے بے خودی کا ساقی مجھے ایک جرعہ بس تھانہ کبھی نشہ اترتا نہ کبھی خمار ہوتا میں کبھی کا مر بھی رہتا نہ غم فراق سہتااگر اپنی زندگی پر مجھے اختیار ہوتا یہ جو عشق جانستاں ہے یہ

جو بھلے برے کی اٹکل نہ مرا شعار ہوتا Read More »

میں اگر وہ ہوں جو ہونا چاہئے

میں اگر وہ ہوں جو ہونا چاہئےمیں ہی میں ہوں پھر مجھے کیا چاہئے غرق خم ہونا میسر ہو تو بسچاہئے ساغر نہ مینا چاہئے منحصر مرنے پہ ہے فتح و شکستکھیل مردانہ ہے کھیلا چاہئے بے تکلف پھر تو کھیوا پار ہےموجزن قطرہ میں دریا چاہئے تیز غیروں پر نہ کر تیغ و تبرآپ

میں اگر وہ ہوں جو ہونا چاہئے Read More »

کیا کیا اجل نے جان چرائی تمام شب

کیا کیا اجل نے جان چرائی تمام شبکوئی بھی آرزو نہ بر آئی تمام شب دل سوز کب ہوئے ہیں کہ جب خاک ہو گیاتربت پہ میری شمع جلائی تمام شب اے وائے تلخ کامیٔ‌ روز بد فراقناصح نے جان غم زدہ کھائی تمام شب از بس یقین وعدۂ دیدار خواب تھاکیا خوش ہوئے کہ

کیا کیا اجل نے جان چرائی تمام شب Read More »

نتیجہ کیوں کر اچھا ہو نہ ہو جب تک عمل اچھا

نتیجہ کیوں کر اچھا ہو نہ ہو جب تک عمل اچھانہیں بویا ہے تخم اچھا تو کب پاؤ گے پھل اچھا کرو مت آج کل حضرت برائی کو ابھی چھوڑونہیں جو کام اچھا وہ نہ آج اچھا نہ کل اچھا برے کو تگ بھی کرنے اور توقع نیک نامی کیدماغ اپنا سنوارو تم نہیں ہے

نتیجہ کیوں کر اچھا ہو نہ ہو جب تک عمل اچھا Read More »

سلامت ہے سر تو سرہانے بہت ہیں

سلامت ہے سر تو سرہانے بہت ہیںمجھے دل لگی کے ٹھکانے بہت ہیں جو تشریف لاؤ تو ہے کون مانعمگر خوئے بد کو بہانے بہت ہیں اثر کر گئی نفس رہزن کی دھمکیکہ یاں مرد کم اور زنانے بہت ہیں معطل نہیں بیٹھتے شغل والےشکار افگنوں کو نشانے بہت ہیں کرو دل کے ویرانے کی

سلامت ہے سر تو سرہانے بہت ہیں Read More »