موجد کا حسن اپنی ہی ایجاد کھا گئی
موجد کا حسن اپنی ہی ایجاد کھا گئیماں کا شباب کثرتِ اولاد کھا گئی دیہات کے وجود کو قصبہ نگل گیاقصبے کا جسم شہر کی بنیاد کھا گئی اک عمر جس کے واسطے دفتر کیے سیاہاس مرکزی خیال کو روداد کھا گئی تیری تو شان بڑھ گئی مجھ کو نواز کرلیکن مرا وقار یہ امداد […]
موجد کا حسن اپنی ہی ایجاد کھا گئی Read More »