MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

شجر امید بھی جل گیا وہ وفا کی شاخ بھی جل گئی

شجر امید بھی جل گیا وہ وفا کی شاخ بھی جل گئیمرے دل کا نقشہ بدل گیا مری صبح رات میں ڈھل گئی وہی زندگی جو بہر نفس جو بہر قدم مرے ساتھ تھیکبھی میرا ساتھ بھی چھوڑ کر مری منزلیں بھی بدل گئی نہ وہ آرزو ہے نہ جستجو نہ کوئی تصور رنگ و […]

شجر امید بھی جل گیا وہ وفا کی شاخ بھی جل گئی Read More »

شاید ابھی کمی سی مسیحائیوں میں ہے

شاید ابھی کمی سی مسیحائیوں میں ہےجو درد ہے وہ روح کی گہرائیوں میں ہے جس کو کبھی خیال کا پیکر نہ مل سکاوہ عکس میرے ذہن کی رعنائیوں میں ہے کل تک تو زندگی تھی تماشا بنی ہوئیاور آج زندگی بھی تماشائیوں میں ہے ہے کس لیے یہ وسعت دامان التفاتدل کا سکون تو

شاید ابھی کمی سی مسیحائیوں میں ہے Read More »

وہ چراغ زیست بن کر راہ میں جلتا رہا

وہ چراغ زیست بن کر راہ میں جلتا رہاہاتھ میں وہ ہاتھ لے کر عمر بھر چلتا رہا ایک آنسو یاد کا ٹپکا تو دریا بن گیازندگی بھر مجھ میں ایک طوفان سا پلتا رہا جانتی ہوں اب اسے میں پا نہیں سکتی مگرہر جگہ سائے کی صورت ساتھ کیوں چلتا رہا جو میری نظروں

وہ چراغ زیست بن کر راہ میں جلتا رہا Read More »

یاد کرنے کا تمہیں کوئی ارادہ بھی نہ تھا

یاد کرنے کا تمہیں کوئی ارادہ بھی نہ تھااور تمہیں دل سے بھلا دیں یہ گوارا بھی نہ تھا ہر طرف تپتی ہوئی دھوپ تھی اے عمر رواںدور تک دشت الم میں کوئی سایا بھی نہ تھا مشعل جاں بھی جلائی نہ گئی تھی ہم سےاور پلکوں پہ شب غم کوئی تارا بھی نہ تھا

یاد کرنے کا تمہیں کوئی ارادہ بھی نہ تھا Read More »

آتے رہتے ہیں فلک سے بھی اشارے کچھ نہ کچھ

آتے رہتے ہیں فلک سے بھی اشارے کچھ نہ کچھبات کر لیتے ہیں ہم سے چاند تارے کچھ نہ کچھ ایک کافر کی مسیحائی کے دست فیض سےمل رہے ہیں زخم کے دونوں کنارے کچھ نہ کچھ رنگ ہر دیمک زدہ تصویر میں بھرتے رہےاک تسلی کے لیے ہجراں کے مارے کچھ نہ کچھ اک

آتے رہتے ہیں فلک سے بھی اشارے کچھ نہ کچھ Read More »

ابھی گزرے دنوں کی کچھ صدائیں شور کرتی ہیں

ابھی گزرے دنوں کی کچھ صدائیں شور کرتی ہیںدریچے بند رہنے دو، ہوائیں شور کرتی ہیں یہی تو فکر کے جلتے پروں پہ تازیانہ ہےکہ ہر تاریک کمرے میں دعائیں شور کرتی ہیں کہا نا تھا حصار اسم اعظم کھینچنے والےیہاں آسیب رہتے ہیں بلائیں شور کرتی ہیں ہمیں بھی تجربہ ہے بے گھری کا

ابھی گزرے دنوں کی کچھ صدائیں شور کرتی ہیں Read More »

اک دل میں تھا اک سامنے دریا اسے کہنا

اک دل میں تھا اک سامنے دریا اسے کہناممکن تھا کہاں پار اترنا اسے کہنا ہجراں کے سمندر میں ہیولیٰ تھا کسی کاامکاں کے بھنور سے کوئی ابھرا اسے کہنا اک حرف کی کرچی مرے سینے میں چھپی تھیپہروں تھا کوئی ٹوٹ کے رویا اسے کہنا مدت ہوئی خورشید گہن سے نہیں نکلاایسا کہیں تارا

اک دل میں تھا اک سامنے دریا اسے کہنا Read More »

جو چلا گیا سو چلا گیا جو ہے پاس اس کا خیال رکھ

جو چلا گیا سو چلا گیا جو ہے پاس اس کا خیال رکھجو لٹا دیا اسے بھول جا جو بچا ہے اس کو سنبھال رکھ کبھی سر میں سودا سما کوئی کبھی ریگزار میں رقص کرکبھی زخم باندھ کے پاؤں میں کہیں سرخ سرخ دھمال رکھ جو چرائی ہے شب تار سے کئی رتجگوں کو

جو چلا گیا سو چلا گیا جو ہے پاس اس کا خیال رکھ Read More »

کسی کشش کے کسی سلسلے کا ہونا تھا

کسی کشش کے کسی سلسلے کا ہونا تھاہمیں بھی آخرش اک دائرے کا ہونا تھا ابھی سے اچھا ہوا رات سو گئی ورنہکبھی تو ختم سفر رت جگے کا ہونا تھا برہنہ تن بڑی گزری تھی زندگی اپنیلباس ہم کو ہی اک دوسرے کا ہونا تھا ہم اپنا دیدۂ بینا پہن کے نکلے تھےسڑک کے

کسی کشش کے کسی سلسلے کا ہونا تھا Read More »

کسی کے ساتھ کیا نسبت ہوئی تھی

کسی کے ساتھ کیا نسبت ہوئی تھیمیں اپنے آپ سے رخصت ہوئی تھی پلٹ کر پیچھے دیکھا تھا ذرا سامجھے خود پر بڑی حیرت ہوئی تھی اچانک آ گئی تھی اپنے آگےاچانک بات کی جرأت ہوئی تھی خود اپنا ساتھ بھی چبھنے لگا تھاعجب تنہائی کی عادت ہوئی تھی مرے اندر بھنور اٹھنے لگے تھےسمندر

کسی کے ساتھ کیا نسبت ہوئی تھی Read More »