اک کھلا میداں تماشا گاہ کے اس پار ہے
اک کھلا میداں تماشا گاہ کے اس پار ہےجس میں ہر رقاص کا اک آئنہ تیار ہے ریت کے ذریعے ہماری منزلیں اور ان کی ہمپس یہاں سمت سفر کا جاننا بے کار ہے رات اور طوفان ابر و باد میرے ہر طرفدور لو دیتی ہوئی اک مشعل رخسار ہے پھر کبھی اٹھے تو مل […]
اک کھلا میداں تماشا گاہ کے اس پار ہے Read More »