MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دائیں بازو میں گڑا تیر نہیں کھینچ سکا

دائیں بازو میں گڑا تیر نہیں کھینچ سکااس لئے خول سے شمشیر نہیں کھینچ سکا شور اتنا تھا کہ آواز بھی ڈبے میں رہیبھیڑ اتنی تھی کہ زنجیر نہیں کھینچ سکا ہر نظر سے نظر انداز شدہ منظر ہوںوہ مداری ہوں جو رہ گیر نہیں کھینچ سکا میں نے محنت سے ہتھیلی پہ لکیریں کھینچیںوہ […]

دائیں بازو میں گڑا تیر نہیں کھینچ سکا Read More »

ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے

ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملےجیسے دفتر میں کسی شخص کو تنخواہ ملے رنگ اکھڑ جائے تو ظاہر ہو پلستر کی نمیقہقہہ کھود کے دیکھو تو تمہیں آہ ملے جمع تھے رات مرے گھر ترے ٹھکرائے ہوئےایک درگاہ پہ سب راندۂ درگاہ ملے میں تو اک عام سپاہی تھا حفاظت کے لئےشاہ زادی

ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے Read More »

کھیل دونوں کا چلے تین کا دانہ نہ پڑے

کھیل دونوں کا چلے تین کا دانہ نہ پڑےسیڑھیاں آتی رہیں سانپ کا خانہ نہ پڑے دیکھ معمار پرندے بھی رہیں گھر بھی بنےنقشہ ایسا ہو کوئی پیڑ گرانا نہ پڑے میرے ہونٹوں پہ کسی لمس کی خواہش ہے شدیدایسا کچھ کر مجھے سگریٹ کو جلانا نہ پڑے اس تعلق سے نکلنے کا کوئی راستہ

کھیل دونوں کا چلے تین کا دانہ نہ پڑے Read More »

مری بھنووں کے عین درمیان بن گیا

مری بھنووں کے عین درمیان بن گیاجبیں پہ انتظار کا نشان بن گیا سنا ہوا تھا ہجر مستقل تناؤ ہےوہی ہوا مرا بدن کمان بن گیا مہیب چپ میں آہٹوں کا واہمہ ہوامیں سر سے پاؤں تک تمام کان بن گیا ہوا سے روشنی سے رابطہ نہیں رہاجدھر تھیں کھڑکیاں ادھر مکان بن گیا شروع

مری بھنووں کے عین درمیان بن گیا Read More »

دل کو مرے بڑھا گٸے میرے نکاح میں

دل کو مرے بڑھا گٸے میرے نکاح میںرنج و الم بھی آ گٸے میرے نکاح میں سہرا تو کیا وہ لکھتے مرے واسطے اے دوستمیری غزل سنا گٸے میرے نکاح میں وہ دلکُشا سے خواب جو دیکھے تھے جانِ مندیوار و در سجا گٸے میرے نکاح میں دل سے نکال پھینکے تھے جو حسرتوں کے

دل کو مرے بڑھا گٸے میرے نکاح میں Read More »

کیسا عجب ہے خوشبوئے دلگیر کا نشہ

کیسا عجب ہے خوشبوئے دلگیر کا نشہجیسے کسی پرانی ہو تصویرکا نشہ اک خوب تر سوال لکھا تھا کتاب میںکس نے چکھا ہے مستی و توقیر کا نشہ اک تو ترے وجود نے آتش بنا دیاپھر یوں تمہارے قُرب کی تنویر کا نشہ امرا ہیں آپ سے مری بس اتنی التجاتھوڑا سا کم تو کیجیے

کیسا عجب ہے خوشبوئے دلگیر کا نشہ Read More »

متاع حیات

متاع حیات اے متاع حیاتیہ جو شیرازہ بکھرا ہے بیچ سینے کےچلو اسے سمیٹ لویوں نہ ہوکہیں بہت دیر ہوجاٸےیہ جو ہمارا پھولجنت کا پھول ہےاسے بکھرنے سے بچالےاے میری متاعِ حیاتاے خالق ِدوجہاںتو کن فیکون کہہ دےمیری فریاد سن لےتیری خلق کو یقین نہیں رہاتو میرا قرب جانتا ہےتو میری آرزو جانتا ہےمیری آزمائش

متاع حیات Read More »

ترا ہی جلوہ ہے اب میرے روبرو مولا

ترا ہی جلوہ ہے اب میرے روبرو مولامرے چہار طرف ایک تو ہی تو مولا ہر ایک ذرے میں موجود تیری قدرت ہےہر ایک ذرے میں پاٸی ہے تیری بو مولا یہ تیری بزم بھی ہے اور ایک معبد بھیتر ا ہی ذکر ہے محفل میں چارسو مولا وہ شے جو دنیا میں موجود ہے

ترا ہی جلوہ ہے اب میرے روبرو مولا Read More »

اس طرح دادِ شجاعت نہیں ملنے کی تجھے

اس طرح دادِ شجاعت نہیں ملنے کی تجھےبول کر جھوٹ , فضیلت نہیں ملنے کی تجھے پہلے تو دل کی صفاٸی تو ذرا کر کے آدل میں ہے بغض , تو چاہت نہیں ملنے کی تجھے وہ , جسے کہتے ہیں اس دل کی خلش اے صاحبوہ بھی اب حسبِ ضرورت نہیں ملنے کی تجھے

اس طرح دادِ شجاعت نہیں ملنے کی تجھے Read More »

مجھے علم تھا

مجھے علم تھامجھے علم تھاکہ تو چاہتوں کے غرور میںسرِ راہ آٸے گا ایک دنمجھے یوں ستاٸے گا ایک دنمجھے بھول جاٸے گا ایک دنمجھے علم تھامجھے علم تھاکہ تری انا میں فتور ہےکہ تو پاس ہوتے ہوٸے بھیکوسوں دور ہےکہ بہار ، گل تو کھلاٸے گیمجھے زہر غم کا پلاٸے گیمجھے مار ڈالے گی

مجھے علم تھا Read More »