MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

پھر سر دار وفا رسم یہ ڈالی جائے

پھر سر دار وفا رسم یہ ڈالی جائےگل ہو اک شمع تو اک اور جلا لی جائے دور کرنی ہو جو تاریکیٔ راہ اخلاصمشعل اشک ندامت ہی جلا لی جائے آئنہ میں نے سر راہ گزر رکھا ہےتاکہ احباب کی کچھ خام خیالی جائے حال یہ ترک تعلق پہ ہوا کرتا ہےجیسے مچھلی کوئی پانی […]

پھر سر دار وفا رسم یہ ڈالی جائے Read More »

تیرا انداز سخن سب سے جدا لگتا ہے

تیرا انداز سخن سب سے جدا لگتا ہےبربط دل پہ کوئی نغمہ سرا لگتا ہے وہ دیا جس سے کہ روشن ہو چراغ ہستیغور سے دیکھیں ہواؤں میں گھرا لگتا ہے ہم ہیں آغوش جنوں میں تو تعجب کیساوہ بھی تو دشمن ارباب وفا لگتا ہے گر نہیں جلوہ گری بزم طرب میں پھر بھیتیری

تیرا انداز سخن سب سے جدا لگتا ہے Read More »

تیور بھی دیکھ لیجئے پہلے گھٹاؤں کے

تیور بھی دیکھ لیجئے پہلے گھٹاؤں کےپھر بادبان کھولیے رخ پر ہواؤں کے تم ساتھ ہو تو دھوپ بھی مجھ کو قبول ہےتم دور ہو تو پاس بھی جاؤں نہ چھاؤں کے خود ہی چراغ وعدہ بجھا دے جو ہو سکےیہ حوصلے بھی دیکھ لے میری وفاؤں کے لوگ اپنا مدعائے دلی کہہ کے جا

تیور بھی دیکھ لیجئے پہلے گھٹاؤں کے Read More »

کس کا عَلَم حسین کے منبر کی زیب ہے​ 

کس کا عَلَم حسین کے منبر کی زیب ہے​کسی جنتی کی مشک سے کوثر کی زیب ہے​لشکر ہے اُس کی زیب وہ لشکر کی زیب ہے​چہرے کی فرد مالکِ دفتر کی زیب ہے​رفعت علم کی کہتی ہے ہر عقل مند سے​سقے پہ پڑھ درود صدائے بلند سے​ ​کس کے علم کے سائے سے طوبیٰ نہال

کس کا عَلَم حسین کے منبر کی زیب ہے​  Read More »

پھولوں میں اگر ہے بو تمہاری

پھولوں میں اگر ہے بو تمہاریکانٹوں میں بھی ہوگی خو تمہاری اس دل پہ ہزار جان صدقےجس دل میں ہے آرزو تمہاری دو دن میں گلو بہار کیا کیرنگت وہ رہی نہ بو تمہاری چٹکا جو چمن میں غنچۂ گلبو دے گئی گفتگو تمہاری مشتاق سے دور بھاگتی ہےاتنی ہے اجل میں خو تمہاری گردش

پھولوں میں اگر ہے بو تمہاری Read More »

پوچھا نہ جائے گا جو وطن سے نکل گیا

پوچھا نہ جائے گا جو وطن سے نکل گیابیکار ہے جو دانت دہن سے نکل گیا ٹھہریں کبھی کجوں میں نہ دم بھر بھی راست روآیا کماں میں تیر تو سن سے نکل گیا خلعت پہن کے آنے کی تھی گھر میں آرزویہ حوصلہ بھی گور و کفن سے نکل گیا پہلو میں میرے دل

پوچھا نہ جائے گا جو وطن سے نکل گیا Read More »

تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے

تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہےسینہ کس کا ہے مری جان جگر کس کا ہے خوف میزان قیامت نہیں مجھ کو اے دوستتو اگر ہے مرے پلے میں تو ڈر کس کا ہے کوئی آتا ہے عدم سے تو کوئی جاتا ہےسخت دونوں میں خدا جانے سفر کس کا ہے چھپ رہا

تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے Read More »

اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں

اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوںڈھونڈنے اس کو چلا ہوں جسے پا بھی نہ سکوں ڈال کے خاک میرے خون پہ قاتل نے کہاکچھ یہ مہندی نہیں میری کہ چھپا بھی نہ سکوں ضبط کمبخت نے یاں آ کے گلا گھونٹا ہےکہ اسے حال سناؤں تو سنا بھی نہ سکوں

اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں Read More »

بِھیڑ لگی تھی آوازوں کی جب تک ہم خاموش رہے

بِھیڑ لگی تھی آوازوں کی جب تک ہم خاموش رہے دیکھ رہے تھے بیٹھ کے سب کا ناٹک ہم خاموش رہے آج کسی کی یاد میں ہم محروم رہے گویائی سے گھر سے لے کر دفتر تک ,پھر گھر تک ہم خاموش رہے مُدّت بعد پُکارا اُس نے حیرت تو اِس بات کی ہے ایک

بِھیڑ لگی تھی آوازوں کی جب تک ہم خاموش رہے Read More »

بیچ سڑک پر الجھن میں ہیں جیسے بھٹکے ہوتے ہیں

بیچ سڑک پر الجھن میں ہیں جیسے بھٹکے ہوتے ہیں ہم نے ایسا کیوں نہ سوچا ,رستے رستے ہوتے ہیں میں ہُوں ,میری تنہائی ہے ,اور اِک میرا سایہ ہے کوئی اپنا ساتھ نہیں ہے ,جیسے اپنے ہوتے ہیں اک شب میں نے خواب میں دیکھا دشت میں تنہا ہوتا ہُوں رات اندھیری ہوتی ہے

بیچ سڑک پر الجھن میں ہیں جیسے بھٹکے ہوتے ہیں Read More »