MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اک کھلا میداں تماشا گاہ کے اس پار ہے

اک کھلا میداں تماشا گاہ کے اس پار ہےجس میں ہر رقاص کا اک آئنہ تیار ہے ریت کے ذریعے ہماری منزلیں اور ان کی ہمپس یہاں سمت سفر کا جاننا بے کار ہے رات اور طوفان ابر و باد میرے ہر طرفدور لو دیتی ہوئی اک مشعل رخسار ہے پھر کبھی اٹھے تو مل […]

اک کھلا میداں تماشا گاہ کے اس پار ہے Read More »

خزاں تجھ پر یہ کیسا برگ و بار آنے لگا ہے

خزاں تجھ پر یہ کیسا برگ و بار آنے لگا ہےمجھے اب موسموں پر اعتبار آنے لگا ہے کہاں دوپہر کی حدت کہاں ٹھنڈک شفق کیسیہ ریشم میں چاندی کا غبار آنے لگا ہے کھلیں گے وصل کے در دوسری دنیاؤں میں بھیبالآخر ہجر کے رخ پر نکھار آنے لگا ہے مرے اسباب میں مشکیزہ

خزاں تجھ پر یہ کیسا برگ و بار آنے لگا ہے Read More »

کسی تاریک گوشے میں بسر ہوگی ہماری

کسی تاریک گوشے میں بسر ہوگی ہماریمحل میں تجھ کو پل پل کی خبر ہوگی ہماری عجب اک سحر ہوگا جان دینی بے بسی میںفرشتوں کی تسلی چارہ گر ہوگی ہماری شعاعوں کی سواری نور کی رفتار ہوگیمگر اک خاک زادی ہم سفر ہوگی ہماری جہانوں کے سفر ہیں اور ستاروں سے سند ہےغزل میں

کسی تاریک گوشے میں بسر ہوگی ہماری Read More »

متاع بے بہا آنسو زمیں میں بو دیا تھا

متاع بے بہا آنسو زمیں میں بو دیا تھاپلٹ کر جب ترا گھر میں نے دیکھا رو دیا تھا عصا در دست ہوں اس دن سے بینائی نہیں ہےستارہ آنکھ میں آیا تھا میں نے کھو دیا تھا زمانے حسن ثروت ہیچ سب اس کے مقابلتہی کیسہ کو اس پہلی نظر نے جو دیا تھا

متاع بے بہا آنسو زمیں میں بو دیا تھا Read More »

نمک ان آنسوؤں میں کم نہ تھا پر نم بہت اچھا

نمک ان آنسوؤں میں کم نہ تھا پر نم بہت اچھاگھروں میں دانۂ گندم نہ تھا ماتم بہت تھا مری آنکھوں پہ بھی زرتار پردے جھولتے تھےترے بالوں میں بھی کچھ ان دنوں ریشم بہت تھا مزے سارے تماشا گاہ دنیا میں اٹھائےمگر اک بات جو دل میں تھی جس کا غم بہت تھا سیاہی

نمک ان آنسوؤں میں کم نہ تھا پر نم بہت اچھا Read More »

پڑے ہوئے ہیں مرے جسم و جاں مرے پیچھے

پڑے ہوئے ہیں مرے جسم و جاں مرے پیچھےہے ایک لشکر غارت گراں مرے پیچھے پس وفات یہ بے دستخط مری تحریرنہیں ہے اور کوئی بھی نشاں مرے پیچھے مرے ملازم و خرگاہ اسپ اور شطرنجسب آئیں نظم سے ماتم کناں مرے پیچھے گزر رہی ہے اندھیرے میں اس بدن پر کیانہ کھل سکے گی

پڑے ہوئے ہیں مرے جسم و جاں مرے پیچھے Read More »

سنہری نیند سے کس نے مجھے بیدار کر ڈالا

سنہری نیند سے کس نے مجھے بیدار کر ڈالادریچہ کھل رہا تھا خواب میں دیوار کر ڈالا نشاں ہونٹوں کا لو دینے لگا ہے ذہن میں اب توبالآخر میں نے اس کو مشعل رخسار کر ڈالا نقاہت اور بلا کا حسن اور آنکھوں کی دل گیریعجب بیمار تھا جس نے مجھے بیمار کر ڈالا مرے

سنہری نیند سے کس نے مجھے بیدار کر ڈالا Read More »

وجود پر انحصار میں نے نہیں کیا تھا

وجود پر انحصار میں نے نہیں کیا تھاکہ خاک کا اعتبار میں نے نہیں کیا تھا سفید ریشم کی اوڑھنی میرے ہاتھ میں تھیمگر اسے داغ دار میں نے نہیں کیا تھا یہ بے نیازی کی خو مرے حسن میں بہت تھیمگر اسے بے قرار میں نے نہیں کیا تھا کہیں سے یک لخت زندگی

وجود پر انحصار میں نے نہیں کیا تھا Read More »

جو اشک بچ گئے انہیں لاتا ہوں کام میں

جو اشک بچ گئے انہیں لاتا ہوں کام میںتھوڑی سی دھوپ روز ملاتا ہوں شام میں بستی میں اک چراغ کے جلنے سے رات بھرکیا کیا خلل پڑا ہے ستاروں کے کام میں اک شخص اپنی ذات کی تعمیر چھوڑ کرمصروف آج کل ہے مرے انہدام میں مجھ کو بھی اس گلی میں محبت کسی

جو اشک بچ گئے انہیں لاتا ہوں کام میں Read More »

بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے

بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہےبچا ہے جو تجھ میں میرا حصہ نکالنا ہے یہ روح برسوں سے دفن ہے تم مدد کرو گےبدن کے ملبے سے اس کو زندہ نکالنا ہے نظر میں رکھنا کہیں کوئی غم شناس گاہکمجھے سخن بیچنا ہے خرچہ نکالنا ہے نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہاب

بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے Read More »