MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

قیامت سے قیامت سے گزارے جا رہے تھے – Qayamat se qayamat se guzaray ja rahe thy

قیامت سے قیامت سے گزارے جا رہے تھےیہ کن ہاتھوں ہزاروں لوگ مارے جا رہے تھے سنہری جل پری دیکھی تو پھر پانی میں کودےوگرنہ ہم تو دریا کے کنارے جا رہے تھے سمندر ایک قطرے میں سمیٹا جا رہا تھاشتر سوئی کے ناکے سے گزارے جا رہے تھے چمن زاروں میں خیمہ زن تھے […]

قیامت سے قیامت سے گزارے جا رہے تھے – Qayamat se qayamat se guzaray ja rahe thy Read More »

شہر صدمات سے آگے نہیں جانے والا – Sheher e sadmat se agay nahi jane wala

شہر صدمات سے آگے نہیں جانے والامیں تری ذات سے آگے نہیں جانے والا تو بھی اوقات میں رہ مجھ سے جھگڑنے والےمیں بھی اوقات سے آگے نہیں جانے والا ایسے لگتا ہے مری جان تعلق اپنااس ملاقات سے آگے نہیں جانے والا آج کی رات ہے بس نور کی کرنوں کا جلالدیپ اس رات

شہر صدمات سے آگے نہیں جانے والا – Sheher e sadmat se agay nahi jane wala Read More »

زندگی خوف سے تشکیل نہیں کرنی مجھے – Zindagi khof se tashkeel nahi karni mujhe

زندگی خوف سے تشکیل نہیں کرنی مجھےرات سے ذات کی تکمیل نہیں کرنی مجھے کسی درویش کے حجرے سے ابھی آیا ہوںسو ترے حکم کی تعمیل نہیں کرنی مجھے چھوڑ دی دشت نوردی بھی زیاں کاری بھیزندگی اب تری تذلیل نہیں کرنی مجھے دل کے بازار میں زنجیر زنی ہونی نہیںآنکھ بھی آنکھ رہے جھیل

زندگی خوف سے تشکیل نہیں کرنی مجھے – Zindagi khof se tashkeel nahi karni mujhe Read More »

دانش و فہم کا جو بوجھ سنبھالے نکلے

دانش و فہم کا جو بوجھ سنبھالے نکلےان کے اذہان پہ افکار پہ جالے نکلے میں یہ سمجھا کہ کوئی نرم زمیں آ پہونچیغور سے دیکھا تو وہ پاؤں کے چھالے نکلے زخم کھا کر یہ تھی خوش فہمی کہ مر جائیں گےدوستو ہم تو بڑے حوصلے والے نکلے دل ٹٹولا شب تنہائی تو محسوس

دانش و فہم کا جو بوجھ سنبھالے نکلے Read More »

فلک کو فکر کوئی مہر و ماہ تک پہنچے

فلک کو فکر کوئی مہر و ماہ تک پہنچےہمیں یہ زعم کہ ہم واہ واہ تک پہنچے انہیں نہ رکھ تو کرم کی نگاہ سے محرومجو لٹ لٹا کے تری بارگاہ تک پہنچے ہوا نہ ہم سے مداوائے درد نوع بشربہت چلے تو ثواب و گناہ تک پہنچے نہ جانے کب سے ہوں سرگرم جستجو

فلک کو فکر کوئی مہر و ماہ تک پہنچے Read More »

فرزانہ ہوں اور نبض شناس دو جہاں ہوں

فرزانہ ہوں اور نبض شناس دو جہاں ہوںدیوانہ ہوں اور بے خبر سود و زیاں ہوں حالانکہ میں ہر وقت وہیں ہوں وہ جہاں ہیںوہ سوچتے رہتے ہیں میں کیا جانے کہاں ہوں میری ہی طرف ہے نگراں وقت کی دیویہر عہد میں ہر دور میں تقدیر جہاں ہوں محتاج توجہ مری ہر نرگس مخموراے

فرزانہ ہوں اور نبض شناس دو جہاں ہوں Read More »

جتنی بھی تیز ہو سکے رفتار کر کے دیکھ

جتنی بھی تیز ہو سکے رفتار کر کے دیکھپھر اپنی خواہشوں کو گرفتار کر کے دیکھ دیوانہ ہے جنوں میں گزرتا ہی جائے گاتو راستوں کو چاہے تو دیوار کر کے دیکھ یوسف بھی ہے یہاں پہ زلیخائے وقت بھیبس مصر کی سی گرمئ بازار کر کے دیکھ اے محتسب روایت کہنہ کے نقش میںتعمیر

جتنی بھی تیز ہو سکے رفتار کر کے دیکھ Read More »

کام ہیں اور ضروری کئی کرنے کے لئے

کام ہیں اور ضروری کئی کرنے کے لئےکون بیٹھا ہے ترے عشق میں مرنے کے لئے رات گزرے ہوئے خوابوں کی ردا اوڑھے تھیصبح تعبیر کے چلمن پہ بکھرنے کے لئے ایستادہ تھے ستارے تری دہلیز کے ساتھچاند بے چپن تھا آنگن میں اترنے کے لئے دست فن کار کی فن کاری کا عالم یہ

کام ہیں اور ضروری کئی کرنے کے لئے Read More »

کبھی جبر و ستم کے روبرو سر خم نہیں ہوتا

کبھی جبر و ستم کے روبرو سر خم نہیں ہوتامرا جذب صداقت غیر مستحکم نہیں ہوتا سروں کی فصل کٹنے کا یہ موسم تو نہیں لیکنسروں کی فصل کٹنے کا کوئی موسم نہیں ہوتا جنہیں آتا ہو فن اوروں کے غم اپنائے جانے کاانہیں تا زندگی دنیا میں کوئی غم نہیں ہوتا ہمارے دور میں

کبھی جبر و ستم کے روبرو سر خم نہیں ہوتا Read More »

ناکامئ صد حسرت پارینہ کے ڈر جائیں

ناکامئ صد حسرت پارینہ کے ڈر جائیںکچھ روز تو آرام سے اپنے بھی گزر جائیں اے دل زدگاں اب کے بھی اس فصل جنوں میںپھر بہر خرد نوک سناں کتنے ہی سر جائیں یہ رشتۂ جاں تار رگ جان کی مانندٹوٹے جو کبھی خاک میں ہم خاک بسر جائیں ہے حرف شناسی کسی آئینے کی

ناکامئ صد حسرت پارینہ کے ڈر جائیں Read More »