MOJ E SUKHAN

آتے رہتے ہیں فلک سے بھی اشارے کچھ نہ کچھ

آتے رہتے ہیں فلک سے بھی اشارے کچھ نہ کچھ
بات کر لیتے ہیں ہم سے چاند تارے کچھ نہ کچھ

ایک کافر کی مسیحائی کے دست فیض سے
مل رہے ہیں زخم کے دونوں کنارے کچھ نہ کچھ

رنگ ہر دیمک زدہ تصویر میں بھرتے رہے
اک تسلی کے لیے ہجراں کے مارے کچھ نہ کچھ

اک پرانا خط کئی پھولوں کی سوکھی پتیاں
اس بیاض زندگی میں ہیں سہارے کچھ نہ کچھ

ہے وہی قامت وہی مانوس سے نقش و نگار
ایسا لگتا ہے کبھی وہ تھے ہمارے کچھ نہ کچھ

وقت کے بے رحم سناٹوں میں بہتی زندگی
ہے صدا کی منتظر کوئی پکارے کچھ نہ کچھ

یاسمین حبیب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم