MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

موجد کا حسن اپنی ہی ایجاد کھا گئی

موجد کا حسن اپنی ہی ایجاد کھا گئیماں کا شباب کثرتِ اولاد کھا گئی دیہات کے وجود کو قصبہ نگل گیاقصبے کا جسم شہر کی بنیاد کھا گئی اک عمر جس کے واسطے دفتر کیے سیاہاس مرکزی خیال کو روداد کھا گئی تیری تو شان بڑھ گئی مجھ کو نواز کرلیکن مرا وقار یہ امداد […]

موجد کا حسن اپنی ہی ایجاد کھا گئی Read More »

بجھتے ہوئے ضمیر کو شعلہ انائیں دے

بجھتے ہوئے ضمیر کو شعلہ انائیں دےاس جاں بلب مریض کو تازہ ہوائیں دے ان وسوسوں کے اندھے کنوئیں کی جگہ مجھےاے ذہنِ شر پسند یقیں کی ضیائیں دے پتھر نہیں تو خود کو گرا سطحِ آب پران گنگ منظروں کو سمندر صدائیں دے جن کی شکم میں صرف اُجالے ہی پل سکیںیا رب نئے

بجھتے ہوئے ضمیر کو شعلہ انائیں دے Read More »

تنویرؔ مفلسی میں بھی کتنا عظیم ہے

تنویرؔ مفلسی میں بھی کتنا عظیم ہےجس کی گرہ میں دولتِ ذوقِ سلیم ہے وہ آپ کا ہے جس کی طبیعت میں ہے تضادمیرا خدا تو صرف غفُور الرّحیم ہے بے جان پتلیوں سے تو خائف نہیں ہوں میںدر اصل ان کی پشت پہ میرا غنیم ہے وہ شخص صرف اس لئے مجھ کو ہے

تنویرؔ مفلسی میں بھی کتنا عظیم ہے Read More »

آج اتنا جلاؤ کہ پگھل جائے مرا جسم

آج اتنا جلاؤ کہ پگھل جائے مرا جسمشاید اسی صورت ہی سکوں پائے مرا جسم آغوش میں لے کر مجھے اس زور سے بھینچو!شیشے کی طرح چھن سے چٹخ جائے مرا جسم یا دعویٔ مہتاب تجلی نہ کرے وہیا نور کی کرنوں سے وہ نہلائے مرا جسم کس شہر طلسمات میں لے آیا تخیلجس سمت

آج اتنا جلاؤ کہ پگھل جائے مرا جسم Read More »

بیٹے کو سزا دے کے عجب حال ہوا ہے

بیٹے کو سزا دے کے عجب حال ہوا ہےدل پہروں مرا کرب کے دوزخ میں جلا ہے عورت کو سمجھتا تھا جو مردوں کا کھلونااس شخص کو داماد بھی ویسا ہی ملا ہے ہر اہل ہوس جیب میں بھر لایا ہے پتھرہمسائے کی بیری پہ ابھی بور پڑا ہے اب تک مرے اعصاب پہ محنت

بیٹے کو سزا دے کے عجب حال ہوا ہے Read More »

چھت کی کڑیاں جانچ لے دیوار و در کو دیکھ لے

چھت کی کڑیاں جانچ لے دیوار و در کو دیکھ لےمجھ کو اپنانے سے پہلے میرے گھر کو دیکھ لے چند لمحوں کا نہیں یہ عمر بھر کا ہے سفرراہ کی پڑتال کر لے راہبر کو دیکھ لے اپنی چادر کی طوالت دیکھ کر پاؤں پساربوجھ سر پر لادنے سے قبل سر کو دیکھ لے

چھت کی کڑیاں جانچ لے دیوار و در کو دیکھ لے Read More »

غموں کی دھوپ میں برگد کی چھاؤں جیسی ہے

غموں کی دھوپ میں برگد کی چھاؤں جیسی ہےمرے لیے مری ہمشیر ماؤں جیسی ہے بھٹکتا ہوں تو مجھے راستہ دکھاتی ہےوہ ہم سفر ہے مگر رہنماؤں جیسی ہے ہو جیسے ایک ہی کنبے کی ساری آبادیفضا ہمارے محلے کی گاؤں جیسی ہے نئے بشر نے مسخر کئے مہ و انجمنئے دماغ میں وسعت خلاؤں

غموں کی دھوپ میں برگد کی چھاؤں جیسی ہے Read More »

اٹھا لیتا ہے اپنی ایڑیاں جب ساتھ چلتا ہے

اٹھا لیتا ہے اپنی ایڑیاں جب ساتھ چلتا ہےوہ بونا کس قدر میرے قد و قامت سے جلتا ہے کبھی اپنے وسائل سے نہ بڑھ کر خواہشیں پا لوںوہ پودا ٹوٹ جاتا ہے جو لا محدود پھلتا ہے مسافت میں نہیں حاجت اسے چھتنار پیڑوں کیبیاباں کی دہکتی گود میں جو شخص پلتا ہے میں

اٹھا لیتا ہے اپنی ایڑیاں جب ساتھ چلتا ہے Read More »

پیدا شعاع مہر کی مقراض جب ہوئی مرثیہ مرزا دبیر

Paida shuaee mehr ki miqraz jab hoi مرثیہ پیدا شعاع مہر کی مقراض جب ہوئیپنہاں درازیٔ پر طاؤس شب ہوئیاور قطع زلف لیلی زہرہ لقب ہوئیمجنوں صفت قبائے سحر چاک سب ہوئیفکر رفو تھی چرخ ہنر مند کے لیےدن چار ٹکڑے ہوگیا پیوند کے لیے فرہاد مہر نے یہ کیا طور اختیاراس کوہ بے ستوں

پیدا شعاع مہر کی مقراض جب ہوئی مرثیہ مرزا دبیر Read More »

بحث کیوں ہے کافر و دیں دار کی

بحث کیوں ہے کافر و دیں دار کیسب ہے قدرت داور دوار کی ہم صف ”قالوا بلیٰ” میں کیا نہ تھےکچھ نئی خواہش نہیں دیدار کی ڈھونڈھ کر دل میں نکالا تجھ کو یارتو نے اب محنت مری بیکار کی شکل گل میں جلوہ کرتے ہو کبھیگاہ صورت بلبل گل زار کی آپ آتے ہو

بحث کیوں ہے کافر و دیں دار کی Read More »